کاپی رائٹ الرٹ! 🚫
یہ ناول "صدیوں کا حساب" مکمل طور پر مصنفہ @naaz_writer786 کی تخلیق ہے۔ اس کہانی کے تمام حقوق محفوظ ہیں۔
کسی بھی فرد، پیج یا گروپ کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ:
اس کہانی کا کوئی بھی حصہ کاپی کرے۔
مصنفہ کا نام ہٹا کر یا بدل کر اسے اپنا ظاہر کرے۔
یا اسے کسی اور پلیٹ فارم پر بغیر اجازت شیئر کرے۔
نوٹ: ادبی چوری ایک اخلاقی اور قانونی جرم ہے۔ پکڑے جانے کی صورت میں سخت ایکشن لیا جائے گا۔
Writer: @naaz_writer786 ✨
(صدیوں کا حساب مکمل ناول)
قسط نمبر: 1
شہر کی روشنیاں مدہم پڑ رہی تھیں، لیکن "شاہ ولا" کے در و دیوار آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑے تھے۔
حویلی کے بڑے سے لان میں بچھی گھاس پر اوس کی بوندیں چمک رہی تھیں، بالکل ویسے ہی جیسے زویا کی آنکھوں میں ٹھہرے ہوئے آنسو۔
زویا نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ڈائری کو سختی سے بھینچا۔ اس کی انگلیاں ٹھنڈی پڑ رہی تھیں۔
آج پورے پانچ سال بعد وہ اس دہلیز پر واپس آئی تھی جہاں سے اسے کبھی بڑی بے دردی سے نکالا گیا تھا۔
"ابھی بھی وقت ہے زویا، واپس مڑ جاؤ۔" اس کے دل کے کسی کونے سے آواز آئی۔ لیکن اس کی خودداری اسے پیچھے ہٹنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔
"میں یہاں ہارنے نہیں، اپنا حق لینے آئی ہوں۔" اس نے خود سے عہد کیا۔
اسی دوران، حویلی کے بالائی پورشن (Upper Portion)
کے ٹیرس پر ایک ہیبت ناک وجود کھڑا تھا۔ شاہریز شاہ—جس کے نام سے ہی کاروباری دنیا لرزتی تھی۔
اس کے ہاتھ میں کافی کا مگ تھا،۔۔۔
لیکن اس کی نظریں گیٹ پر کھڑی اس لڑکی پر جمی تھیں جس کا سایہ بھی وہ اپنی زندگی میں دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
تو تم آ ہی گئیں..." شاہریز کے لبوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اس نے کافی کا ایک گھونٹ بھرا اور فون نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا۔
"وہ آ گئی ہے۔ کھیل اب شروع ہوگا۔" اس کی آواز میں ایسی سرد مہری تھی جو کسی کا بھی خون جما دے۔
منظر بدلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔:
حویلی کے اندر قدم رکھتے ہی زویا کو پرانی یادوں نے گھیر لیا۔ وہی جھاڑ فانوس، وہی پرانی تصویریں، اور وہی گھٹن۔
"زویا بیٹی؟" ایک لرزتی ہوئی آواز آئی۔ یہ دادی جان تھیں۔
زویا بھاگ کر ان کے گلے لگ گئی۔ "دادی، میں ٹھیک ہوں۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔" لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ جب تک شاہریز شاہ اس گھر میں موجود تھا، وہ کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتی تھی۔
اچانک سیڑھیوں پر بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی۔ زویا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے شاہریز کھڑا تھا، کالی قمیض کے بازو فولڈ کیے ہوئے، آنکھوں میں وہی پرانی نفرت لیے۔
"خوش آمدید، زویا۔" شاہریز سیڑھیاں اترتے ہوئے بولا، اس کا لہجہ طنزیہ تھا۔ "امید ہے تم یہاں زیادہ دیر رکنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہو گی۔
زویا نے اپنی تھوڑی اوپر اٹھائی اور براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "ارادہ تو میرا بہت کچھ کرنے کا ہے شاہریز شاہ۔ ابھی تو صرف شروعات ہے۔"
پورے ہال میں ایک خاموشی چھا گئی۔ دشمنی کی یہ آگ اب
بجھنے والی نہیں تھی۔
قسط نمبر: )2)
ہال میں چھائی خاموشی اتنی گہری تھی کہ زویا کو اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تھی۔ شاہریز شاہ کی نظریں اس کے چہرے پر جمی تھیں، جیسے وہ اس کی ہمت کی پیمائش کر رہا ہو۔
"بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری،" شاہریز نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ اس کے وجود سے اٹھنے والی مہنگی پرفیوم کی خوشبو زویا کے حواس پر چھانے لگی۔
"پانچ سال شہر سے باہر گزار کر شاید تم یہ بھول گئی ہو کہ اس گھر کے فیصلے آج بھی میری مرضی سے ہوتے ہیں۔
زویا نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور مسکرائی—ایک ایسی مسکراہٹ جس میں درد کم اور چیلنج زیادہ تھا۔ "فیصلے آپ کرتے ہوں گے شاہریز صاحب،
لیکن یہ گھر جتنا آپ کا ہے، اتنا ہی میرا بھی ہے۔ وصیت نامہ شاید آپ نے غور سے نہیں پڑھا۔"
شاہریز کے جبڑے بھینچ گئے۔ اسے اپنی مخالفت برداشت کرنے کی عادت نہیں تھی، اور وہ بھی ایک ایسی لڑکی سے جسے وہ کبھی اپنے پیروں کی دھول سمجھتا تھا۔””
رات کا پچھلا پہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) :
زویا اپنے پرانے کمرے میں آئی تو سب کچھ ویسا ہی تھا۔ وہی سفید پردے، وہی کتابوں کی الماری۔ لیکن اب وہ معصوم زویا نہیں رہی تھی جو بارش میں بھیگنے پر گھنٹوں ہنستی تھی۔
اس نے بیگ سے ایک پرانی، مڑی تڑی تصویر نکالی۔ تصویر میں ایک ہنستا ہوا چہرہ تھا—اس کا بھائی، جو اب اس دنیا میں نہیں تھا۔
"میں تم سے کیا ہوا وعدہ پورا کروں گی، بھائی۔ انہوں نے تم سے تمہاری زندگی چھینی تھی، میں ان سے ان کا سکون چھین لوں گی۔" اس کی آنکھوں میں انتقام کی سرخی تیرنے لگی۔
لائبریری کا منظر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)
دوسری طرف شاہریز لائبریری میں اکیلا بیٹھا سگریٹ کے مرغولے اڑا رہا تھا۔ اس کے سامنے میز پر زویا کی واپسی کی فائل کھلی تھی۔
اس کا سیکرٹری، مراد، دبے قدموں اندر داخل ہوا۔ "سر، آپ نے بلایا؟"
"مراد، پتا لگواؤ ان پانچ سالوں میں یہ لڑکی کہاں تھی، کس سے ملتی رہی اور اس کے پیچھے کون سی طاقت ہے جو اسے مجھ سے آنکھیں ملانے کی ہمت دے رہی ہے۔" شاہریز نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسل دی۔
"جی سر، لیکن دادی جان کہہ رہی تھیں کہ زویا بی بی کل سے آفس جوائن کریں گی۔" مراد نے ڈرتے ڈرتے اطلاع دی۔
شاہریز کے ہاتھ ساکت ہو گئے۔ "آفس؟ میرے بزنس میں؟" وہ
دھاڑا۔ "وہ میرے سامنے بیٹھ کر کام کرے گی؟
(اگلی صبح: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہریز گروپ آف انڈسٹریز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفس کا ماحول آج کچھ بدلا ہوا تھا۔ اسٹاف میں چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں۔ جب زویا سیاہ رنگ کے باوقار سوٹ میں ملبوس، آنکھوں پر چشمہ لگائے، پر اعتماد طریقے سے کوریڈور سے گزری تو سب کی نظریں اسی پر ٹھہر گئیں۔
وہ سیدھی شاہریز کے کیبن کی طرف بڑھی اور بغیر دستک دیے دروازہ کھول دیا۔
شاہریز کسی فائل پر دستخط کر رہا تھا، اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے زویا کھڑی تھی۔
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی اندر آنے کی؟" شاہریز کی آواز گرجدار تھی۔
زویا نے ایک فائل اس کی میز پر پٹخی۔ "کمپنی کے 25 فیصد شیئرز کی مالک ہونے کے ناطے، مجھے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ آج سے میرا آفس آپ کے برابر والا کیبن ہوگا۔"
شاہریز اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے میز پر جھک کر زویا کی آنکھوں میں دیکھا۔ "یہ بزنس ہے زویا، کوئی گڑیوں کا کھیل نہیں۔ یہاں ایک غلطی اور تم سڑک پر آ جاؤ گی۔"
"تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ پہلے سڑک پر کون آتا ہے،" زویا نے پلک جھپکائے بغیر جواب دیا۔
"تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ پہلے سڑک پر کون آتا ہے،" زویا نے پلک جھپکائے بغیر جواب دیا۔
(سسپنس پوائنٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی وقت شاہریز کے فون پر ایک میسج آتا ہے جس سے اس کے چہرے کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔ وہ میسج زویا کے ماضی سے جڑا کوئی ایسا راز تھا جو زویا خود بھی چھپانا چاہتی تھی۔
کیا شاہریز کو زویا کی کمزوری مل گئی ہے؟ کیا زویا آفس میں اپنی جگہ بنا پائے گی؟
قسط نمبر: 3)
:شاہریز کے فون کی سکرین پر چمکتا ہوا وہ میسج کسی بم دھماکے سے کم نہیں تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک ابھری، جو زویا کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی۔
"تو... یہ ہے تمہاری وہ سچائی جسے تم چھپانے کی کوشش کر رہی ہو؟" شاہریز نے فون کا رخ زویا کی طرف کیا، لیکن اسے تصویر دکھانے سے پہلے ہی ہاتھ پیچھے کر لیا۔
زویا کے ماتھے پر پسینے کی ننھی بوندیں ابھریں۔ وہ جانتی تھی کہ شاہریز شاہ کے ہاتھ اگر کوئی سراغ لگ جائے تو وہ اسے ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔ "مجھے آپ کی پہیلیوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، شاہریز۔" اس نے اپنی آواز کو مستحکم رکھنے کی کوشش کی۔
دلچسپی تو اب شروع ہوگی، زویا!" شاہریز اس کے قریب آیا، اتنا قریب کہ وہ اس کی سانسوں کی تپش محسوس کر سکتی تھی۔ "وہ پانچ سال جو تم نے لندن میں گزارے... وہ اتنے بھی 'سادہ' نہیں تھے جتنا تم دکھا رہی ہو۔ وہ ہسپتال، وہ میڈیکل رپورٹس... سب میرے پاس پہنچنے والی ہیں۔"
زویا کا رنگ فک ہو گیا۔ اس نے جلدی سے اپنا رخ موڑا تاکہ شاہریز اس کی آنکھوں میں چھپا خوف نہ دیکھ سکے۔ "جو کرنا ہے کر لیں، میں ڈرنے والی نہیں۔" وہ تیز قدموں سے کیبن سے باہر نکل گئی۔
(تاریک یادیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے نئے کیبن میں بیٹھ کر زویا نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا۔ اس کے ذہن میں پانچ سال پرانے وہ منظر گھومنے لگے۔ بارش کی وہ رات، سڑک پر پھیلا خون، اور اس کے بھائی کی آخری چیخ۔
"میں کمزور نہیں پڑ سکتی،" اس نے خود کو جھنجھوڑا۔ "اگر شاہریز کو اس رات کا سچ معلوم ہو گیا، تو میرا سارا پلان مٹی میں مل جائے گا۔"
(حویلی کا ڈرامہ)
:رات کے وقت جب سب کھانے کی میز پر جمع تھے، ماحول بوجھل تھا۔ دادی جان نے دونوں کی خاموشی توڑنے کی کوشش کی۔
"شاہریز، زویا اب سے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو سنبھالے گی۔ میں چاہتی ہوں تم اسے گائیڈ کرو۔"
