افسوس
پیش لفظ:
زندگی کے سفر میں بعض لمحے ایسے آتے ہیں جو ایک پل میں سب کچھ بدل دیتے ہیں۔ خوشیوں کی رونق اچانک ماتم میں بدل جاتی ہے، خواب ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں، اور یقین دھوکے میں بدل کر دل پر ایسی چوٹ لگا دیتا ہے جو برسوں بھرنے کا نام نہیں لیتی۔
یہ کہانی چند کرداروں کی ہے، مگر اس کے سائے میں ہمارا پورا معاشرہ چھپا ہوا ہے—وہ معاشرہ جو کمزور کو سہارا دینے کے بجائے دھکیل دیتا ہے، جو محبت کو گناہ اور اندھے اعتماد کو سزا بنا دیتا ہے۔
"افسوس" صرف ایک کہانی نہیں، یہ آئینہ ہے—جس میں ہر قاری کو کہیں نہ کہیں اپنا عکس دکھائی دے گا۔ کبھی ہم زہرہ کی معصومیت میں خود کو پائیں گے، کبھی ارم کی بے بسی میں، اور کبھی شاید ہم ان کرداروں میں جھانکیں گے جو ظالم ہیں، مگر خود کو مظلوم سمجھتے ہیں۔
یہ تحریر ایک سوال ہے جو میں نے قاری کے دل کے دروازے پر رکھا ہے:
کیا ہم بدلیں گے؟
یا یہ سب کچھ ہمیشہ ایسے ہی چلتا رہے گا؟
احمد بیگ
باب 1:
کون کہتا ہے کہ زندگی جینا آسان ہے ؟ زِندگی جینا تو وہی جانتے ہیں جن کے پاس سہولیات ہیں۔ زندگی میں مشکلات تو بہت اتی ہیں لیکن اُنکا مقابلہ کرنا ہر کوئی نہ جانتا۔
افسوس رہ گیا دل میں چھپا ہوا
ایک خواب رہ گیا بکھرا ہوا،
باتیں بہت تھیں کہنے کو مگر چُپ رہے
دل کا دکھ نہ کبھی کسی کو بتایا گیا،
وقت گزر گیا زخم پُرانے ہو گئے
پھر بھی افسوس ہے کچھ نہ کچھ بچا ہوا،
کاش کوئی سمجھتا دل کا حال کیا ہے
تنہا بیٹھا ہوا ہوں یادوں میں کھويا ہوا
بس اسٹاپ پر کھڑا لڑکا تپتی دھوپ میں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بس کو دور سے آتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
"شکر ہے بس آ گئی، ورنہ تو میں نے اس تپتی دھوپ میں مر ہی جانا تھا۔"
وہ بس میں چڑھا اور جا کر پیچھے آخری سیٹ پر بیٹھ گیا۔ وہ وہاں بیٹھا کھڑکی سے باہر درختوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے خیالوں میں کھویا ہوا تھا، نہ آگے کی خبر تھی نہ پیچھے کی۔تبھی بس جھٹکے سے رکی تو وہ چونک کر دیکھتا ہے۔
"یہ آخری اسٹاپ ہے، آپ سب کو یہی اُترنا ہوگا!" کنڈکٹر بس کے دروازے پر آواز لگاتے ہوئے بولا۔
★★★★★★★★★★
ہیلو!
بلیک پنٹ کوٹ میں بلوس ہرنيل ملک کال پر مخاطب وہ غصّے سے کہہ رہا تھا:
"مجھے نہیں پتہ آپ نے پہلے ڈِیل کی! اور اب آپ اپنی بات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں؟ ایسے چلتے ہیں کاروبار؟ اگر آپ کی اتنی اوقات ہی نہیں تھی انویسٹمنٹ کی، تو آپ نے کس منہ سے مجھ سے بات کی؟ آپ جانتے بھی ہیں۔۔۔ نہیں! نہیں، آپ یقیناً نہیں جانتے! میں آپ کو بتاتا چلوں — میں کوئی ایسا ویسا بندہ نہیں ہوں، نہ ہی کوئی معمولی کاروباری آدمی! میں ہرنائلِ ملک ہوں — اس شہر کا سب سے بڑا بزنس مین! میں کوئی عام شخص نہیں ہوں!
