وحشت ہی وحشت قسط نمبر۔(10)ترکی کے اس پرتعیش ہال میں آج دو زندگیاں ایک نئے بندھن میں بندھنے جا رہی تھیں۔فضا میں عود اور گلاب کی ملی جلی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ ایک طرف زاران شاہ کی قہقہوں بھری محفل تھی، تو دوسری طرف تیمور کاظمی کا وہ رعب تھا کہ بڑے بڑے لوگ اس کے سامنے نظر اٹھانے سے کتراتے تھے۔جلد ہی قاضی صاحب اسٹیج کے قریب کرسی پر آ بیٹھے ۔ ہال میں موجود شور یکدم خاموشی میں بدل گیا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم..." قاضی صاحب کی آواز گونجی۔۔۔۔پہلے زاران اور حیا کے نکاح کا آغاز ہوا۔ "زاران شاہ!