شاہریز نے حقارت سے زویا کی طرف دیکھا جو خاموشی سے سوپ پی رہی تھی۔ "گائیڈ اسے کیا جاتا ہے جو کچھ سیکھنا چاہے۔ یہ تو یہاں 'حساب' برابر کرنے آئی ہے۔ ہے نا زویا؟"
زویا نے چمچ رکھا اور شاہریز کی نظروں سے نظریں ملائیں۔ "بالکل۔ اور حساب میں سب سے پہلی چیز وہ 'پراپرٹی' ہے جو آپ نے زبردستی اپنے نام کروائی تھی۔"
دادی جان پریشان ہو کر دونوں کو دیکھنے لگیں۔ "بچوں، یہ کیا باتیں کر رہے ہو تم لوگ؟"
"دادی، آپ کی لاڈلی نے شاید بتایا نہیں کہ یہ لندن سے اکیلی نہیں آئی، بلکہ اپنے ساتھ کچھ ایسی فائلیں لائی ہے جو شاہریز گروپ کو تباہ کر سکتی ہیں،" شاہریز نے تیکھے لہجے میں کہا۔
ایک پراسرار فون کال
رات کے دو بجے، جب پوری حویلی نیند کی آغوش میں تھی، زویا کے فون پر ایک گمنام کال آئی۔
"ہیلو؟" زویا نے سرگوشی کی۔
"تمہارا وقت ختم ہو رہا ہے، زویا۔ شاہریز سچ کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ تم تک پہنچے، تمہیں وہ کام کرنا ہوگا جس کے لیے تم وہاں گئی ہو۔" دوسری طرف سے ایک بھاری، مشینی آواز آئی۔
"میں کوشش کر رہی ہوں، لیکن وہ مجھ پر نظر رکھے ہوئے ہے،" زویا نے پریشانی سے کہا۔
"کوشش نہیں، نتیجہ چاہیے! ورنہ تمہارے بھائی کا کیس ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے گا۔" کال کٹ گئی۔
زویا نے فون بیڈ پر پھینکا اور بالکنی کی طرف بڑھی۔ سامنے والے ٹیرس پر شاہریز ابھی بھی جاگ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ شاہریز کے ہاتھ میں وہی فائل تھی جس کا ذکر اس نے آفس میں کیا تھا۔
اچانک شاہریز نے سر اٹھایا اور براہ راست زویا کی بالکنی کی طرف دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں—ایک طرف خوف تھا، اور دوسری طرف ایک ایسا جال جو آہستہ آہستہ بند ہو رہا تھا۔
کیا زویا اس گمنام کال کرنے والے کے کہنے پر شاہریز کو نقصان پہنچائے گی؟
شاہریز کے ہاتھ وہ کون سی رپورٹ لگی ہے جو زویا کی زندگی بدل سکتی ہے؟
کیا ان دونوں کے درمیان نفرت کے علاوہ کوئی تیسرا جذبہ بھی جنم لے گا؟
(قسط نمبر: 4)
:رات کا سناٹا دونوں کے درمیان ایک تنی ہوئی رسی کی مانند تھا۔ شاہریز نے بالکنی سے ہی زویا کو ایک طنزیہ اشارہ کیا اور اندر چلا گیا۔ زویا کا دل ابھی بھی زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ گمنام کال اور شاہریز کی خاموش دھمکی—وہ دو پاٹوں کے درمیان پس رہی تھی۔
اگلی صبح، زویا ابھی آفس جانے کے لیے تیار ہو ہی رہی تھی کہ دادی جان اس کے کمرے میں آئیں۔ ان کے چہرے پر فکر کی لکیریں واضح تھیں۔
"زویا بیٹی، میں جانتی ہوں کہ تمہارے اور شاہریز کے درمیان تلخیاں ہیں، لیکن آج 'رائل گالا' کی تقریب ہے، اور میں چاہتی ہوں کہ تم شاہریز کے ساتھ وہاں جاؤ۔ یہ بزنس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو ہم ایک نظر آئیں۔"
زویا انکار کرنا چاہتی تھی، لیکن اسے یاد آیا کہ 'رائل گالا' میں وہی لوگ آنے والے ہیں جن سے اسے اپنے بھائی کے کیس کے بارے میں معلومات مل سکتی تھیں۔ "ٹھیک ہے دادی، میں جاؤں گی۔"
(آفس میں ایک نیا موڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفس پہنچتے ہی زویا کو معلوم ہوا کہ شاہریز نے اس کے تمام مارکیٹنگ پراجیکٹس ہولڈ (Hold) کروا دیے ہیں۔ وہ غصے میں بھری اس کے کیبن میں داخل ہوئی۔
"یہ کیا بدتمیزی ہے شاہریز؟ آپ میرے کام میں مداخلت کیوں کر رہے ہیں؟"
شاہریز جو ایک میپ (Map) پر غور کر رہا تھا، سکون سے کرسی کی پشت سے لگ گیا۔ "مداخلت؟ نہیں زویا، میں تو بس 'صفائی' کر رہا ہوں۔ وہ پراجیکٹس جن کے ذریعے تم کمپنی کا ڈیٹا چوری کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، میں نے وہ ختم کر دیے ہیں۔"
زویا کا رنگ اڑ گیا۔ "آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں؟"
"میں الزام نہیں لگاتا، ثبوت جمع کرتا ہوں۔" شاہریز کھڑا ہوا اور اس کے قریب آ کر میز پر جھکا۔ "وہ جو رات کو تمہیں کال آئی تھی... اس کا ریکارڈ میرے پاس پہنچ چکا ہے۔ اب بتاؤ، کس کے لیے کام کر رہی ہو؟"
زویا نے تھوک نگلا۔ وہ اس کی ذہانت سے خوفزدہ ہو رہی تھی۔ "میں کسی کے لیے کام نہیں کر رہی۔ میں صرف اپنا حق چاہتی ہوں۔"
"حق یا بدلہ؟" شاہریز کی آواز دھیمی لیکن کاٹ دار تھی۔
آپ سے مطالب آپ اپنے کام سے مطلب رکھے مسٹر شاہریز۔۔۔۔۔۔
مجھے اور بھی بہت کام ہے آپکی فالتو بکواس کا ٹائم نہیں ہے
میرے پاس زویا یے بول کر واپس چلی گئی شاہریز کے لبوں پر ایک جاندار مسکراہٹ آئی جسے اس نے چھپا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(: شام کا منظر)
:شہر کے سب سے بڑے ہوٹل کا ہال روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ زویا نے زمردی سبز (Emerald Green) رنگ کا نفیس لباس پہن رکھا تھا، جس میں وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔ شاہریز سیاہ تھری پیس سوٹ میں اس کے ساتھ تھا، دونوں ایک مکمل پاور کپل (Power Couple) لگ رہے تھے، مگر ان کے درمیان میلوں کا فاصلہ تھا۔
تقریب کے دوران، شاہریز بزنس ٹائیکونز سے بات کرنے میں مصروف ہو گیا تو زویا موقع پا کر اس شخص کی تلاش میں نکلی جس کا ذکر اسے گمنام کال پر کیا گیا تھا۔
وہ ہال کے ایک اندھیرے کونے کی طرف بڑھی جہاں ایک بوڑھا آدمی کھڑا تھا۔ "آپ ہی نے مجھے بلایا تھا؟" زویا نے سرگوشی کی۔
ہوشیار رہو لڑکی! شاہریز کو سب پتا چل چکا ہے۔ تمہارے بھائی کا ایکسیڈنٹ نہیں ہوا تھا، اسے قتل کیا گیا تھا اور اس کے پیچھے وہی ہے جس کے ساتھ تم آج یہاں آئی ہو۔" بوڑھے نے جلدی سے ایک چھوٹی سی یو ایس بی (USB) زویا کے ہاتھ میں تھمائی۔
زویا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ شاہریز؟ شاہریز نے اس کے بھائی کو مارا تھا؟
(ٹکراؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔
زویا جیسے ہی مڑی، سامنے شاہریز کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی سختی تھی۔
"تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟" اس نے زویا کی کلائی سختی سے پکڑ لی۔
"چھوڑیں مجھے! آپ ایک قاتل ہیں!" زویا نے چلا کر کہا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
شاہریز نے اسے گھسیٹ کر ایک خالی کمرے میں دھکیلا اور دروازہ لاک کر دیا۔ "کیا کہا تم نے؟ قاتل؟" اس کا لہجہ اب غصے سے بھرپور تھا۔
"ہاں! میرے بھائی کی موت کے ذمہ دار آپ ہیں۔ اس یو ایس بی میں سب کچھ ہے!" زویا نے وہ یو ایس بی اس کے سینے پر ماری۔
شاہریز نے یو ایس بی اٹھائی اور ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔ پھر وہ ایک سرد ہنسی ہنسا۔ "اگر میں قاتل ہوتا زویا، تو تم اب تک زندہ نہ ہوتیں۔ تم جس پر یقین کر رہی ہو، وہ تمہیں استعمال کر رہا ہے۔"
اسی وقت ہوٹل میں فائرنگ کی آواز گونجی۔ شاہریز نے لپک کر زویا کو فرش پر گرایا اور خود اس کے اوپر ڈھال بن گیا۔
"خاموش رہو! وہ تمہیں مارنے آئے ہیں۔" شاہریز نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
٭ فائرنگ کرنے والے کون تھے؟ کیا وہ زویا کو ختم کرنا چاہتے تھے یا شاہریز کو؟
٭ کیا اس یو ایس بی میں واقعی شاہریز کے خلاف ثبوت ہیں یا یہ کوئی نیا جال ہے؟
٭ کیا زویا اس خطرناک صورتحال میں شاہریز پر بھروسہ کر پائے گی؟
فائرنگ کی آواز نے ہال میں موجود موسیقی اور قہقہوں کو چیخوں میں بدل دیا تھا۔ ہوٹل کی رنگین روشنیاں بجھ چکی تھیں اور اب صرف ایمرجنسی لائٹس کی سرخ لہریں چاروں طرف ناچ رہی تھیں۔
قسط نمبر: 5)
۰شاہریز نے زویا کو ایک بھاری صوفے کے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اس کا مضبوط ہاتھ زویا کے منہ پر تھا تاکہ اس کی سسکیاں باہر نہ نکل سکیں۔ زویا کی آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی تھیں، اسے شاہریز کے دل کی دھڑکن اپنے بہت قریب سنائی دے رہی تھی—تیز مگر منظم۔
"یہاں سے ہلنا نہیں،" شاہریز نے اس کے کان کے پاس نہایت دھیمی مگر حکمیہ آواز میں کہا۔ اس نے اپنی کمر سے لگا پستول نکالا، جسے دیکھ کر زویا کا سانس رک گیا۔ وہ واقعی ایک خطرناک انسان تھا۔
"آپ... آپ کے پاس یہ کہاں سے آیا؟" زویا نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
شاہریز نے اس کا جواب دینے کے بجائے باہر کی طرف دیکھا جہاں دو سائے کوریڈور میں حرکت کر رہے تھے۔ "خاموش! اگر تم زندہ رہنا چاہتی ہو تو اپنی زبان بند رکھو۔"
*موت کا کھیل۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہریز بڑی صفائی سے صوفے کے پیچھے سے نکلا اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آوروں کی طرف بڑھا۔ زویا وہیں دبک کر بیٹھی رہی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس پر یقین کرے۔ اس شخص پر جس نے اسے ابھی بچایا تھا، یا اس یو ایس بی پر جس نے اسے قاتل قرار دیا تھا؟
اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا اور شیشے ٹوٹنے کی آواز آئی۔ زویا نے دیکھا کہ شاہریز ایک حملہ آور کے ساتھ گتھم گتھا تھا۔ وہ نہایت مہارت سے لڑ رہا تھا، جیسے یہ اس کے لیے کوئی نئی بات نہ ہو۔ چند ہی لمحوں میں اس نے حملہ آور کو بے بس کر دیا، لیکن دوسرا شخص بندوق تانے زویا کی طرف بڑھ رہا تھا۔
"شاہریز!" زویا زور سے چلائی۔۔۔۔
شاہریز نے بجلی کی تیزی سے مڑ کر گولی چلائی۔ گولی سیدھی حملہ آور کے کندھے میں لگی اور وہ تلملا کر گر گیا۔ باقی لوگ پولیس کے سائرن کی آواز سن کر فرار ہو گئے۔
(سچ کی تلاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد، ہوٹل کے باہر ایمبولینس اور پولیس کی گاڑیاں موجود تھیں۔ شاہریز کے ہاتھ پر ہلکی سی خراش آئی تھی، لیکن وہ بالکل پرسکون کھڑا انسپکٹر کو بیانات دے رہا تھا۔
زویا ایک کمبل میں لپٹی گاڑی کے پاس بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ ایک پہیلی بن چکا تھا۔
جب شاہریز گاڑی کے پاس آیا، تو زویا نے وہی یو ایس بی اس کی طرف بڑھائی۔ "اگر آپ قاتل ہوتے، تو آپ مجھے مرنے کے لیے چھوڑ دیتے۔ اس میں کیا ہے؟ میں ابھی دیکھنا چاہتی ہوں۔"