اگر میں آپ پر دھوکہ دہی کا کیس بھی کر دوں نا، تو چاہے کیس کمزور ہی کیوں نہ ہو، آپ کو آپ کی اوقات ضرور یاد آ جائے گی! ٹھیک ہے؟ آئندہ مجھے کال کرنے سے پہلے دیکھ لینا کہ تمہاری اتنی اوقات ہے بھی یا نہیں جو تم مجھ سے انویسٹمنٹ کی بات کر رہے ہو! اب دفع ہو جاؤ! عجیب لوگ ہیں، آئندہ کال کرنے کی ضرورت نہیں ہے!"
وہ جھٹکے سے فون بند کر دیتا ہے۔
"اوقات ہوتی نہیں ہے، آ جاتے ہیں ڈِیل کرنے!" — وہ غصّے میں بڑبڑایا۔
اس منحوس کے چکر میں چائے ٹھنڈی ہو گئی میری!"
وہ چائے کا کپ ہونٹوں پر لگاتے ہوئے کہتا ہے اور پھر اچانک چائے منہ سے باہر اُگل دیتا ہے۔
"حسن۔۔۔ حسن!" وہ غصّے میں چیخا۔
"جی صاحب!" — حسن گھبراتے ہوئے بولا۔
"یہ کیا ہے؟" وہ چیخ کر بولا۔
"چائے ہے مالک!" حسن نے جواب دیا۔
یہ چائے ہے؟ اِسے چائے کہتے ہیں؟" وہ اونچی آواز میں بولا۔
"اس چائے میں نہ تو چینی ہے، نہ ذائقہ! پتی اتنی تیز کیوں ہے؟ چائے بنانا بھول گئے ہو کیا؟" وہ غصّے سے گرجا۔
حسن طنزیہ انداز میں بولا، "تو خود بنا لیتے آپ! آپ کو تو کبھی کچھ پسند ہی نہیں آتا صاحب!"
"اچھا! تو تم مجھ پر حکم چلاؤ گے؟" — وہ چائے کا کپ حسن کے منہ پر پھینک دیتا ہے۔
"یہ کیا بدتمیزی ہے مالک؟ بڑے لوگ ہو تو کیا کچھ بھی کرو گے؟ ارے کم از کم رزق کی تو عزت کرو! اتنی بھی تربیت نہیں دی کیا ماں باپ نے؟" حسن غصّے سے بولا۔
ہرنائل زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارتا ہے۔ "اب تم مجھے سکھاؤ گے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟ تمہاری اتنی اوقات!" یہ کہہ کر وہ ایک اور تھپڑ مارنے ہی والا ہوتا ہے مگر حسن اس کا ہاتھ روک لیتا ہے۔
"صاحب! اگر میں آپ سے تمیز سے پیش آ رہا ہوں نا تو یہ اپنا غصہ اپنے باپ کو جا کر دکھائیں، مجھے نہیں!" — حسن اس کا ہاتھ زور سے جھٹک کر کہتا ہے۔
"اچھا!" ہرنائل حسن کے بالوں کو زور سے پکڑ لیتا ہے اور اس کے بال کھینچتے ہوئے اُسے اپنے آفس سے باہر گارڈز کے پاس لے آتا ہے اور وہیں اُسے دھکیل کر زمین پر پھینک دیتا ہے۔
"تمہیں تو میں سیدھا کرتا ہوں! نوکر ہو — نوکر ہی رہو گے!"
"صاحب! تمیز سے۔۔۔ آج تو ہاتھ لگا لیا، آئندہ۔۔۔" اس کی بات ابھی پوری بھی نہیں ہوتی کہ ہرنائل اس کے منہ پر زور سے مُکّا مارتا ہے، پھر اسے بالوں سے پکڑ کر اُٹھاتا ہے اور زور سے دھکا دے کر پھینکتا ہے۔ پھر اس پر زور زور سے لاتیں مارتا ہے۔
"دیکھ لے! تیری اوقات کیا ہے میری نظر میں! اور آئندہ تُو دیکھ، تیرے ساتھ میں اور کیا کیا کرتا ہوں!"
وہ اسے اُٹھا کر گارڈ کے سامنے پھینکتا ہے اور غصّے سے کہتا ہے:
"لے جاؤ اِسے تھانے! اور ہاں — ایسی سروس کروانا کہ ساری زندگی یاد رکھے یہ!"
Stay tuned till next part.
Instagram: ahmed_baig_90