Wheshat he Wheshat book and story is written by naazwriter in Urdu . This story is getting good reader response on Matrubharti app and web since it is published free to read for all readers online. Wheshat he Wheshat is also popular in Love Stories in Urdu and it is receiving from online readers very fast. Signup now to get access to this story.
Wheshat he Wheshat - Novels
naazwriter
by
Urdu Love Stories
وحشت ہی وحشت(قسط نمبر 1)ترکی کی اندھیری رات اور گھنے جنگل سے آتی بھیڑیوں کی آوازوں نے اس بچے کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ پھیلا دی تھی۔ وہ جو پہلے ہی سردی کے مارے کانپ رہا تھا،اپنے پیچھے بھیڑیے کی غراہٹ سن کر بے ہوش ہونے کے در پر تھا، مگر شاید اس کی زندگی بہت لمبی تھی۔ اسے ابھی بدلے بھی تو لینے تھے ، ہر اس انسان سے جس کی وجہ سے اس کی زندگی خراب ہوئی۔اپنے پیچھے بھیڑیے کی آواز سن کر وہ بچہ جیسے ہی پیچھے مڑا، یہ سوچ کر کہ آخری بار اپنے شکار
Wheshat he Wheshat - Ek Inteqami Safar
ترکی کی ٹھٹھورتی ہوئی اندھیری رات اور گھنے جنگل سے آتی بھیڑیوں کی خوفناک آوازیں... یہ کسی عام بچے کے لیے موت کا پیغام ہو سکتی تھی، لیکین اس کے لی یہ ایک ...Read Moreآغاز کی دستک تھی۔ اس معصوم کے دل میں۔خوف سے زیادہ بدلے کی آگ بھری تھی۔ ماضی کی وہ تلخ یادیں اور اپنو کو کھونے کا درد اب اسے چین سےبیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ اسےابھی بدلے لینے تھے.
ان سب سے جنہوں اس سے اسکا سکون چھینا تھا
کیاوہ معصومیت اس وحشت بھرے راستے پر چل کراپنی
منزل پا سکے گا۔کیا وہ بدلا لے پائےگا؟
وحشت ہی وحشتقسط نمبر (2) تایا ابو جو کبھی اس کے لیے ڈھال تھے، اب خود بے. بسی کی تصویر بنے بستر پر پڑے تھے۔ منت نے ہمت جمع کی۔ اور ایک پیالی میں دلیا ڈال کر خاموشی سے ...Read Moreابو کے کمرے کی طرف بڑھنے لگی۔ " کہاں جارہی ہو بیبی ؟ "تائی امی کی ایک کرخت آواز نے اسے وہیں روک دیا۔ تایا ابو کو ناشتہ کروانے۔ " منت نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔ رکھ دوا سے یہیں ، ہنا چلی جائے گی۔ تو جا کر کپڑے دھو ، آج ڈھیر لگا ہوا ہے پچھلے
وحشت ہی وحشت( قسط نمبر (3)(منظر کشی :)رات کا وقت تھا، بارش کی بوندیں استنبول کی سڑکوں کو بھگو رہی تھیں۔سیاہ گاڑیوں کا ایک لمبا قافلہ ارسلان کے ویلا کے سامنے آکر رکا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا اور چمکتے ...Read Moreسیاہ بوٹوں کے ساتھ ایک قد آور شخص باہر نکلا۔ وہ تیمور کا ظمی تھا۔ اس کی گہری نیلی آنکھیں اب کسی سمندر کی طرح پر سکون تھیں، لیکن ان کے پیچھے تباہی چھپی تھی۔تیمور نے ویلا میں قدم رکھا تو وہاں سناٹا چھا گیا ارسلان، جو کچھ دیر پہلے منت پر اپنی دھونس جمارہا تھا، تیمور کو دیکھتے ہی
وحشت ہی وحشت(قسط نمبر( 4)جب تیمور گھر میں داخل ہوا، تو ہنا نے موقع غنیمت جانا۔ اس نے اپنا بہترین لباس پہنا، خوب میک اپ کیا اور چائے کی ٹرے لے کر تیمور کے سامنے آئی۔ اس نے اپنی ...Read Moreسے بہت دلکش مسکراہٹ دی اور کہا"تیمور صاحب! آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے کل ہماری بہن کی مدد کی۔ میرا نام ہنا ہے، آپ چائے لیں گے۔"تیمور نے ایک سرد نظر ہنا پر ڈالی۔ اس کی نیلی آنکھوں میں ہنا کے لیے کوئی کشش نہیں تھی۔ اس نے چائے کو ہاتھ تک نہ لگایا اور کرخت
وحشت ہی وحشت (قسط نمبر 5)(بھیڑیے کا عروج: )تیمور کاظمی صرف ایک انسان نہیں تھا، وہ ایک ایسی جبلت کا مالک تھا جو شکار کے وقت بیدار ہوتی تھی۔ زیرِ زمین دنیا میں اسے "بھیڑیا" اس لیے کہا جاتا ...Read Moreکیونکہ وہ کبھی اکیلا حملہ نہیں کرتا تھا، لیکن جب کرتا تھا تو اپنے شکار کو نوچ ڈالتا تھا۔ اس کی کنیت "بھیڑیا" اس وقت پڑی جب اس نے اپنی ماں کی توہین کرنے والے پانچ بڑے گینگسٹرز کو ایک ہی رات میں ایک بند گودام کے اندر زندہ درگور کر دیا تھا۔کہا جاتا تھا کہ اس رات استنبول کی