شاہریز نے سرد نظروں سے اسے دیکھا اور یو ایس بی اپنے لیپ ٹاپ میں لگا دی۔ اسکرین پر کچھ فائلیں کھلیں—وہ تصاویر تھیں، لیکن شاہریز کی نہیں۔ وہ تصاویر اسی بوڑھے آدمی کی تھیں جس نے زویا کو وہ یو ایس بی دی تھی، اور اس کے ساتھ زویا کے بھائی کی کچھ پرانی ای میلز تھیں۔
"یہ... یہ تو میرے بھائی کی ای میلز ہیں،" زویا نے حیرت سے کہا۔
شاہریز نے ایک ای میل کھولی۔ اس میں زویا کے بھائی نے لکھا تھا: "شاہریز، مجھے ڈر ہے کہ مسٹر ہاشمی (وہ بوڑھا آدمی) کمپنی کے فنڈز چوری کر رہے ہیں۔ وہ مجھے دھمکا رہے ہیں۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو زویا کا خیال رکھنا۔"
زویا کے سر پر جیسے آسمان گر پڑا۔ "مطلب... آپ میرے بھائی کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے؟"
شاہریز نے لیپ ٹاپ بند کر دیا۔ "تمہارے بھائی کی موت ایک حادثہ نہیں تھی، لیکن وہ میں نے نہیں کروایا تھا۔ میں ان لوگوں کو ڈھونڈ رہا تھا جنہوں نے اسے مارا، اور تم نے یہاں آ کر میرا کام مشکل کر دیا۔"
(نیا موڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تو آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟" زویا نے روتے ہوئے پوچھا۔ "آپ نے مجھ سے اتنی نفرت کیوں ظاہر کی؟"
شاہریز زویا کے قریب آیا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ اس کی آنکھوں میں پہلی بار نرمی آئی تھی۔ "کیونکہ دشمن تمہاری کمزوری کا فائدہ اٹھاتے، زویا۔ جب تک تم مجھ سے نفرت کرتی رہیں، تم محفوظ تھیں۔ لیکن اب... اب وہ جانتے ہیں کہ تم میری طاقت بن سکتی ہو۔"
اسی وقت شاہریز کے فون پر ایک کال آئی۔ اس نے کال اٹھائی اور اس کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا۔
"کیا؟ دادی جان کہاں ہیں؟"
اس نے فون بند کیا اور زویا کی طرف دیکھا۔ "وہ دادی کو لے گئے ہیں۔ وہ تمہیں اور مجھے الگ کرنا چاہتے ہیں۔"
دادی کو کس نے اغوا کیا؟ کیا یہ مسٹر ہاشمی کا کام ہے یا کوئی اور چھپا ہوا دشمن؟
کیا شاہریز اور زویا اب مل کر اپنے دشمنوں کا مقابلہ کریں گے؟
زویا کے دل میں جو نفرت تھی، کیا وہ اب محبت کی پہلی سیڑھی بنے گی؟
(قسط نمبر: 6)
شاہریز نے اپنی گاڑی کی رفتار اتنی تیز کر دی تھی کہ سڑک پر موجود باقی گاڑیاں محض سائے کی طرح پیچھے چھوٹ رہی تھیں۔ اس کے جبڑے سختی سے بھینچے ہوئے تھے اور اسٹیئرنگ پر جمی انگلیاں سفید پڑ رہی تھیں۔
"شاہریز! پلیز آرام سے چلائیں، ہم کسی حادثے کا شکار ہو جائیں گے،" زویا نے خوفزدہ ہو کر ہینڈل کو مضبوطی سے پکڑا۔
خاموش رہو زویا! انہوں نے دادی کو ہاتھ لگایا ہے، وہ نہیں جانتے کہ انہوں نے کس کی موت کو دعوت دی ہے،" شاہریز کی آواز میں وہ دہکتا ہوا غصہ تھا جو زویا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
خوفناک ٹھکانہ
گاڑی شہر کے مضافات میں ایک پرانی فیکٹری کے سامنے رکی۔ ہر طرف خاموشی اور گھپ اندھیرا تھا۔ شاہریز نے گاڑی کی لائٹس بند کیں اور دستانے پہنتے ہوئے اپنا پستول دوبارہ چیک کیا۔
"تم گاڑی میں ہی رہوگی۔ تالا لگا لو اور جب تک میں نہ کہوں، باہر نہیں آنا،" اس نے دوٹوک لہجے میں کہا۔
"نہیں! میں آپ کو اکیلے نہیں جانے دوں گی۔ وہ میرے بھائی کا بھی بدلہ ہے،" زویا نے ضد کی۔
شاہریز نے مڑ کر اسے دیکھا، اس کی نظروں میں اس وقت غصہ کم اور فکر زیادہ تھی۔ اس نے زویا کا ہاتھ تھاما۔ "زویا، یہ جذباتی ہونے کا وقت نہیں ہے۔ اگر تمہیں کچھ ہو گیا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا۔"
یہ پہلا موقع تھا جب شاہریز نے اپنی جذبات کا یوں اظہار کیا تھا۔ زویا کے دل میں جیسے کچھ پگھلنے لگا، لیکن اس نے سر ہلا کر اسے اندر جانے کی اجازت دے دی۔
آمنے سامنے
شاہریز اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فیکٹری کے اندر داخل ہوا۔ اندر ایک کرسی پر دادی جان بندھی ہوئی تھیں اور ان کے گرد مسٹر ہاشمی کے مسلح آدمی کھڑے تھے۔ مسٹر ہاشمی سامنے میز پر بیٹھے وہی پرانی فائلیں دیکھ رہے تھے۔
"باہر آ جاؤ شاہریز شاہ! مجھے معلوم ہے تم آ چکے ہو،" مسٹر ہاشمی کی کرخت آواز گونجی۔
شاہریز سائے سے نکل کر سامنے آ گیا۔ "دادی کو چھوڑ دو ہاشمی۔ تمہاری دشمنی مجھ سے ہے، ایک بوڑھی عورت سے نہیں۔"
"دشمنی؟ نہیں شاہریز، یہ تو کاروبار ہے۔ مجھے وہ شیئرز چاہئیں جو تم نے زویا کے نام کیے ہیں۔ ابھی اس فائل پر دستخط کرو، ورنہ..." اس نے دادی کی کنپٹی پر ریوالور رکھ دیا۔
دادی کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ "نہیں شاہریز! دستخط مت کرنا۔ یہ لوگ کبھی باز نہیں آئیں گے۔"
(زویا کا ایکشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باہر گاڑی میں بیٹھی زویا سے رہا نہیں گیا۔ اس نے دیکھا کہ فیکٹری کے پچھلے حصے میں ایک چھوٹی کھڑکی کھلی ہے۔ وہ خاموشی سے گاڑی سے نکلی اور دیوار کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی وہاں تک پہنچی۔
اندر کا منظر دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک گارڈ شاہریز کی پشت پر نشانہ باندھے ہوئے ہے۔ زویا نے قریب پڑی ایک لوہے کی راڈ اٹھائی اور پوری قوت سے اس گارڈ کے سر پر ماری۔
گارڈ کراہ کر گرا، اور اس شور نے سب کی توجہ بانٹ دی۔
"زویا!" شاہریز چلایا۔
اسی لمحے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہریز نے اپنی پوزیشن بدلی اور فائرنگ شروع کر دی۔ فیکٹری گولیوں کی آواز سے گونج اٹھی۔ شاہریز نے کمال مہارت سے دو گارڈز کو وہیں ڈھیر کر دیا اور لپک کر دادی کے پاس پہنچا۔
(آخری ٹکراؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:مسٹر ہاشمی بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے کہ زویا نے ان کا راستہ روک لیا۔ "آپ نے میرے بھائی کو مارا، اب آپ کہیں نہیں جا سکتے۔"
ہاشمی نے زویا پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی، لیکن اس سے پہلے کہ وہ اسے چھو پاتے، شاہریز نے ان کی کلائی مروڑ کر انہیں زمین پر پٹخ دیا۔
"زویا کو ہاتھ لگانے کی جرات بھی مت کرنا،" شاہریز کی آواز میں موت کا پیغام تھا۔ اس نے پولیس کو پہلے ہی انفارم کر دیا تھا، جن کی گاڑیاں اب فیکٹری کے باہر پہنچ چکی تھیں۔
(سکون کا سانس)
کچھ دیر بعد، دادی محفوظ تھیں اور پولیس ہاشمی کو لے جا چکی تھی۔ شاہریز اور زویا فیکٹری سے باہر آئے۔ صبح کا سورج طلوع ہو رہا تھا، جس کی پہلی کرنیں ان دونوں کے چہروں پر پڑ رہی تھیں۔
شاہریز نے زویا کی طرف دیکھا، جس کے ماتھے پر مٹی لگی تھی لیکن آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک تھی۔
"تم نے اپنی جان خطرے میں ڈالی،" شاہریز نے دھیمی آواز میں کہا۔
"میں نے وہی کیا جو آپ میرے لیے کر رہے تھے،" زویا نے مسکرا کر جواب دیا۔
شاہریز نے ایک لمبی سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھا۔ "شاید اب سدیوں کا یہ حساب برابر ہو گیا ہے۔"
انتقام کی آگ اب ٹھنڈی ہو چکی تھی اور "شاہ ولا" کی فضاؤں میں پہلی بار خوشیوں کی مہک رچی تھی۔ دشمن قید میں تھے اور اب وقت تھا ان زخموں کو بھرنے کا جو برسوں سے ادھورے تھے۔
(قسط نمبر: 7)
(پیلا رنگ اور ہلدی کی خوشبو)
*حویلی کا لان آج زرد رنگ کے پھولوں سے مہک رہا تھا۔ چاروں طرف پیلی اور سفید رنگ کی چادریں لٹک رہی تھیں۔ زویا اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی تھی، زرد رنگ کے ریشمی جوڑے میں وہ خود ایک پھول لگ رہی تھی۔
"شاہریز بھائی آ گئے!" مراد نے شرارت سے شور مچایا۔
شاہریز سفید لٹھے کا کرتا پہنے، کندھے پر زرد رنگ کا رومال ڈالے نہایت پرکشش لگ رہا تھا۔ وہ سیدھا زویا کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ دادی جان نے چاندی کی کٹوری میں ہلدی نکالی۔
"چلو شاہریز، اپنی دلہن کو ہلدی لگاؤ،" دادی نے مسکرا کر کہا۔
شاہریز نے اپنی انگلیاں ہلدی میں بھگوئیں اور بہت دھیرے سے زویا کی گالوں پر لکیر کھینچی۔ زویا نے شرما کر آنکھیں بند کر لیں تو شاہریز نے اس کے کان میں سرگوشی کی، "یہ رنگ تم پر بہت جچ رہا ہے، لیکن جو سرخی میرے نام سے تمہارے چہرے پر آتی ہے، اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔"
(ہلدی کا ڈانس (Song: Luddi He Jamalo)
٭میوزک بجا تو زویا کی کزنز نے اسے کھینچ کر اسٹیج پر لا کھڑا کیا۔ سب نے ہاتھ میں پیلی ڈھالیں (Props) پکڑ رکھی تھیں۔
(گانے کے بول گونجے:
"لڈی ہے جمالو پاوے لڈی ہے جمالو..."
زویا نے اپنی مہندی لگی ہتھیلیوں کو گھماتے ہوئے جب ٹھمکا لگایا تو شاہریز اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔ وہ بس اسے دیکھتا رہ گیا کہ کیسے یہ تیکھے تیوروں والی لڑکی آج خوشی سے نہال تھی۔ زویا نے ڈانس کے دوران شاہریز کو آنکھ ماری تو پورے ہال میں سیٹیاں گونج اٹھیں۔۔۔۔۔
(قسط نمبر: 7 (حصہ دوم: مہندی کی رات اور رومانوی رقص)
اگلی شام مہندی کی تھی۔ فضا میں صندل اور عود کی خوشبو رچی تھی۔ زویا نے فیروزی اور گلابی رنگ کا بھاری لہنگا پہنا تھا، اور اس کے ہاتھوں پر شاہریز کے نام کی گہری مہندی چڑھ چکی تھی۔
مہندی لگانے والی نے جب زویا کی ہتھیلی پر باریک حروف میں 'ش' لکھا، تو زویا کا دل ایک بار پھر دھڑک اٹھا۔
مہندی کا کپل ڈانس (Song: Afreen Afreen)
"اب باری ہے آج کے جوڑے کی!" سب نے اصرار کیا۔
شاہریز نے زویا کا ہاتھ تھاما اور اسے اسٹیج کے درمیان لے آیا۔ لائٹس مدہم ہو گئیں اور صرف ایک اسپاٹ لائٹ ان دونوں پر تھی۔ 'آفرین آفرین' کی دھیمی دھن فضا میں بکھرنے لگی۔
شاہریز نے ایک ہاتھ زویا کی کمر پر رکھا اور دوسرا اس کے ہاتھ میں لیا۔ وہ دونوں موسیقی کی تھاپ پر ایک دوسرے کی آنکھوں میں کھوئے ہوئے دائروں میں گھوم رہے تھے۔
(گانے کے بول:
"ایسا دیکھا نہیں خوبصورت کوئی، جسم جیسے اجالا، بدن مرمریں…"
شاہریز نے زویا کو اپنی طرف کھینچا تو اس کی پیشانی شاہریز کے سینے سے ٹکرائی۔ زویا نے دھڑکتے دل کے ساتھ سر اٹھایا تو شاہریز نے اس کی کمر میں گرفت مضبوط کر لی۔ اس لمحے دنیا ان کے لیے تھم گئی تھی۔ نفرت کی جگہ اب بے پناہ تڑپ اور چاہت نے لے لی تھی۔
"تم میری زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت ہو زویا،" شاہریز نے سب کی پرواہ کیے بغیر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے۔
