آج پھر وہ آفس سے لیٹ گھر پہنچا تھا....ایسا نہیں تھا کے وہ آفس میں اؤر ٹائم کرتا تھا...آفس سے نکلنے کے بعد وہ کہا جاتا تھا...کیا کرتا تھا...یے تو بس خدا اور خود سلمان ہی جانتے تھے....!!
آؤ بیٹا آ گئے تم...کہاں اتنا وقت لگا دیتے ہو..؟؟
ہم دونوں کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے..
مجھے تم سے کچھ بات بھی کرنی ہے....
ماں نے تفکّرانہ لہجے میں بیٹے کو مخاطب کیا تھا.
جی میں سُن رہا ہوں....
سلمان نے جوتے سائیڈ میں رکھتے ہوئے بہت ہی بے پروا انداز میں جواب دیا .
یہاں آؤ میرے پاس بیٹھو پہلے.....
ماں نے اُسے خود کے پاس بیٹھنے کا اشارہ دیا.
جی کہہ کیا کہنا چاہتی ہیں آپ...
سلمان نے انجان بنتے ہوئے پوچھا ...جب کے وہ بھی جانتا تھا کے اس کی امّی کا اب ایک ہی مقصد اور ایک ہی موضوع رہ گیا تھا...وہ تھا اس کا دوسرا نکاح کرانا..
بیٹا کب تک یونہی خود کو اور ہم سب کو تکلیف دیتے رہوگے...؟؟ آخر کیا مسئلہ ہو جائے گا اگر تم دوسرا نکاح کر لوگے تو....؟؟
ماں کے لہجے میں پریشانی صاف عیاں ہو رہی تھی.
میں نے پہلے بھی آپ سے کئی بار کہا ہے کے مجھے اس تعلق سے کوئی بات نہی کرنی.
سلمان نے ہمیشہ کی طرح وہی ملے جلے لفظوں کا استعمال کیا تھا جو وہ اکثر نکاح کی بات پر کیا کرتا تھا.
مگر بیٹا ابھی تمہاری عمر ہی کتنی ہے...صرف پچیس سال کے تو ہو تم...تم میں ہر وہ قابلیت موجود ہے جو ایک لڑکی اپنے شوہر میں دیکھنا چاہتی ہے.....بہت سے لوگ ہیں جو ابھی بھی ہم سے خوشی خوشی رشتہ جوڑنے کو تیار ہیں..
تم دوباہ سے اپنی ایک خوشحال زندگی کی طرف گامزن ہو سکتے ہو...زندگی ہر کسی کو تو دوسرا موقعہ نہی دیتی نہ بیٹا..؟؟
اور...تم خود سوچ کر دیکھو...کیا مریم تمہیں اس حال میں دیکھ کر خوش ہو رہی ہو گی..؟؟
کیا وہ نہی چاہے گی کہ تم ایک بہتر زندگی کی شروعات کرو...؟؟ وہ اگر ہوتی تو کیا تمہیں اس حال میں دیکھ سکتی تھی...؟؟
زاہدہ بیگم نے اس بار پوری کوشش کی تھی...انہیں کسی بھی طرح اپنے بیٹے کو دوسرے نکاح کے لیے راضی کرنا تھا.
وہ اگر ہوتی تو میرا یہ حال ہی نہ ہوا ہوتا...
سلمان نے غمگین لہجے میں مریم کو یاد کرتے ہوئے کہا.
بیٹا میں تمہاری دشمن نہی ہوں...ذندگی جب تک ہے بس اپنے بچوں کو بحال دیکھنا چاہتی ہوں...
اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ چند محبت بھرے لمحات جینا چاہتی ہوں...
پر اب تو لگتا ہے میری یہ تمنا قبر تک میرے ساتھ چلی جائے گی...
زاہدہ بیگم اب نا امید ہو چکی تھیں...افسردگی صاف دیکھی جا سکتی تھی انکے چہرے پے...
ٹھیک ہے....اگر آپ چاہتی ہیں کے میں دوسرا نکاح کر لوں تو صرف آپ کے لئے میں یہ بھی کرلوں گا....
مگر......!!
پہلے آپ کو انعم کو وداع کرنا ہوگا...اسکی بھی اب شادی کی عمر ہوچکی ہے...اور میرے لئے میری خوشی سے بڑھ کر میری بہن کی خوشی ہے...
