Safar e Raigah book and story is written by Naheed Anis in Urdu . This story is getting good reader response on Matrubharti app and web since it is published free to read for all readers online. Safar e Raigah is also popular in Drama in Urdu and it is receiving from online readers very fast. Signup now to get access to this story.
Safar e Raigah - Novels
Naheed Anis
by
Urdu Drama
Safar e raigah sirf shahmeer ki nahi balke ayat ki bhi kahani hai ek ameer zadi jo apne baap ki nafrat se tang aa kash mekash ki zindagi chor deti hai aur kashmir ki khamosh wadiyon mein panah leti hai . Jab 70 mulk ghumne wala shahmeer sikander usse milta hai .ki asli sukoon kisi naye mulk me nahi balkay kisi ki sachi ankhon mein hota haiدروازےپر کھڑا ہے .اسکا دل اتنی زورو سے دھڑک رہا ہے کی اسے اپنی ہر دھڑکن اپنے کانوں میں محسوس ہو رہی ہے ۔اسنے دروازہ کھٹکھٹایا - صرف تین بار ۔۔دروازہ دھیرے س
Safar e raigah sirf shahmeer ki nahi balke ayat ki bhi kahani hai ek ameer zadi jo apne baap ki nafrat se tang aa kash mekash ki zindagi chor deti hai aur kashmir ki khamosh wadiyon mein panah leti ...Read More. Jab 70 mulk ghumne wala shahmeer sikander usse milta hai .ki asli sukoon kisi naye mulk me nahi balkay kisi ki sachi ankhon mein hota haiدروازےپر کھڑا ہے .اسکا دل اتنی زورو سے دھڑک رہا ہے کی اسے اپنی ہر دھڑکن اپنے کانوں میں محسوس ہو رہی ہے ۔اسنے دروازہ کھٹکھٹایا - صرف تین بار ۔۔دروازہ دھیرے س
.baab . 2 منظر ۔کمرے میں ایک ہلکی سی روشنی تھی اور باہر خاموشی کا راج ۔میز پر رکھی چای اب تھندھی ہو چکی تھی ۔مگر اُسکا دھواں ابھی بھی یادو کے طرح ہوا میںمعلق تھا میرے سامنے ...Read Moreپرانی ڈائری کھلی تھی وہی ڈائری جس کے ہر سہ فہے پر وقت کی دھول نے ایک نیا صفحہ لکھ دیا تھا ۔میںنے قلم اٹھایا پر میرے ہاتھ ٹھٹھک گئے ۔خود سے گفتگو کرنا ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے ۔مگر آج یہ ڈائری مجھ سے سوال کر رہی تھی ۔ کیا تم تیّار ہو ؟ میرے اندر سے ایک آواز
منظر ۔شهمیر نے ڈائری بند کی اور اس پر اپنا ہاتھ ہلکا سا ٹھپا ۔جیسے کسی پرانی دوست کو رُخصت کر رہا ہو ۔اُس لمحے کی یاد نے اُسے کمزور نہیں بلکہ پُراُمّید کر دیاتھا ۔اس نے محسوس کیا ...Read Moreیادوں کے بند کمرے میں رے کر انسان کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔اُسنے کُرسی پیچھے ہٹھائی اور کھڑکی کے پاس جاتا کر کھڑا ہو گیا ، باہر آسمان پر ہلکی ہلکی سپیڈی نمودار ہو رہی تھی فجر کا وقت قریب تھا ۔شهمیر نے اپنا پُرانا بیگ اٹھایا اور اُس میں صرف ضرورت کا سامان رکھا ۔ اُسنے ڈائری میز
اُسنے آگے پڑھنا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔۔بیٹا ، عثمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میںنے آیت کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کے سلطان میرزا اُسکا اصلی باپ نہیں ہے ۔پتہ نہیں کیوں پر ي سوچ کر بےچینی ہوتی ہے کے میرے بعد ...Read Moreاور بیگم شاہانہ آیت کا دھیان رکھینگے یہ نہیں۔مجھے لگتا ہے میں اب اور زدہ دیں تک زندہ نہیں رہونگا میںنے اپنی ساری دولت آیت کے نام کی ہے۔تو سلطان ي برداشت نہیں کریگا تم تو اُسکا مزاج جانتے ہو ۔میں دعا کرونگا کے وہ آیت کے ساتھ بٹسالوکھی نہ کرےمیرے آنکھوں کی سامنے سے وہ منظر نہیں ہٹتا جب
منظر۔رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا اور راستہ دشوارگزار. آیت کے ذہین میں ابھی بھی وہی باتے غنج رہی تھی جو اسے گھر چھوڑ نے پر مجبور کر گئی تھی ۔اُسنے سوچا تھا کے راستے آسان ہونگے ...Read Moreلیکن سرد ہواؤں نے اُسکے حوصلے ازمنہ شروع کر دیے تھے ۔تب ہی اُسنے دیکھا کے دور ایک پرانی مگر پرسکون عمارت کی روشنی چمک رہی ہے ۔ یہ ایک مُسافر خانہ تھا ۔ جب وہ تھکی حاری وہ پونچی ، تو کاؤنٹر پر ایک شخص کھڑی تھی جو کسی پرانی ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھی ۔اُسنے سر اٹھایا