(نکاح: دو روحوں کا ملاپ)
رات کے آخری پہر، جب شبنم گر رہی تھی، نکاح کی رسم ہوئی۔ زویا نے "قبول ہے" کہا تو اس کی آنکھوں سے خوشی کا ایک آنسو نکل کر اس کے ہاتھ پر لگی مہندی پر گرا۔
شاہریز نے نکاح نامے پر دستخط کیے تو اسے لگا جیسے اس نے اپنی پوری کائنات پر مہر لگا دی ہو۔
رخصتی کے وقت جب شاہریز نے زویا کا ہاتھ تھام کر اسے گاڑی کی طرف لے جانا چاہا، تو زویا تھوڑا سا ہچکچائی۔ شاہریز نے اس کا ہاتھ چوما اور دھیرے سے کہا، "ڈرو مت، اب تم شاہریز شاہ کے حصار میں ہو، جہاں کوئی غم تمہیں چھو کر بھی نہیں گزر سکتا۔"
لیکن وہ دونوں نہیں جانتے تھے کہ حویلی کے پرانے گیٹ کے پیچھے ایک سایہ اب بھی ان کی بربادی کے منصوبے بن رہا تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
کیا یہ شادی ان دونوں کو ہمیشہ کے لیے ایک کر دے گی؟
وہ گمنام دشمن کون ہے جو ان کی پہلی رات کو ڈراونا خواب بنانا چاہتا ہے؟
شاہریز زویا کو شادی کے تحفے میں کیا سرپرائز (Surprise) دے گا؟
(قسط نمبر: 8)
:حویلی کا خاص کمرہ سفید گلابوں اور موتیا کی لڑیوں سے مہک رہا تھا۔ مدہم روشنیوں نے پورے ماحول کو سحر انگیز بنا دیا تھا۔ بیڈ پر سرخ گلاب کی پتیوں کا قالین بچھا تھا۔ زویا، جو اب "زویا شاہریز شاہ" بن چکی تھی، بیڈ کے بیچوں بیچ بیٹھی اپنے ہاتھوں کی مہندی کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل سینے میں ایسے دھڑک رہا تھا جیسے کوئی پرندہ قید سے نکلنے کے لیے تڑپ رہا ہو۔
دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی۔ شاہریز اندر داخل ہوا تھا۔ اس نے اپنا شیروانی کا بٹن کھولا اور گھڑی میز پر رکھی۔ کمرے میں چھائی خاموشی اتنی گہری تھی کہ زویا کو شاہریز کے قدموں کی چاپ صاف سنائی دے رہی تھی۔
شاہریز اس کے بالکل سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے جھک کر زویا کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔ زویا نے شرما کر نظریں مزید جھکا لیں۔
"آج تمہاری یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے، زویا،" شاہریز کی آواز میں وہ مخصوص بھاری پن اور پیار تھا جو صرف اس کے لیے مخصوص تھا۔
اس نے نہایت نرمی سے زویا کا گھونگھٹ اٹھایا۔ سامنے چاند جیسا روشن چہرہ تھا، جس پر حیا کی سرخی چھائی ہوئی تھی۔ شاہریز چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گیا، جیسے وہ اس حسن کو اپنی آنکھوں میں قید کر رہا ہو۔
"ماشاءاللہ..." اس کے لبوں سے نکلا۔ اس نے زویا کی ٹھوڑی پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا۔ "آج سے تم صرف میری شریکِ حیات نہیں، میری زندگی، میرا غرور اور میرا سکون ہو۔"
زویا کی پلکیں لرزیں۔ "اور آپ میرا وہ خواب ہیں جسے میں نے کھو کر پایا ہے۔"
شاہریز نے آہستہ سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، اور پھر اس کے قریب ہوتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کی، "پانچ سال کی دوری کا حساب بہت لمبا ہے زویا... کیا خیال ہے؟ آج سے یہ حساب شروع کریں؟"
زویا نے مسکرا کر اپنا سر اس کے مضبوط سینے پر ٹکا دیا۔ شاہریز نے اپنی بانہیں اس کے گرد پھیلا دیں، جیسے وہ اسے دنیا کے ہر دکھ سے چھپا لینا چاہتا ہو۔ اس رات چاند بھی گواہ تھا کہ نفرت جب محبت میں بدلتی ہے، تو وہ کتنی لازوال ہو جاتی ہے۔
(اگلی صبح: ایک نیا سرپرائز۔۔۔۔۔۔۔۔
:سورج کی پہلی کرن نے جب کمرے میں دستک دی، تو زویا کی آنکھ کھلی۔ اس نے دیکھا کہ شاہریز سائیڈ ٹیبل پر ایک خوبصورت مخملی ڈبہ رکھے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"صبح بخیر، مسز شاہریز شاہ،" اس نے مسکرا کر کہا۔
"صبح بخیر،" زویا نے جواب دیا، اس کی آواز میں ابھی بھی رات کا خمار تھا۔
شاہریز نے وہ ڈبہ اس کی طرف بڑھایا۔ "یہ تمہارا منہ دکھائی کا تحفہ ہے۔"
زویا نے ڈبہ کھولا تو اندر ہیروں کا ایک نفیس ہار چمک رہا تھا، لیکن اس کے نیچے ایک کاغذ تھا۔ زویا نے وہ کاغذ کھولا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ ان لوگوں کی گرفتاری کے آرڈرز تھے جنہوں نے اس کے بھائی کے ساتھ زیادتی کی تھی، اور ساتھ ہی وہ تمام جائیداد اب دوبارہ زویا کے نام ہو چکی تھی جو کبھی تنازعہ تھی۔
"یہ سب سے بہترین تحفہ ہے، شاہریز،" زویا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
شاہریز نے اسے اپنے قریب کھینچا۔ "تمہاری مسکراہٹ سے قیمتی کچھ نہیں ہے۔"
(ایک نیا موڑ)
ناشتے کی میز پر سب خوش تھے، لیکن اچانک ملازم نے آ کر شاہریز کو ایک لفافہ تھمایا۔ اس پر کوئی نام نہیں تھا، صرف ایک کالا نشان بنا ہوا تھا۔
شاہریز نے جیسے ہی وہ لفافہ کھولا، اس کے اندر ایک پرانی تصویر تھی—جس میں شاہریز کے والد اور ایک اجنبی شخص کھڑے تھے، اور اس تصویر پر خون کے چھینٹے تھے۔
شاہریز کا چہرہ ایک دم سخت ہو گیا۔ زویا نے اس کا بدلا ہوا رنگ دیکھا۔ "کیا ہوا شاہریز؟"
"کچھ نہیں، تم ناشتہ کرو،" شاہریز نے وہ تصویر جیب میں چھپائی، لیکن اس کی آنکھوں میں اب دوبارہ وہی پرانی جنگ والی چمک آ گئی تھی۔ ماضی کا ایک اور باب کھلنے والا تھا۔
وہ تصویر کس نے بھیجی اور اس میں موجود دوسرا شخص کون ہے؟
کیا شاہریز کا ماضی ان کی نئی نویلی خوشیوں کو برباد کر دے گا؟
زویا جب اس سچ کو جانے گی تو کیا وہ شاہریز کا ساتھ دے گی؟
(قسط نمبر: 9)
ناشتے کی میز پر قہقہے اچانک تھم گئے تھے۔ شاہریز کی گرفت اس کالے نشان والے لفافے پر اتنی سخت تھی کہ کاغذ مڑنے لگا تھا۔ زویا، جو ابھی کچھ دیر پہلے اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت صبح گزار کر آئی تھی، شاہریز کے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر لرز گئی۔
"شاہریز؟ آپ خاموش کیوں ہو گئے؟ کیا ہے اس خط میں؟" زویا نے دھیرے سے اس کا ہاتھ چھونا چاہا، لیکن شاہریز جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا۔
"کچھ نہیں زویا! میں نے کہا نا کچھ نہیں ہے۔ بس بزنس کی کچھ فائلیں ہیں،" شاہریز کی آواز میں وہ سختی واپس آ گئی تھی جو نکاح سے پہلے ہوا کرتی تھی۔
دادی جان نے فکر مندی سے شاہریز کو دیکھا۔ "بیٹا، آج تمہاری شادی کا پہلا دن ہے، کام کو تھوڑی دیر کے لیے سائیڈ پر رکھ دو۔"
"معاف کیجئے گا دادی، کچھ کام انتظار نہیں کر سکتے،" شاہریز نے تیکھی نظروں سے زویا کو دیکھا اور تیز قدموں سے لائبریری کی طرف بڑھ گیا۔
(لائبریری میں ٹکراؤ)
زویا خاموش رہنے والوں میں سے نہیں تھی۔ وہ جانتی تھی کہ شاہریز کچھ چھپا رہا ہے۔ وہ اس کے پیچھے لائبریری میں چلی آئی۔ شاہریز وہاں کھڑا وہی تصویر غور سے دیکھ رہا تھا۔
"شاہریز شاہ! اب ہم میاں بیوی ہیں۔ آپ مجھ سے سچ نہیں چھپا سکتے،" زویا نے کمرے میں داخل ہوتے ہی دو ٹوک لہجے میں کہا۔
شاہریز مڑا، اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔ "زویا، ہر سچ جاننا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ سچ زہر ہوتے ہیں۔"
"تو مجھے وہ زہر پینا منظور ہے، بشرطیکہ وہ آپ سے جڑا ہو،" زویا نے ہمت کر کے اس کے ہاتھ سے وہ تصویر چھین لی۔
تصویر دیکھتے ہی زویا کے ہاتھ کانپنے لگے۔ تصویر میں شاہریز کے والد، سکندر شاہ، ایک ادھیڑ عمر شخص کے ساتھ کھڑے تھے جس کے چہرے پر ایک بڑا سا نشان تھا۔ لیکن سب سے زیادہ خوفناک چیز وہ خون کا دھبہ تھا جو براہ راست شاہریز کے والد کے چہرے پر لگا تھا۔
"یہ کون ہے شاہریز؟" زویا نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
شاہریز نے ایک لمبی سانس لی اور کرسی پر ڈھیر ہو گیا۔ "یہ ’مرتضیٰ باجوہ‘ ہے۔ میرے والد کا سابقہ بزنس پارٹنر۔ لوگ کہتے ہیں کہ میرے والد نے اسے دھوکا دیا اور اسے خودکشی پر مجبور کیا، لیکن سچ یہ ہے کہ اس نے خود کو روپوش کر لیا تھا۔ یہ خون کا نشان ایک پیغام ہے... وہ واپس آ گیا ہے، زویا۔"
(خوفناک گفتگو)
زویا نے تصویر میز پر رکھی اور شاہریز کے پاس فرش پر بیٹھ کر اس کے ہاتھ تھام لیے۔ "اگر وہ واپس آ گیا ہے تو ہم پولیس کے پاس جائیں گے۔ ہم اسے دوبارہ آپ کی زندگی برباد نہیں کرنے دیں گے۔"
شاہریز تلخی سے ہنسا۔ "پولیس؟ زویا، وہ قانون سے نہیں کھیلتا، وہ جذبوں سے کھیلتا ہے۔ اس نے یہ تصویر بھیج کر بتایا ہے کہ اسے معلوم ہے میری کمزوری کیا ہے۔"
"آپ کی کمزوری؟"
شاہریز نے زویا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا، اس کی آنکھوں میں بے پناہ تڑپ تھی۔ "تم، زویا! تم میری وہ کمزوری ہو جس کا فائدہ اٹھا کر وہ مجھے گھٹنوں پر لا سکتا ہے۔ اس نے میرے بھائی کو مجھ سے چھینا، اور اب وہ تمہاری طرف اشارہ کر رہا ہے۔"
زویا کا دل ڈوبنے لگا۔ "مطلب... میرے بھائی کی موت کے پیچھے بھی وہی تھا؟"
"ہاں،" شاہریز نے سر جھکا لیا۔ "میں تمہیں سچ نہیں بتا سکا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ تم دوبارہ اس خوف میں جیو۔ میں نے سوچا تھا کہ میں اسے ختم کر چکا ہوں، لیکن میں غلط تھا۔"
(دشمن کی پہلی چال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی وقت شاہریز کے فون پر ایک ویڈیو کال آئی۔ شاہریز نے کانپتے ہاتھوں سے کال اٹھائی۔ اسکرین پر وہی شخص، مرتضیٰ باجوہ، نظر آ رہا تھا۔ اس کے پیچھے ایک اندھیرا کمرہ تھا جہاں سے کسی کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔
"خوش آمدید شاہریز شاہ! شادی بہت بہت مبارک ہو،" مرتضیٰ کی آواز کسی سانپ کی سرسراہٹ جیسی تھی۔ "دلہن بہت پیاری ہے، بالکل ویسی ہی جیسی تمہاری ماں تھی... جسے سکندر شاہ بچا نہیں سکا تھا۔"
"مرتضیٰ! اگر تم نے زویا یا میری فیملی کو چھونے کی کوشش کی تو میں تمہیں زندہ گاڑ دوں گا!" شاہریز دھاڑا۔
اوہ، غصہ نہیں میرے بچے۔ ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے۔ تمہاری پیاری بیوی کے پاس ایک ایسا راز ہے جو اس نے تم سے بھی چھپایا ہے۔ کیوں زویا؟ کیا تم نے شاہریز کو بتایا کہ لندن میں تمہارا 'گارڈین' کون تھا؟"
شاہریز نے حیرت سے زویا کی طرف دیکھا۔ زویا کا رنگ پیلا پڑ گیا، جیسے اس کے جسم سے خون نچوڑ لیا گیا ہو۔