بالآخر وہ نکاح کے لئے مان تو گیا تھا...پر اسنے اپنی ماں کے سامنے ایک شرط رکھ دی تھی.
اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے....بیٹا تم نے مجھے آج میری زندگی کی بہت بڑی خوشی دی ہے...
ہم انعم کے لئے بہت اچھا اور مناسب رشتہ تلاش کر لینگے اور پھر تمہارا نکاح بھی تو کرنا ہے...
زاہدہ بیگم خوشی سے عش عش ہو اٹھی تھیں.
کوئی ہے گھر میں....؟؟؟؟
روز کی طرح آج پھر راشدہ بیگم دنیا جہان کی باتیں لے کر سلمان کے گھر دستک دے چکی تھیں..
آئیں نا بہن....زہدہ بیگم نے مسکراتے چہرے کے ساتھ راشدہ بیگم کا استقبال کیا.
بتائیں کیا حال ہیں...؟؟
اور....اور سلمان کا کیا بنا...؟؟؟
منا پائیں آپ اسے...؟؟
راشدہ بیگم نے سیدھے سوالوں کی بؤچھار کردی.
جی اللہ پاک کا بڑا فضل و کرم ہے.
اور سلمان بھی بلآخر مان ہی گیا ہے..
پر........!!!
زاہدہ بیگم کہتے کہتے رُک سی گئیں.
پر....پر کیا باجی.....راشدہ بیگم نے حیرت زدہ انداز میں پوچھا.
اصل میں وہ نکاح کے لئے مان تو گیا ہے....پر وہ چاہتا ہے کے پہلے انعم کا نکاح ہو. زاہدہ بیگم نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا.
اوہ.....!!!
یہ تو واقعی بہت اچھی بات ہے باجی.....راشدہ بیگم نے خوش ہوتے ہوئے کہا.
ہے تو سہی پر آپ بھی جانتی ہیں آج کل اچھے رشتوں کی کتنی قلت ہے معاشرے میں...زاہدہ بیگم نے فکریہ لہجے میں اپنی بات ظاہر کی.
آپ کی فکر کرتی ہیں....آپ کی یہ بہن ہے نا ایک سے بڑھ کر ایک رشتے لیکر آئے گی اپنی انعم کے لئے. اور اپنی انعم کو تو کوئی لڑکا نا نہی کہے گا....پڑھی لکھی خوبصورت اور خوبصیرت لڑکی ہے ہماری....ماشاء اللہ....راشدہ بیگم نے زاہدہ بیگم کو مطمئن کرتے ہوئے کہا......
اللہ کا ہم پر واقعی خصوصی کرم ہے تب ہی آپ جیسی پڑوسن نصیب ہوئی ہمیں...جو ایک سگی بہن سے بھی بڑھ کر ہے ہمارے لئے....زاہدہ بیگم متشکرانہ لہجے میں کہا.
نہی نہی اب ایسی بھی کوئی بات نہی آپ کی صورت میں اللہ نے مجھے بڑی بہن سے نوازا ہے...راشدہ بیگم نے کہا...
اچھا باجی اب اجازت دیں...
انعم کے لئے رشتے بھی تو تلاشنے ہیں...رشدہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا..
جی جی اللہ آپ کو اپنی امان میں رکھے..زاہدہ بیگم نے دعائیہ الفاظ کے ساتھ راشدہ بیگم کو الوداع کیا.
----------------------------------
آج صبح سے ہی گھر میں مہمانوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا...
آج انعم کی وداعی ہونی تھی...
گھر میں خوشی کا ماحول لگا ہوا تھا...
گھر کو پھولوں اور رنگ برنگی لائٹوں سے بہت خوبصورتی اور نفاست کے ساتھ سجایا گیا تھا....
پورا گھر جگمگا رہا تھا...
مہمانوں اور رشتے داروں سے گھر بھرا ہوا تھا...
ہوتا بھی کیوں نا...!!
سلمان کی اکلوتی بہن کا جو نکاح تھا..
