یہ افسانہ ارشد نامی ایک محنتی اور خواب دیکھنے والے لڑکے کی کہانی بیان کرتا ہے، جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود ڈاکٹر بن کر قوم کی خدمت کا عزم رکھتا ہے، مگر ایک رات اچانک اے ٹی ایس کے اہلکار اسے دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں گرفتار کر لیتے ہیں۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے معاشرہ، میڈیا اور نظام سب اسے مجرم قرار دے دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں اس کی ماں بانو بیگم ذلت اور صدمے سے جان دے دیتی ہیں اور اس کے گھر کا سکون تباہ ہو جاتا ہے۔ تین سال جیل میں گزارنے کے بعد عدالت اسے بے گناہ قرار دے دیتی ہے،