"زویا؟ یہ کیا کہہ رہا ہے؟" شاہریز کی آواز میں شک کا پہلا بیج بو دیا گیا تھا۔
زویا کے لب سلے ہوئے تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن آواز حلق میں پھنس گئی تھی۔
شکست اور ریگزاروں کی دھول جب رشتوں پر پڑتی ہے، تو اعتبار کے شیشے چٹخنے لگتے ہیں۔ یہ قسط اس ناول کا سب سے تکلیف دہ موڑ ہے، جہاں محبت کی عمارت شک کے زلزلے سے لرز اٹھی ہے۔
(قسط نمبر: 10)
لائبریری کی دیواروں پر لگی تصویریں جیسے زویا کا مذاق اڑا رہی تھیں۔ شاہریز کی نظریں، جو کل تک زویا کے لیے محبت کا سمندر تھیں، اب آگ کے انگارے بن چکی تھیں۔
"بولو زویا! خاموش کیوں ہو؟" شاہریز کی آواز کی گونج کمرے میں کسی کوڑے کی طرح لگی۔ "کیا یہ سچ ہے کہ لندن میں تمہارا 'گارڈین' مرتضیٰ باجوہ تھا؟ وہی شخص جس نے میرے باپ کو برباد کیا اور میرے بھائی کا خون بہایا؟"
زویا کے لب تھرتھرائے، آنکھوں سے آنسو بہہ کر نکاح کے سرخ جوڑے پر گرنے لگے۔ "شاہریز، میری بات سنیں... میں نہیں جانتی تھی کہ وہ شخص کون ہے۔ وہ ایک این جی او (NGO) کے ذریعے میری مدد کر رہا تھا۔ مجھے لگا وہ کوئی نیک انسان ہے جو یتیموں کا سہارا بنتا ہے۔"
"نیکی؟" شاہریز تلخی سے ہنسا، ایسی ہنسی جس میں صرف درد تھا۔ "تم نے میرے دشمن کی روٹی کھائی زویا! تم اس کے سائے میں پلیں جس نے میری زندگی اجاڑی۔ اسلام میں تو عورت کو حیا اور عقل کا پیکر کہا گیا ہے، کیا تمہاری عقل پر اس وقت پردہ پڑ گیا تھا جب تم ایک انجانے شخص سے احسان لے رہی تھیں؟"
(نفرت اور دکھ کے بول)
شاہریز زویا کے قریب آیا، اس کا لہجہ اب زہر میں بجھا ہوا تھا۔ "میں نے تمہارے لیے اپنے اصول توڑے، تمہیں اپنا نام دیا، اپنی روح کا حصہ بنایا۔ اور تم؟ تم میرے ہی قاتل کی آستین کا سانپ نکلیں۔"
زویا نے تڑپ کر اس کا ہاتھ تھاما۔ "خدا کے لیے ایسا مت کہیں۔ میں نے کبھی آپ سے غداری نہیں کی۔ میرا بھائی مرا، میں اکیلی تھی، مجھے سہارے کی ضرورت تھی—"
"سہارا اپنوں سے مانگا جاتا ہے، دشمن سے نہیں!" شاہریز نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ "تمہارا یہ معصوم چہرہ... اب مجھے اس سے کراہیت ہو رہی ہے۔ تم میرے لیے اب وہی زویا ہو جس سے میں پانچ سال پہلے نفرت کرتا تھا۔ بلکہ اب تو نفرت بھی کم لفظ ہے۔"
زویا فرش پر گر گئی، اس کا وجود دکھ کی شدت سے ٹوٹ رہا تھا۔ "شاہریز، قرآن کہتا ہے کہ 'اور وہ جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اللہ ایسے صابرین کو پسند کرتا ہے'۔ کیا آپ مجھے ایک موقع بھی نہیں دیں گے؟"
"معافی ان گناہوں کی ہوتی ہے جو نادانی میں ہوں، غداری کی نہیں،" شاہریز نے مڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھا جہاں بارش شروع ہو چکی تھی۔ "تم آج ہی یہ گھر چھوڑ دو گی۔ میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا کیونکہ وہ میرے نزدیک سب سے ناپسندیدہ فعل ہے، لیکن تم اب اس گھر کی 'شاہ بیگم' بھی نہیں رہو گی۔"
زویا نے اپنے آنسو پونچھے اور وقار کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ "ٹھیک ہے شاہریز شاہ۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں غدار ہوں، تو میں چلی جاؤں گی۔ لیکن یاد رکھیے گا، اللہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا بہترین منصف ہے۔ آپ کا غرور آپ کو سچ دیکھنے نہیں دے رہا۔"
وہ کمرے سے نکل گئی، پیچھے شاہریز اکیلا رہ گیا جس کا دل اب کسی بنجر زمین کی طرح پیاسا تھا۔ اس نے غصے میں میز پر پڑا گلدان دیوار پر دے مارا، لیکن سکون پھر بھی نہ ملا۔
جدائی کا منظر
زویا نے اپنا چھوٹا سا بیگ پکڑا۔ وہی بیگ جو وہ کل لائی تھی، لیکن آج اس میں خوشیاں نہیں، بلکہ کرچی کرچی ہوئے خواب تھے۔ دادی جان ہال میں کھڑی رو رہی تھیں، لیکن شاہریز کا حکم آخری تھا۔
زویا حویلی کے بڑے گیٹ سے باہر نکلی تو موسلا دھار بارش اس کے سرخ جوڑے کو بھگو رہی تھی۔ اس نے پیچھے مڑ کر ایک آخری بار اس بالکنی کو دیکھا جہاں شاہریز کھڑا اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔ دونوں کی آنکھوں میں دکھ تھا، مگر درمیان میں مرتضیٰ باجوہ کی بوئی ہوئی نفرت کی دیوار تھی۔
زویا سڑک پر چلنے لگی، اس کے پیروں میں مہندی کا رنگ ابھی تازہ تھا، لیکن اس کی زندگی کے رنگ اڑ چکے تھے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ "یا اللہ! تو ہی میرا گواہ ہے۔ اگر یہ امتحان ہے، تو مجھے ہمت دے۔"
نیا ٹوئسٹ)
شاہریز ابھی لائبریری میں ہی تھا کہ اسے ایک اور میسج موصول ہوا۔ وہ مرتضیٰ کا نہیں تھا، بلکہ زویا کے بھائی کی ایک پرانی ڈائری کا صفحہ تھا جو زویا کے بیگ سے گر گیا تھا۔
اس پر لکھا تھا: "آج ایک شخص جس کا نام مرتضیٰ ہے، وہ زویا کو اغوا کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ میں اسے لندن بھیج رہا ہوں تاکہ وہ محفوظ رہے، لیکن اسے سچ نہیں بتاؤں گا ورنہ وہ جیتے جی مر جائے گی۔"
شاہریز کے ہاتھ سے فون گر گیا۔ اسے احساس ہوا کہ زویا کو لندن بھیجنا اور اسے مرتضیٰ کے زیرِ اثر لانا خود اس کے بھائی کی مجبوری تھی تاکہ وہ شاہریز کی دشمنی سے بچ سکے۔
"میں نے یہ کیا کر دیا؟" شاہریز دیوانہ وار گیٹ کی طرف بھاگا۔ "زویا! زویا!"
لیکن باہر صرف اندھیری سڑک اور بارش کا شور تھا۔ زویا جا چکی تھی۔
(قسط نمبر: 11)
چھ سال بعد...
دبئی کا عالیشان "ایمریٹس مال" لوگوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن شاہریز شاہ کے گرد جیسے ایک خاموش حصار تھا۔ چھ سالوں میں شاہریز کی شخصیت پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور سرد ہو گئی تھی۔ اس کی آنکھوں کی چمک کہیں کھو گئی تھی، اور بالوں کی کنپٹیوں پر چاندی جھلکنے لگی تھی۔ وہ اب بھی "شاہریز گروپ" کا بے تاج بادشاہ تھا، مگر اندر سے ایک خالی مکان کی طرح تھا۔
شاہریز ایک کافی شاپ کے باہر فون پر کسی بزنس ڈیل میں مصروف تھا کہ اچانک اسے اپنے پیروں کے پاس ایک زوردار ٹکراؤ محسوس ہوا۔
ایک چھوٹا سا بچہ، جس نے نیلی جینز اور سفید شرٹ پہن رکھی تھی، اس کے مہنگے جوتے پر اپنی آئس کریم گرا چکا تھا۔
"اوہ ہو! مِسٹل (Mister)... آپ دیکھ کل (کر) نہیں چل سکتے؟ میلی (میری) آئس کلیم گِل (گر) گئی!"
شاہریز نے فون کان سے ہٹایا اور نیچے دیکھا۔ ایک چھ سال کا بچہ، جس کی آنکھیں بالکل زویا جیسی تھیں—وہی گہرائی، وہی تیزی—بڑے غصے سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی زبان میں ہلکی سی لکنت (تو تلا پن) تھی جو اسے مزید معصوم بنا رہی تھی۔
شاہریز کو عجیب سا جھٹکا لگا۔ اس بچے کو دیکھ کر اس کا دل کسی نامعلوم جذبے سے دھڑکنے لگا۔ اس نے جھک کر بچے کو دیکھا۔
"میری غلطی ہے؟ تم خود آ کر مجھ سے ٹکرائے ہو، چھوٹے میاں،" شاہریز نے زندگی میں پہلی بار کسی سے اتنے دھیمے لہجے میں بات کی۔
"جی نہیں! آپ فون میں گُھسے ہوئے تھے، جیسے کوئی جِن فون کے اِندل (اندر) ہو،" بچے نے کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے آنکھیں دکھائیں۔ "اب میلا (میرا) نقصان ہو گیا ہے، اب آپ مجھے نئی آئس کلیم دلاؤ، والنا (ورنہ) میں پولیس کو بلالوں گا!"
شاہریز کے لبوں پر برسوں بعد ایک حقیقی مسکراہٹ آئی۔ "اچھا؟ تم مجھے دھمکا رہے ہو؟ تمہارا نام کیا ہے؟"
بچے نے سینہ چوڑا کیا۔ "میلا نام 'شاز' ہے... شاز شاہریز!"
شاہریز کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کا پورا وجود لرزنے لگا۔ 'شاز شاہریز'؟ اس کا اپنا نام اس بچے کے نام کا حصہ تھا؟
"تمہارے پاپا کہاں ہیں؟" شاہریز نے لرزتی آواز میں پوچھا۔
بچے کی آنکھیں ایک پل کو اداس ہوئیں، پھر وہ تیکھے لہجے میں بولا، "میلے پاپا اللہ میاں کے پاس ٹالز (Stars) میں رہتے ہیں۔ مما کہتی ہیں وہ بہت اچھے تھے، بس تھوڑے سے بدتمیز تھے، اس لیے اللہ نے انہیں اپنے پاس بُلا لیا۔"
شاہریز کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ زویا نے اس کے بارے میں بچے کو کیا بتایا ہے۔ "بدتمیز..." اس نے دل میں دہرایا۔
"شاز! کہاں ہو تم؟" دور سے ایک جانی پہچانی، ریشمی مگر پر اعتماد آواز آئی۔
شاہریز کا دل جیسے رک گیا۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ مال کی بھیڑ کو چیرتی ہوئی وہ چلی آ رہی تھی۔ سیاہ عبایا اور سر پر حجاب، لیکن اس کے چہرے کا وقار پہلے سے کہیں زیادہ تھا۔ زویا!
زویا قریب آئی اور شاز کا ہاتھ پکڑا۔ "تمہیں منع کیا تھا نہ کہ اکیلے—"
اس کی بات ادھوری رہ گئی جب اس کی نظر سامنے کھڑے شخص پر پڑی۔ زویا کی آنکھوں میں جیسے وقت تھم گیا۔ چھ سال کی تپسیا، دکھ، بھوک اور اکیلے بچے کو پالنے کی تکلیف ایک پل میں اس کی نظروں کے سامنے لہرائی۔
"شاہریز شاہ..." زویا کے لبوں سے سرگوشی نکلی۔
شاہریز ایک قدم آگے بڑھا۔ "زویا! تم... تم یہاں ہو؟ اور یہ بچہ؟"
زویا نے فوراً خود کو سنبھالا۔ اس کی آنکھوں میں وہ پرانی محبت نہیں، بلکہ ایک ایسی برف تھی جو ہمالیہ کو بھی جما دے۔ اس نے شاز کو اپنے پیچھے چھپایا۔ "شاز، چلو یہاں سے۔"
"زویا، رک جاؤ! میرا بیٹا ہے یہ؟" شاہریز نے تڑپ کر اس کا راستہ روکا۔
زویا نے ایک طنزیہ ہنسی ہنسی۔ "بیٹا؟ جس شخص نے اپنی بیوی کو غداری کے الزام میں بارش میں گھر سے نکال دیا تھا، وہ آج باپ بننے کا دعویٰ کر رہا ہے؟ شاہریز شاہ، اس بچے کا کوئی باپ نہیں ہے۔ اس کے باپ کا انتقال اسی رات ہو گیا تھا جس رات آپ نے مجھ پر شک کیا تھا۔"
"زویا، مجھے سب معلوم ہو گیا تھا۔ میں نے تمہیں ہر جگہ ڈھونڈا، لندن، پاکستان، ہر جگہ! میں نے اپنی غلطی کی تلافی کرنی چاہی—
"تلافی؟" زویا نے اسے بیچ میں ٹوکا۔ اس کی آواز میں وہ درد تھا جو شاہریز کے کلیجے کو چیر رہا تھا۔ "اسلام نے تو معافی اور درگزر کا سبق دیا تھا، لیکن آپ نے تو مصلحت کی چادر اوڑھ لی تھی۔ میں سڑکوں پر سوئی ہوں شاہریز۔ میں نے لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اس بچے کو پالا ہے تاکہ میں آپ کے 'خون' کا احسان نہ لوں۔"
شاز نے زویا کا ہاتھ کھینچا۔ "مما! یہ گندے انکل آپ کو لُلا (رُلا) رہے ہیں؟ میں انہیں مال دوں گا (ماروں گا)!"
