وحشت ہی وحشت( قسط نمبر (3)(منظر کشی :)رات کا وقت تھا، بارش کی بوندیں استنبول کی سڑکوں کو بھگو رہی تھیں۔سیاہ گاڑیوں کا ایک لمبا قافلہ ارسلان کے ویلا کے سامنے آکر رکا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا اور چمکتے ہوئے سیاہ بوٹوں کے ساتھ ایک قد آور شخص باہر نکلا۔ وہ تیمور کا ظمی تھا۔ اس کی گہری نیلی آنکھیں اب کسی سمندر کی طرح پر سکون تھیں، لیکن ان کے پیچھے تباہی چھپی تھی۔تیمور نے ویلا میں قدم رکھا تو وہاں سناٹا چھا گیا ارسلان، جو کچھ دیر پہلے منت پر اپنی دھونس جمارہا تھا، تیمور کو دیکھتے ہی