سلطان مرزا کے دل میں غصے کی آگ اتنی گہری اور تیز تھی کہ وہ خود اپنے ہاتھوں کو آیت کے معاملے میں گندا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کی انا اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ خود ایک معمولی لڑکی کے سامنے جائیں۔ انہوں نے بڑی چالاکی سے ایک ایسے شخص کو چننے کا فیصلہ کیا جسے آیت بچپن سے جانتی ہو، تاکہ اس کے اندر کے سکون کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔انہوں نے اپنی پرانی ساکھ، رعب اور خوف کا استعمال کرتے ہوئے 'فرحان' نام کے اس شخص کو ڈھونڈ نکالا، جو کبھی ان