شاہریز جھک کر شاز کے پاس بیٹھنا چاہا، لیکن زویا نے اسے پیچھے کر دیا۔ "ہاتھ مت لگائیے گا۔ اس پر صرف میرا حق ہے۔ آپ کے پاس آپ کا غرور اور آپ کی دولت ہے، وہی سنبھال کر رکھیں۔"
"زویا، خدا کے لیے، مجھے ایک موقع دو۔ دادی جان بیمار ہیں، وہ تمہیں یاد کرتی ہیں،" شاہریز نے ہاتھ جوڑ دیے۔
"دادی جان کے لیے میری دعائیں ہمیشہ رہیں گی، لیکن آپ کے لیے میرے دل میں اب صرف خاموشی ہے۔ آپ نے حساب برابر کرنے کا کہا تھا نہ؟ لیجئے، حساب برابر ہو گیا۔ آپ نے مجھے تنہا کیا، اللہ نے مجھے یہ تحفہ دے کر آپ سے زیادہ امیر کر دیا۔"
زویا نے شاز کا ہاتھ پکڑا اور مڑے بغیر تیز قدموں سے بھیڑ میں غائب ہو گئی۔ شاہریز وہیں مال کے بیچوں بیچ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس کے ارد گرد ہزاروں لوگ تھے، لیکن آج وہ واقعی دنیا کا غریب ترین انسان بن چکا تھا۔
(قسط نمبر: 12)
شاہریز شاہ نے ہار ماننا نہیں سیکھا تھا۔ اگر وہ بزنس میں ہاری ہوئی بازی پلٹ سکتا تھا، تو اپنی زندگی کی بازی کیسے ہار دیتا؟ زویا دبئی کے ایک درمیانے طبقے کے علاقے "القصیس"
(Al Qusais) میں ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہتی تھی اور ایک ڈیزائننگ فرم میں کام کرتی تھی۔
اگلے ہی دن، شاہریز نے زویا کے فلیٹ کے بالکل سامنے والا اپارٹمنٹ تین گنا قیمت دے کر خرید لیا۔
(پہلا ٹکراؤ: صبح کا منظر………
زویا صبح شاز کا اسکول بیگ سنبھالتی ہوئی باہر نکلی تو سامنے کا دروازہ کھلا۔ شاہریز شاہ، کچرے کا بیگ ہاتھ میں لیے، ہاف سلیوز شرٹ اور ٹراؤزر میں بالکل "عام پڑوسی" بن کر باہر نکلا۔
"صبح بخیر، پڑوسن جی!" شاہریز نے اتنی معصومیت سے کہا جیسے وہ برسوں سے وہیں رہ رہا ہو۔
زویا کے ہاتھ سے شاز کی واٹر بوتل چھوٹتے چھوٹتے بچی۔ "آپ؟ یہاں کیا کر رہے ہیں؟"
"کچھ نہیں، بس گھر بدلا ہے، تازہ ہوا کی تلاش تھی،" شاہریز نے مسکرا کر شاز کی طرف دیکھا۔ "ہیلو شاز! کیسے ہو میرے دوست؟"
شاز نے اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں سکیڑیں اور زویا کا ہاتھ تھام کر بولا، "مما! یہ وہی 'گندے انکل' ہیں نا جو کل مال (Mall) میں ملے تھے؟ یہ ہمالے (ہمارے) گڈھ (گھر) کے پاس کیا کل (کر) رہے ہیں؟"
شاہریز نے دل پر ہاتھ رکھا۔ "اوہ، چھوٹے میاں! گندے انکل نہیں، اب میں تمہارا نیا پڑوسی ہوں۔ اور دیکھو، میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں؟" اس نے پیچھے سے چاکلیٹس کا ایک بڑا ڈبہ نکالا۔
شاز کی رال ٹپکی، لیکن اس نے زویا کا چہرہ دیکھا اور فوراً منہ پھیر لیا۔ "نہیں! مما کہتی ہیں کہ اجنبی لوگوں سے 'ٹاکلیٹ' نہیں لیتے، والنا (ورنہ) پیٹ میں جِن گھُس جاتا ہے۔"
شاہریز نے زویا کی طرف دیکھا، جس کی آنکھوں میں طنز تھا۔ "جِن تو پہلے ہی گھس چکا ہے شاز، اب اسے نکالنا مشکل ہے۔" زویا نے شاہریز کو ایک سخت نظر سے نوازا اور شاز کو لے کر لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔
(کچن کی سیاست اور ناکام کوکنگ………..
دوپہر کے وقت زویا کچن میں پیاز کاٹ رہی تھی کہ اچانک اس کے اپارٹمنٹ کی گھنٹی بجی۔ دروازہ کھولا تو سامنے شاہریز ہاتھ میں ایک جلا ہوا فرائینگ پین لیے کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ دھوئیں سے تھوڑا کالا ہو رہا تھا۔
"وہ... زویا، ایکچولی میں آملیٹ بنا رہا تھا، لیکن وہ شاید 'کوئلہ' بن گیا۔ کیا تھوڑا نمک مل سکتا ہے؟" شاہریز نے اتنی بے چارگی سے کہا کہ زویا کو ہنسی آتے آتے رہ گئی۔
"شاہریز شاہ، آپ کو نمک نہیں، عقل کی ضرورت ہے۔ جا کر کسی ہوٹل سے کھا لیں،" زویا نے دروازہ بند کرنا چاہا لیکن شاہریز نے اپنا پیر بیچ میں دے دیا۔
"آہ! زویا، دیکھو پیر ٹوٹ گیا،" وہ کراہنے لگا۔
زویا پریشان ہو کر جھکی۔ "دکھائیں، کہاں لگی؟"
جیسے ہی وہ جھکی، شاہریز نے دھیرے سے کہا، "یہاں... دل پر لگی ہے۔ چھ سال سے لگ رہی ہے۔"
زویا فوراً سیدھی ہوئی اور غصے سے بولی، "اپنی یہ فلمی ڈائیلاگ بازی اپنے پاس رکھیں۔ آپ جتنا بھی ناٹک کر لیں، میں وہ رات نہیں بھولی جب آپ نے میری ایک نہیں سنی تھی۔"
(شاز اور شاہریز کی "سیکریٹ میٹنگ")
شام کو جب زویا شاپنگ کے لیے نیچے گئی، تو شاہریز نے موقع پا کر شاز کو کوریڈور میں پکڑ لیا، جو اپنی سائیکل چلا رہا تھا۔
"شاز، ایک ڈیل کرو گے؟" شاہریز اس کے برابر میں بیٹھ گیا۔
"کیسی ڈیل؟" شاز نے مشکوک ہو کر پوچھا۔
"تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہاری مما کو کیا پسند ہے، اور میں تمہیں روزانہ 'لیگو سیٹ' (Lego Set) دلاؤں گا۔"
شاز نے تھوڑی دیر سوچا، پھر انگلی ٹھوڑی پر رکھ کر بولا، "مما کو 'پِل مچی' (Fried Fish) پسند ہے، لیکن وہ مجھے نہیں کھلاتی کیونکہ اس میں 'کانٹے' ہوتے ہیں۔ اور مما رات کو آپ کی فوٹو دیکھ کل (کر) روتی بھی ہیں۔"
شاہریز کا دل بھر آیا۔ اس نے شاز کو گلے لگا لیا۔ "تمہاری مما بہت اچھی ہیں شاز۔"
"ہاں، لیکن آپ بہت بُلے (برے) ہیں! آپ نے مما کو کیوں لُلایا؟" شاز نے اس کے سینے پر چھوٹا سا مکا مارا۔
"میں اسے ٹھیک کرنے آیا ہوں، چیمپیئن۔ کیا تم میری مدد کرو گے؟"
شاز نے تھوڑی دیر نخرہ دکھایا، پھر ہاتھ ملایا۔ "ٹھیک ہے، لیکن مجھے وہ بڑا والا 'لائٹننگ میکوئن' (Cars toy) چاہیے۔"
اوکے (Done) چیمپئن بوائے۔۔۔۔۔۔۔
(رات کا منظر۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو زویا نے دیکھا کہ اس کے دروازے کے نیچے سے ایک پرچی اندر آئی ہے۔ اس پر لکھا تھا:
"اسلام میں پڑوسی کے حقوق بہت زیادہ ہیں۔ میں بھوکا ہوں اور میرا کچن جل چکا ہے۔ کیا ایک پڑوسی کو ایک وقت کا کھانا مل سکتا ہے؟ صرف انسانیت کے ناطے—شاہریز۔"
زویا نے پرچی پھاڑ دی، لیکن پھر کچن میں جا کر سالن گرم کرنے لگی۔ اس کے دل کی برف پگھل تو نہیں رہی تھی، لیکن اس میں دراڑیں ضرور پڑنے لگی تھیں۔
اچانک باہر سے شاہریز کے گانے کی آواز آئی، وہ بے سرا ہو کر گا رہا تھا: "تجھے یاد نہ میری آئی، کسی سے اب کیا کہنا..."
زویا نے تکیہ سر پر رکھ لیا۔ "یا اللہ، یہ بندہ پاگل ہو گیا ہے یا
مجھے کر کے چھوڑے گا۔"
قسط 13)
(منظر: سالن کی واپسی کا تسلسل)
رات کا وقت تھا۔ زویا کچن میں وہی آلو گوشت کا سالن گرم کر رہی تھی جو اس نے ابھی فریج سے نکالا تھا۔ اسے شاہریز کی وہ پرچی یاد آئی: "میں بھوکا ہوں..."
"کتنے بڑے ڈرامے باز ہیں آپ شاہریز،" اس نے بڑبڑاتے ہوئے سالن پیالے میں نکالا۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ چپکے سے دروازے کے باہر رکھ کر گھنٹی بجا کر بھاگ آئے گی، لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
زویا جیسے ہی پیالہ لے کر باہر نکلی، شاہریز اپنے اپارٹمنٹ کے باہر ہی کھڑا تھا، لیکن اس کا حلیہ دیکھ کر زویا کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ شاہریز نے سر پر ایک رومال باندھا ہوا تھا اور ہاتھ میں ایک پرانا "چمٹا" پکڑا ہوا تھا۔
"یہ لیں، آپ بھوکے مر رہے تھے نا؟ یہ سالن کھائیں اور شور کرنا بند کریں،" زویا نے پیالہ اس کی طرف بڑھایا۔
شاہریز نے پیالہ تھامتے ہی ایک گہری سانس لی۔ "آہ! زویا، اس سالن کی خوشبو سے تو میری آدھی بھوک ختم ہوگئی اور باقی آدھی تمہیں دیکھ کر غائب ہوگئی۔"
"بکواس بند کریں اور کھائیں!" زویا مڑی، لیکن شاہریز نے اسے روک لیا۔
"ٹھہرو! میں نے تمہارے لیے ایک 'شکریہ' کا گانا تیار کیا ہے،" شاہریز نے چمٹا بالٹی پر مارا جیسے وہ کوئی راک اسٹار ہو۔
شاہریز کا فنی گانا (شاز کے ساتھ)
اچانک شاہریز کے گھر کا دروازہ کھلا اور شاز باہر نکلا، اس نے اپنے گلے میں ایک ڈھولکی (کھلونے والی) لٹکائی ہوئی تھی۔
شاہریز نے گانا شروع کیا (ایک مزاحیہ دھن پر):
"زویا نے سالن بھیجا ہے،
آلو بھی اس میں تازہ ہے!
کھا کر اس کو لگتا ہے،
مرچوں کا تیز اندازہ ہے!
او مائی ڈارلنگ زویا۔۔۔ معافی دے دو تھوڑی سی،
ورنہ کھا کھا کر یہ آلو، شکل ہو جائے گی آلو جیسی!"
شاز نے ڈھولکی بجائی اور پیچھے سے چیخا: "ہاں مما! معاف کل (کر) دو نا، ورنہ پاپا... اوہ سوری... انکل آلو بن جائیں گے اور پھر ہم انہیں فرائز بنا کر کھا جائیں گے!"
زویا نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔ "تم دونوں باپ بیٹا... میرا مطلب ہے، تم دونوں پاگل ہو گئے ہو۔ شاز! اندر جاؤ، سوتے وقت چاکلیٹ نہیں کھانی۔"
شاز نے آنکھ ماری۔ "مما! انکل نے کہا ہے کہ اگر میں ان کا ساتھ دوں گا تو وہ مجھے 'ڈزنی لینڈ' لے جائیں گے۔ آپ بھی چلیں نا؟"
زویا نے شاہریز کو گھورا۔ "آپ میرے بیٹے کو خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں؟"
شاہریز نے معصومیت سے پیالے سے ایک آلو اٹھایا۔ "خرید نہیں رہا زویا، اسے 'فیوچر پلاننگ' کہتے ہیں۔ آخر اسے پتا تو چلے کہ اس کا باپ... ایڈونچر کا کتنا شوقین ہے۔"
(ایک مزاحیہ جذباتی ٹکراؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"شاہریز، آپ کو لگتا ہے کہ یہ سب کر کے میں وہ چھ سال بھول جاؤں گی؟" زویا کا لہجہ اچانک سنجیدہ ہو گیا۔ "آپ کو اندازہ بھی ہے کہ میں نے دبئی کی سڑکوں پر کتنی راتیں رو کر گزاری ہیں؟"
شاہریز کے چہرے سے شرارت غائب ہوگئی۔ اس نے سالن کا پیالہ سائیڈ پر رکھا اور ایک قدم آگے بڑھایا۔ "زویا، میں جانتا ہوں کہ میں نے تمہارا حق چھینا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ میں نے اعتبار نہیں کیا تھا۔ میں ان چھ سالوں کا حساب نہیں دے سکتا، لیکن میں اپنی بقیہ زندگی تمہارے پیروں میں ڈھیر کر سکتا ہوں۔"
زویا نے اپنی نظریں پھیر لیں۔ "پھر وہی جذباتی باتیں! میں نے کہا نا، میں نے آپ کو صرف 'انسانیت' کے ناطے سالن دیا ہے۔ اب جا کر سو جائیں۔"
شاہریز نے مسکرا کر کہا، "ٹھیک ہے، انسانیت کے ناطے ہی سہی، لیکن سالن بہت ٹیسٹی ہے۔ بس تھوڑی سی 'محبت' کم ہے، اگلی بار ڈال دینا۔"
زویا نے غصے سے دروازہ بند کر لیا، لیکن دروازے کے پیچھے لگ کر وہ دیر تک مسکراتی رہی۔ شاہریز شاہ کا یہ روپ اس کے لیے بالکل
نیا تھا۔
(قسط نمبر 14)
شاہریز نے اب "سام، دام، ڈنڈ، بھید" سب استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ زویا کا دل موم کرنے کا راستہ "شاز" کے معصوم دل سے ہو کر جاتا ہے۔
منظر: صبح کا کوریڈور۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زویا آفس جانے کے لیے تیار باہر نکلی تو دیکھا کہ شاہریز اپنے اپارٹمنٹ کے باہر ایک چھوٹا سا مائیک اور گٹار لیے کھڑا ہے، اور اس کے ساتھ شاز نے الٹی ٹوپی پہنی ہوئی ہے اور ہاتھ میں چمچ پکڑا ہوا ہے جیسے وہ شاہریز کا بیک اپ ڈانسر ہو۔
زویا نے ماتھا پیٹ لیا۔ "یہ کیا تماشہ ہے شاہریز شاہ؟"
شاہریز نے شاز کو اشارہ کیا۔ شاز نے چمچ سے دیوار پر تال دی: ٹک ٹک، ٹک ٹک!
