جادوئی گھڑی کاراز in Urdu Children Stories by Midoo books and stories PDF | جادوئی گھڑی کاراز

The Author
Featured Books
Categories
Share

جادوئی گھڑی کاراز

قسط 1: کچرے میں چھپا راز

حمزہ کو پرانی چیزیں جمع کرنے کا شوق تھا۔ ایک دن اسے پتیوں کے ڈھیر کے نیچے ایک زنگ آلود گھڑی ملی جس پر سرخ نمبر چمک رہے تھے۔ جیسے ہی اس نے نیلا بٹن دبایا، اسے ایک جھٹکا لگا اور وہ 2006 میں پہنچ گیا۔ وہ اپنے اسکول کے ماضی میں کھڑا تھا!

قسط 2: ماضی کا میدان

حمزہ نے وہاں کچھ لڑکوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھا۔ ایک لڑکا بالکل حمزہ جیسا تھا، وہ اس کے ابو کا بچپن تھا۔ اس کے ابو نے چھکا مارا اور حمزہ نے کیچ پکڑ لیا۔ اس کے چھوٹے ابو نے مسکرا کر پوچھا، "کیا تم 

اچانک گھڑی زور زور سے بجنے لگی اور اس پر لکھا آیا: "وقت کا دروازہ 60 سیکنڈ میں بند ہو رہا ہے!" حمزہ ڈر گیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے یہاں پھنس جائے گا۔ اس نے واپسی کا بٹن دبانے کی کوشش کی لیکن زنگ کی وجہ سے بٹن پھنس چکا تھا۔

سط 4: واپسی کی تگ و دو

حمزہ نے پوری طاقت سے بٹن کو دبانے کی کوشش کی، لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ گھڑی کا الارم اب کسی ایمبولینس کی طرح تیز ہو چکا تھا اور الٹی گنتی چل رہی تھی: "10... 9... 8..."۔ اس کے چھوٹے ابو فکر مند ہو کر اس کے قریب آئے اور اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔ حمزہ نے جلدی سے ایک چھوٹا پتھر اٹھایا اور بٹن کو ڈھیلا کرنے کے لیے گھڑی پر مارا۔ عین اسی لمحے جب اس کے ابو کا ہاتھ اس کی بازو پر لگا، حمزہ نے پوری طاقت سے بٹن کو دوبارہ دبایا۔ ایک زوردار روشنی چمکی، ہوا کا ایک بگولہ اٹھا اور حمزہ کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ چند لمحوں بعد، ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ اپنے کمرے کے فرش پر گرا۔ اس کے سر میں ہلکا سا درد تھا اور کمرے کی خاموشی اسے عجیب لگ رہی تھی۔ وہ جلدی سے اٹھا اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ وہاں وہی جدید گاڑیاں اور سڑکیں تھیں جنہیں وہ روز دیکھتا تھا۔ وہ اپنے زمانے میں واپس آ چکا تھا۔

قسط 5: ایک انوکھا ثبوت

حمزہ سکون کا سانس لیتے ہوئے اٹھا اور اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا۔ گھڑی اب خاموش اور بے جان پڑی تھی۔ لیکن جب اس نے اپنی مٹھی کھولی، تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اس کے ہاتھ میں وہی پرانی کرکٹ کی گیند تھی جو ماضی میں اس کے چھوٹے ابو نے اسے پکڑائی تھی۔ وہ گیند اب بہت پرانی اور اس کا رنگ اڑا ہوا تھا، لیکن اس پر اس کے ابو کا بچپن میں لکھا ہوا نام صاف نظر آ رہا تھا۔ حمزہ دنگ رہ گیا، وہ واقعی ماضی میں جا کر آیا تھا! رات کو جب اس کے اصلی ابو گھر آئے، تو حمزہ نے وہ گیند انہیں دکھائی۔ ابو نے حیرت سے گیند ہاتھ میں لی اور مسکرا کر بولے، "ارے! یہ گیند تو میں نے بچپن میں اسکول کے میدان میں کھو دی تھی، تمہیں یہ کہاں سے ملی؟" حمزہ نے مسکرا کر جادوئی گھڑی کی طرف دیکھا جو اب خاموش پڑی تھی، لیکن اس نے سچ بتانے کے بجائے صرف اتنا کہا، "بس ابو! یہ مجھے ایک پرانی جگہ سے مل گئی۔" حمزہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس گھڑی کا استعمال اب بہت سوچ سمجھ کر کرے گا اور اسے ایک راز کے طور پر رکھے گا۔