ندیم.....بیٹا زرا یہاں آنا.....زاہدہ بیگم نے ندیم کو پکارہ جو پاس ہی اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا شربت کے گھونٹ لے رہا تھا وہ سلمان کی آفس میں ہی ملازم تھا اور سلمان کا قریبی بھی.
آنٹی سر کو تو یہی ہونا چاہیے...وہ ہم سے پہلے آفس چھوڑ چکے تھے.....ندیم نے بتایا.
اللہ خئیر کرے آج اس لڑکے کی چھوٹی بہن وداع ہونے والی ہے اور جناب کا آج بھی کوئی اتا پتا نہی ہے...زاہدہ بیگم نے ماتھے پے ہاتھ مارتے ہوئے کہا.
آنٹی آپ فکر نا کریں ہو سکتا ہے سر کچھ کام سے باہر گئے ہوں اب شادی کا گھر ہے سو طرح کے کام ہوتے ہیں...اور سر اپنے کام کسی کو بتانے کی بجائے خود کرنا پسند کرتے ہیں..میں انہے ابھی کال لگا کر پوچھ لیتا ہوں کہ وہ کہاں ہیں. ندیم نے کہا...
کوئی فائدہ نہی بیٹا....میں نے وہ بھی کر کے دیکھ لیا فون بند ہے اسکا...تب ہی تمہارے پاس آئی کے شاید تمہیں کچھ پتا ہو....پتا نہی کہاں چلا گیا اچانک.....زاہدہ بیگم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا...
سر آجائیں گے آنٹی...آپ فکر نا کریں...ندیم نے زاہدہ بیگم کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا..اور وہاں سے چلا گیا.
----------------------------------------------
صاحب......!! صاحب......!!!
رات کے آٹھ بج چکے ہیں.....مجھے گیٹ بند کر کے اپنے گھر جانا ہے......یہ کریم دین تھا جو قبرستان کی رکھوالی کیا کرتا تھا...صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک اسکی ڈیوٹی ہوتی تھی.
روز کی طرح آج بھی وہ قبرستان آیا تھا...پر ہمیشہ وہ وہاں کچھ دیر اپنی مریم سے بات کر کے سات بجے تک روانہ ہو جاتا تھا.....
آج تو اسے یہ بھی خیال نا رہا کے اسکی بہن کا نکاح ہے.
اسکا وجود صرف نام کا رہ گیا تھا خود کو تو اسنے اسی دن زمین میں دفن کردیا تھا....جس دن اسنے اپنے جینے کی وجہ جس کی مسکراہٹوں سے اسکی ڈھڑکنیں بحال رہتی تھیں جو اس کے جینے کی وجہ تھی وہ اسکو ہی اپنے ہاتھوں سے مٹی کے ہوالے کر چکا تھا...
کتنا وقت ہو رہاہے....؟؟؟ سلمان نے پوچھا
صاحب پورے آٹھ بج چکے ہیں...کریم دین نے بتایا..
نا چاہتے ہوئے بھی اسے اپنی مریم کی قبر سے دور جانا پڑ رہا تھا...وہ ہر چیز سے محروم بس مریم تک ہی محدود رہ گیا تھا...ورنہ ایسا کون ہو سکتا ہے کے جسکی بہن کا نکاح ہو اور وہ ان سب سے انجان و محروم قبرستان میں بیٹھا ہو...جس کے لئے وہ قبر ہی اسکی دنیا ہو....
اگر کریم دین نا آتا تو شاید وہ پوری رات وہاں سے نا اٹھتا...
ایک ملال تھا جو اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا..
وہ یہ کے اس نے دوسرے نکاح کے لیے حامی بھر لی تھی...
اور اب وہ خود کو مریم کا گنہگار مان رہا تھا...
اسی ملامت کی تسکین کے لئے آج وہ مریم کی قبر پر آیا تھا......
لوگوں کی نظر میں یقیناً مریم اس دنیا سے جا چکی تھی
مگر سلمان کے لئے وہ آج بھی با حیات تھی...
وہ اسے ہر جگہ محسوس کرتا تھا..
گھنٹوں مریم کی قبر پر بیٹھے اس سے باتیں کرتا...
اپنا دن بھر کا حال سناتا...
جیسے وہ قبر میں نہی بلکہ حقیقت میں اس کی نظروں کے سامنے ہو اور اسکی باتیں سن رہی ہو.