شاہریز نے بے سرا ہو کر ایک خود ساختہ گانا گانا شروع کر دیا:
او زویا میری رانی،
ختم کرو یہ پرانی کہانی!
کچن میرا جل گیا،
پیٹ میرا پِھل (پھسل) گیا،
اب تو کھِلا دو مجھے بریانی!"
شاز نے بیچ میں "کورس" گایا:
"ہاں مما! دلا دو انہیں بلیانی (بریانی)! ورنہ یہ پئیں گے گندہ پانی!"
زویا اپنی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن اس کا چہرہ سخت تھا۔ "شاہریز، آپ کی آواز کسی پھٹے ہوئے ڈھول جیسی ہے۔ اور شاز! تم بھی ان کے ساتھ مل گئے؟"
شاز نے معصومیت سے کہا، "مما! انکل نے کہا ہے کہ اگر میں ان کا ساتھ دوں گا تو یہ مجھے وہ والا ٹوائے (Toy) دلائیں گے جو ریموٹ سے اڑتا ہے۔"
زویا نے شاہریز کو گھورا۔ "رشوت دے کر میرے بیٹے کو بگاڑ رہے ہیں آپ؟"
شاہریز نے گٹار سائیڈ پر رکھا اور مائیک زویا کے قریب لایا۔ "یہ رشوت نہیں، 'انویسٹمنٹ' ہے زویا۔ آخر میرا وارث ہے، اسے بزنس ڈیلز سکھا رہا ہوں۔"
لفٹ کا مزاحیہ واقعہ۔۔۔۔۔۔۔
زویا نے اگنور کیا اور لفٹ کی طرف بڑھی۔ شاہریز اور شاز بھی پیچھے پیچھے گھس گئے۔ لفٹ میں پہلے سے ایک عربی شیخ کھڑے تھے۔ شاہریز نے موقع دیکھا اور زویا کے بالکل پاس کھڑا ہو گیا۔
"زویا، دیکھو اس لفٹ میں کتنی حبس ہے، مجھے چکر آ رہے ہیں،" شاہریز نے ڈرامائی انداز میں زویا کے کندھے پر سر رکھنا چاہا، لیکن زویا نے اسے دھکا دے دیا۔
شاہریز سیدھا جا کر عربی شیخ سے ٹکرایا۔ شیخ نے حیرت سے دیکھا، "یا حبیبی! واللہ؟"
شاہریز نے فوراً خود کو سنبھالا اور اپنی ٹوٹی پھوٹی عربی میں بولا، "لا حبیبی! مائی وائف از ویری اینگری (My wife is very angry)... انا مسکین!"
شیخ ہنسنے لگا اور زویا سے بولا، "یا خانم! معاف کر دو، بیچارہ مسکین لگ رہا ہے۔"
زویا کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ پہلی فرصت میں لفٹ سے باہر نکلی۔ شاہریز پیچھے سے چلایا، "دیکھا؟ اب تو انٹرنیشنل سفارشیں بھی آ رہی ہیں!"
شام کا "پکنک" ڈرامہ
شام کو زویا شاز کو نیچے پارک میں لے گئی تاکہ وہ کھیل سکے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے دیکھا کہ شاہریز ایک بہت بڑا پکنک باسکٹ اور کمبل لیے وہاں پہنچ گیا ہے۔ اس نے زویا کے بالکل سامنے اپنا ٹھکانہ جمایا۔
وہاں اس نے ایک "بینر" نکالا جس پر لکھا تھا: "زویا کا قصوروار—شاہریز شاہ"
پارک میں لوگ اسے دیکھ کر رکنے لگے۔ شاہریز نے شاز کو بلایا اور اسے ایک غبارہ دیا جس پر لکھا تھا 'آئی ایم سوری'۔
شاز وہ غبارہ لے کر زویا کے پاس آیا۔ "مما! یہ غبارہ لیں نا، انکل کہہ رہے ہیں کہ ان کے ہاتھ تھک گئے ہیں۔"
زویا نے غبارہ پھاڑ دیا (Pop!)۔ شاہریز نے دل پر ہاتھ رکھا جیسے اسے گولی لگی ہو۔
"اف زویا! اتنی بے رحمی؟ میں نے تمہارے لیے خود اپنے ہاتھوں سے 'پِل مچی' (Fried Fish) بنائی ہے،" شاہریز نے باسکٹ کھول کر دکھایا۔ مچھلی تھوڑی کالی تھی لیکن خوشبو اچھی تھی۔
زویا کا دل ایک لمحے کے لیے پگھلا جب اس نے دیکھا کہ شاہریز کے ہاتھ پر پٹی بندھی تھی، شاید ککنگ کے دوران جل گیا تھا۔ لیکن اسے وہ چھ سال یاد آ گئے جب اسے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔
"شاہریز، مچھلی کھلانے سے زخم نہیں بھرتے۔ آپ یہاں سے چلے جائیں، ورنہ میں پولیس بلا لوں گی،" زویا نے سرد لہجے میں کہا۔
شاہریز کی مسکراہٹ تھوڑی مدہم ہوئی، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ "پولیس بلا لو، وہ بھی مجھے تمہارے دل سے بے دخل نہیں کر سکیں گے۔ میں یہیں رہوں گا، جب تک تم مجھے معاف نہیں کرتیں۔"
اگلی صبح زویا نے ارادہ کیا کہ وہ شاہریز کو مکمل نظر انداز کرے گی، لیکن شاہریز "مشن زویا" پر پوری تیاری کے ساتھ نکلا تھا۔
زویا جیسے ہی کچرا باہر رکھنے نکلی، اس نے دیکھا کہ شاہریز اپنے دروازے پر ایک الٹی بالٹی رکھے اس پر طبلہ بجا رہا ہے اور شاز نے ہاتھ میں جھاڑو پکڑی ہوئی ہے جیسے وہ مائیک ہو۔
شاہریز نے زویا کو دیکھتے ہی گلا صاف کیا اور ایک پرانے گانے کی دھن پر اپنا "شاہریز ورژن" شروع کیا:
"تم تو ٹھہری پردیسی،
ساتھ کیا نبھاؤ گی۔۔۔
صبح پہلی فلائٹ سے،
تم تو آفس جاؤ گی!
پیچھے میرا کیا ہوگا؟
کچن میرا روئے گا۔۔۔
تیرا یہ شاہریز شاہ، بھوکا ہی سوئے گا!"
شاز نے جھاڑو ہوا میں لہرائی اور اپنی مخصوص آواز میں پیچھے سے چلایا: "ہاں مما! انکل کا پیٹ لُو رہا ہے (رو رہا ہے)۔ بیچارے مسکین انکل!"
رات کی خاموشی اور ایک نیا خطرہ
رات کو جب شاہریز اپنے اپارٹمنٹ میں اکیلا تھا، اسے اپنے موبائل پر ایک میسج ملا۔ اس میں زویا اور شاز کی پارک والی تصویر تھی جو کسی نے دور سے کھینچی تھی۔
نیچے لکھا تھا: "خوشیاں منا لو شاہریز، کیونکہ تمہارا بیٹا اب میری پہنچ میں ہے۔ — مرتضیٰ باجوہ"
شاہریز کا خون خشک ہو گیا۔ وہ فوراً اٹھا اور زویا کے دروازے پر دستک دینے لگا۔ لیکن اس بار یہ کوئی مذاق نہیں تھا، اس کے چہرے پر خوف تھا۔
زویا نے غصے میں دروازہ کھولا، "شاہریز! اب کیا ہے—"
شاہریز نے اسے خاموش کرایا اور اندر داخل ہو کر دروازہ لاک کر دیا۔ "زویا، مذاق ختم۔ مرتضیٰ دبئی میں ہے اور وہ شاز کے پیچھے ہے۔"
زویا نے زور سے اپنا سر پکڑا۔ "شاہریز شاہ! آپ کسی انٹرنیشنل کمپنی کے سی ای او (CEO) ہیں یا کسی سرکس کے جوکر؟ یہ کیا حرکتیں ہیں؟"
شاہریز نے بالٹی بجانا چھوڑی اور ایک لمبی آہ بھری۔ "زویا، جب سے تم گئی ہو، سی ای او تو صرف کاغذوں پر رہ گیا ہوں، اصل میں تو میں تمہاری محبت کا 'بھکاری' بن گیا ہوں۔ دیکھو، بالٹی بجا بجا کر ہاتھ سوج گئے ہیں۔"
زویا نے طنزاً کہا، "تو بالٹی بجانے کا کہا کس نے تھا؟ جا کر کام کریں!" وہ پیر پٹختی ہوئی اندر چلی گئی۔
قسط نمبر15)
اگلی صبح "القصیس" کے اس اپارٹمنٹ میں ایک عجیب سی چہل پہل تھی۔ زویا ناشتہ بنا رہی تھی کہ اسے کوریڈور سے شاہریز اور شاز کے ہنستے ہوئے بولنے کی آوازیں آئیں۔
منظر 1: مزاحیہ نوک جھونک (صبح کا وقت)
زویا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو دیکھا کہ شاہریز نے شاز کا اسکول بیگ خود پہنا ہوا تھا اور شاز اس کی پیٹھ پر سوار ہو کر "گھوڑا گھوڑا" کھیل رہا تھا۔
"شاہریز! یہ کیا بدتمیزی ہے؟ شاز کو نیچے اتاریں، اسے اسکول کے لیے دیر ہو رہی ہے،" زویا نے غصے سے کہا۔
شاہریز نے ہانپتے ہوئے جواب دیا، "زویا! یہ گھوڑا اب بوڑھا ہو گیا ہے، اسے تھوڑی ہمدردی کی ضرورت ہے۔ شاز کہہ رہا ہے کہ جب تک اسے 'پاپا پاپا' کہہ کر گھوڑا نہیں بناؤں گا، یہ ناشتہ نہیں کرے گا۔"
زویا کا دل دھک سے رہ گیا۔ "شاز! تم نے اسے 'پاپا' کہا؟"
شاز نے معصومیت سے کندھے اچکائے۔ "مما! انکل نے کہا ہے کہ اگر میں انہیں پاپا بولوں گا تو وہ مجھے 'آئس کلیم' کی ندی (River) میں نہلائیں گے۔"
زویا نے شاہریز کو کچی نظروں سے دیکھا۔ "آپ میرے بیٹے کو جھوٹے خواب دکھا کر خرید رہے ہیں؟ اور یہ بیگ اتاریں، آپ پر بالکل سوٹ نہیں کر رہا۔"
شاہریز نے بیگ اتارا اور زویا کے قریب آ کر بولا، "بیگ سوٹ کرے نہ کرے، تمہارے گھر کا راشن لانا تو سوٹ کرے گا نا؟ دیکھو، میں انڈے اور ڈبل روٹی لایا ہوں۔"
زویا نے بیگ چھین لیا۔ "مجھے آپ کے احسان کی ضرورت نہیں ہے۔"
زویا شاز کا ہاتھ تھام کر لفٹ کی طرف بڑھی، شاہریز بھی پیچھے ہولیا۔ جیسے ہی وہ بلڈنگ کے پارکنگ ایریا میں پہنچے، ایک سفید رنگ کی وین تیزی سے ان کے پاس آ کر رکی۔
وین سے تین نقاب پوش نکلے اور براہ راست شاز کی طرف لپکے۔ زویا کی چیخ نکل گئی۔ "شاہریز! شاز!"
