ِبِسْمِ اللّٰہِ الَّرحْمٰنِ الَّرحِیْم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حرفِ آغاززندگی بیس برس کی ہو یا ساٹھ برس کی، کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ بھرتے نہیں، بس اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ میں نے اپنی اس چھوٹی سی عمر میں اپنوں کو بدلتے دیکھا، رشتوں کو ٹوٹتے اور ٹوٹ کر بکھرتے دیکھا۔ ایک ایسا وقت بھی آیا جب لوگوں نے میری اوقات پر انگلیاں اٹھائیں، مجھے محسوس کرایا کہ میں شاید کسی کام کا نہیں۔ تب مجھے سمجھ آئی کہ قصور ان لوگوں کا نہیں، اس 'نفس' کا ہے جس نے ہمیں اندھا کر دیا ہے۔ ہم سب اپنی اپنی انا کے