شاہریز جو ابھی تک مذاق کے موڈ میں تھا، ایک سیکنڈ میں خطرناک"ٹائیگر" بن گیا۔ اس نے زویا کو دھکا دے کر گاڑی کے پیچھے کیا اور پہلے حملہ آور کے منہ پر زوردار مکا رسید کیا۔
"تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے خاندان کو چھونے کی؟" شاہریز کی آواز دہاڑ جیسی تھی۔
دوسرے غنڈے نے چاقو نکالا اور شاہریز کے بازو پر وار کیا، جس سے اس کی قمیض پھٹ گئی اور خون بہنے لگا۔ زویا نے یہ دیکھ کر ایک پتھر اٹھایا اور غنڈے کے سر پر دے مارا۔
خبردار جو اسے ہاتھ لگایا!" زویا غصے میں بپھری ہوئی شیرنی لگ رہی تھی۔
شاہریز نے زخمی ہونے کے باوجود تیسر ے بندے کو گردن سے پکڑا اور اسے گاڑی کے بونٹ پر دے مارا۔ "بولو! کس نے بھیجا ہے؟ مرتضیٰ باجوہ نے؟"
غنڈے تلملا کر وین میں بیٹھے اور بھاگ نکلے۔ شاہریز ان کے پیچھے بھاگنا چاہتا تھا لیکن بازو کے زخم کی وجہ سے لڑکھڑا گیا۔
زویا بھاگتی ہوئی شاہریز کے پاس آئی۔ "شاہریز! آپ کا خون نکل رہا ہے۔ پاگل ہیں کیا آپ؟ اکیلے تین لوگوں سے لڑ پڑے۔"
شاہریز نے درد کے باوجود مسکرا کر زویا کو دیکھا۔ "تم نے بھی تو پتھر مارا... مطلب ابھی بھی تھوڑی سی محبت باقی ہے؟"
زویا نے اسے گھورا۔ "خاموش رہیں! یہ صرف 'انسانیت' ہے۔ شاز، جاؤ فرسٹ ایڈ کٹ لے کر آؤ۔"
وہ اسے زبردستی اپنے فلیٹ کے اندر لے آئی اور صوفے پر بٹھایا۔ جب وہ اس کے بازو کا زخم صاف کر رہی تھی، تو دونوں کے درمیان ایک گہری خاموشی تھی۔
"درد ہو رہا ہے؟" زویا نے دھیمی آواز میں پوچھا۔
"تمہاری جدائی کے درد سے کم ہے،" شاہریز نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر کہا۔
زویا نے پٹی کو زور سے کھینچا۔ "اہ!" شاہریز کراہ اٹھا۔
"زیادہ ڈرامے نہ کریں،" زویا نے پٹی باندھتے ہوئے کہا، لیکن اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ "شاہریز، وہ لوگ کون تھے؟ کیا وہ واقعی شاز کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں؟"
شاہریز کا لہجہ سنجیدہ ہو گیا۔ "مرتضیٰ باجوہ ہار نہیں مان رہا زویا۔ وہ جانتا ہے کہ تم میری زندگی ہو، اور شاز میری روح۔ وہ ہمیں توڑنا چاہتا ہے۔ تم ابھی میرے ساتھ 'شاہ ولاز' (دبئی والا بنگلہ) شفٹ ہو رہی ہو۔ یہاں تم محفوظ نہیں ہو۔"
زویا نے سر جھٹکا۔ "میں کہیں نہیں جا رہی۔ میں اکیلی ٹھیک ہوں۔"
زویا! یہ تمہاری ضد کا وقت نہیں ہے، یہ ہمارے بیٹے کی زندگی کا سوال ہے!" شاہریز نے اس کے دونوں کندھے پکڑ کر اسے جھنجھوڑا۔ "کیا تم چاہتی ہو کہ جو تمہارے بھائی کے ساتھ ہوا، وہ شاز کے ساتھ بھی ہو؟"
زویا خاموش ہوگئی۔ اس کی آنکھوں سے ایک آنسو نکل کر شاہریز کے ہاتھ پر گرا۔
"ٹھیک ہے... لیکن میں صرف شاز کے لیے جا رہی ہوں۔ آپ کے لیے نہیں،" اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
شاہریز نے سکون کا سانس لیا۔ "منظور ہے۔ شاز کے بہانے ہی سہی، کم از کم تم میری نظروں کے سامنے تو رہو گی۔"
شاہریز شاہ کے عالیشان بنگلے میں واپسی زویا کے لیے کسی نئے امتحان سے کم نہ تھی، لیکن شاہریز نے تہیہ کر رکھا تھا کہ وہ اس "سرد جنگ" کو ہنسی اور پیار کے ہتھیاروں سے ختم کرے گا۔
(قسط نمبر16)
شاہریز کا بنگلہ کسی محل سے کم نہیں تھا، لیکن زویا وہاں ایک "مہمان" بن کر داخل ہوئی۔ اس نے اپنا کمرہ شاز کے ساتھ علیحدہ رکھا، جس پر شاہریز نے دل ہی دل میں ٹھنڈی آہ بھری۔
منظر 1: ناشتے کی میز پر مزاح (Funny Scene)
اگلی صبح، شاہریز خود کچن میں گھس گیا اور ایک لمبا سا "شیف کیپ" (Chef Cap) پہن کر پینکیکس بنانے کی کوشش کرنے لگا۔ جب زویا ناشتے کے لیے آئی تو اس نے دیکھا کہ شاہریز کے ماتھے پر آٹا لگا ہوا ہے اور وہ ایک ہاتھ میں چمچہ پکڑے گنگنا رہا ہے۔
"شاہریز! آپ کچن میں کیا کر رہے ہیں؟ ملازم کہاں گئے؟" زویا نے حیرت سے پوچھا۔
شاہریز نے ایک پینکیک ہوا میں اچھالا (جو واپس توے پر گرنے کے بجائے شاہریز کے سر پر جا گرا)۔ "زویا! میں نے سوچا کہ جب شوہر خود اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بناتا ہے، تو بیوی کی ناراضگی 'بیکنگ پاؤڈر' کی طرح پھول کر غائب ہو جاتی ہے۔"
شاز نے تالیاں بجائیں، "ہاہاہا! پاپا کے سل (سر) پر تو ٹوپی (Pancake) آ گئی!"
زویا نے بمشکل اپنی ہنسی روکی۔ "شاہریز، آپ کا پینکیک تو کچا ہے اور آپ کا آئیڈیا بھی۔ آپ جا کر منہ دھولیں، میں خود بنا لیتی ہوں۔"
شاہریز نے معصومیت سے کہا، "اچھا؟ تو کیا یہ مانا جائے کہ 'انسانیت' اب 'ہمدردی' میں بدل رہی ہے؟"
زویا نے اسے گھورا، "زیادہ خوش فہمی میں نہ رہیں۔ مجھے بھوک لگی ہے، اس لیے بنا رہی ہوں۔"
منظر 2: بیڈروم کی لڑائی (The Argument)
دوپہر میں زویا اپنی الماری سیٹ کر رہی تھی کہ شاہریز ایک گلدستہ لے کر اندر داخل ہوا۔
"یہ تمہارے لیے،" اس نے مسکرا کر پھول آگے کیے۔
زویا نے پھول بیڈ پر پھینک دیے۔ "شاہریز، مجھے ان چیزوں سے مت بہلائیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے، ایک بنگلے میں لانے سے اور پھول دینے سے وہ چھ سال کا دکھ ختم ہو جائے گا؟ آپ نے مجھ پر 'غداری' کا الزام لگایا تھا۔ وہ زخم آج بھی ہرا ہے۔"
شاہریز کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ "زویا، میں نے اپنی غلطی مانی ہے۔ میں مرتضیٰ کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گیا تھا۔ کیا انسان کو اپنی اصلاح کا ایک موقع بھی نہیں ملنا چاہیے؟ اسلام میں تو توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔"
"توبہ اللہ سے کی جاتی ہے شاہریز، بندوں سے نہیں۔ اور بندے اتنی جلدی نہیں بھولتے،" زویا نے تلخی سے جواب دیا۔
شاہریز نے غصے میں دیوار پر ہاتھ مارا۔ "تو میں کیا کروں؟ اپنی جان دے دوں؟ تم کہو تو میں ابھی اس چھت سے کود جاتا ہوں!"
"ڈرامے بند کریں! آپ نہیں کودیں گے کیونکہ آپ کو اپنا 'شاہریز گروپ' بہت عزیز ہے،" زویا نے اسے چیلنج کیا۔
شاہریز نے ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر بالکنی کی طرف بھاگا۔ "ٹھیک ہے، پھر دیکھو!"
زویا ڈر کر اس کے پیچھے بھاگی۔ "شاہریز! پاگل مت بنیں، رکیں!" جیسے ہی اس نے شاہریز کا بازو پکڑا، شاہریز نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ اس کے حصار میں تھی، دونوں کے دل زور سے دھڑک رہے تھے۔
"تمہیں ابھی بھی میری فکر ہے زویا... تم جھوٹ بول رہی ہو کہ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو،" شاہریز نے اس کی آنکھوں میں جھانک کر سرگوشی کی۔
زویا نے اسے دھکا دیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ "میں... میں صرف ایک لاش کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہتی تھی۔" وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی، لیکن اس کا چہرہ گلابی ہو چکا تھا۔
منظر 3: شاہریز کا فنی گانا (رات کا وقت)
رات کو جب زویا سونے لگی، تو اسے کھڑکی کے باہر سے گٹار کی آواز آئی۔ اس نے بالکنی سے جھانکا تو نیچے شاہریز اور شاز کھڑے تھے۔ شاہریز نے ایک مضحکہ خیز چشمہ پہنا ہوا تھا اور شاز کے ہاتھ میں ٹارچ تھی جو وہ شاہریز کے چہرے پر مار رہا تھا۔
شاہریز نے گانا شروع کیا:
"رات کے بج گئے بارہ،
زویا سن لو ہمارا نعرہ!
غصہ تھوڑا کم کرو،
بن جاؤ پھر سے ہمارا سہارا!
اگر نہیں مانی تم،
تو میں کل سے بھوکا رہوں گا،
اور شاز سے کہوں گا کہ مما کا پیزا میں ہی کھاؤں گا!"
شاز نے کورس گایا: "ہاں مما! میں ان کا پیزا کھاؤں گا، اور آپ کو کچھ نہیں دلاؤں گا!"
زویا نے ایک تکیہ اٹھایا اور نیچے پھینکا۔ "سو جائیں دونوں! ورنہ میں نے صبح ناشتہ نہیں بنانا!"
شاہریز نے تکیہ پکڑ لیا اور اسے سینے سے لگا کر چوما۔ "تکیہ مل گیا، سمجھو آدھی معافی مل گئی!"
خطرناک موڑ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی وقت بنگلے کے عقبی حصے میں ایک مشکوک حرکت ہوئی۔ سیکیورٹی گارڈز کو بے ہوش کر دیا گیا تھا۔ مرتضیٰ باجوہ کا سب سے خطرناک آدمی، جو خاموش قاتل مانا جاتا تھا، دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہو چکا تھا۔ اس کا نشانہ شاہریز نہیں، بلکہ وہ کمرہ تھا جہاں شاز سوتا تھا۔
شاہریز ابھی بالکنی کے نیچے ہنس رہا تھا، اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ موت اس کے گھر کے اندر قدم رکھ چکی ہے۔
رات کی سیاہی میں چھپا خطرہ اب دہلیز پار کر چکا تھا۔ شاہریز ابھی بالکنی کے نیچے زویا سے چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا کہ اچانک اسے حویلی کے پچھلے حصے سے کسی بھاری چیز کے گرنے کی آواز آئی۔ شاہریز کی چھٹی حس (Sixth Sense) فوراً بیدار ہوگئی۔
(قسط نمبر:17)
شاہریز نے شرارت کو ایک طرف رکھا اور شاز کو فوراً بازو سے پکڑ کر اپنے پیچھے کیا۔ اس کی آنکھوں میں وہی پرانا شکاری جاگ چکا تھا۔
"شاز، خاموشی سے اندر جاؤ اور مما کا ہاتھ پکڑ کر کلوت (Closet) میں چھپ جاؤ۔ جب تک میں نہ کہوں، باہر نہیں آنا،" شاہریز نے دھیمی لیکن فولادی آواز میں کہا۔
زویا بھی بالکنی سے شاہریز کے بدلتے تیور دیکھ چکی تھی۔ وہ نیچے بھاگی آئی۔ "شاہریز! کیا ہوا؟ آپ ایسے کیوں بات کر رہے ہیں؟"
"زویا! اندر جاؤ!" شاہریز نے اسے بازو سے پکڑ کر سیڑھیوں کی طرف دھکیلا۔ "کوئی اندر آ چکا ہے۔"
(منظر 1: آمنے سامنے۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ سیڑھیوں کے پاس پہنچے ہی تھے کہ لاؤنج کا بڑا شیشہ زوردار دھماکے سے ٹوٹا اور ایک نقاب پوش اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں سائلنسر لگا پستول تھا۔
زویا کی چیخ نکل گئی، لیکن شاہریز نے بجلی کی تیزی سے صوفے کے پیچھے سے ایک تانبے کا بڑا گلدان اٹھایا اور پوری قوت سے اس شخص کی طرف اچھالا۔
پستول کا رخ مڑا اور گولی دیوار میں لگی۔ شاہریز نے چھلانگ لگائی اور حملہ آور پر حاوی ہوگیا۔ دونوں فرش پر گتھم گتھا ہوگئے۔
"زویا! شاز کو لے کر اوپر بھاگو!" شاہریز چلایا، جبکہ حملہ آور نے اس کی گردن دبانے کی کوشش کی۔
زویا شاز کو لے کر اوپر بھاگی، لیکن سیڑھیوں کے درمیان وہ رک گئی۔ "میں اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتی!" اس نے ہمت جمع کی اور قریب پڑی ایک بھاری لکڑی کی مورتی اٹھائی اور نیچے آئی۔
شاہریز مشکل میں تھا، دوسرا حملہ آور بھی کھڑکی سے اندر آ رہا تھا۔ زویا نے وہ مورتی پوری قوت سے پہلے حملہ آور کے سر پر ماری۔ شاہریز کو سانس لینے کا موقع ملا، اس نے جھٹکے سے اپنا پستول نکالا اور دوسرے حملہ آور کے پیر پر گولی ماری۔
پولیس اور سیکیورٹی ٹیم چند منٹوں میں پہنچ گئی اور حملہ آوروں کو لے گئی۔ گھر میں دوبارہ خاموشی چھائی تھی، لیکن زویا کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ شاہریز کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا اور اس کے ہاتھ زخمی تھے۔
زویا نے شاز کو کمرے میں بند کیا اور نیچے آئی۔ "یہ سب کیا ہے شاہریز؟ میں نے کہا تھا نا کہ میں یہاں محفوظ نہیں ہوں! آپ کی دشمنی میرے بیٹے کی جان لے لے گی!" وہ غصے اور خوف سے چلانے لگی۔
شاہریز نے دیوار کا سہارا لیا۔ "زویا، میں نے اپنی پوری کوشش کی—"
"کوشش؟" زویا نے اس کا گریبان پکڑ لیا اور اسے جھنجھوڑا۔ "آپ کی یہ 'کوشش' میرے بھائی کو کھا گئی، مجھے چھ سال سڑکوں پر رلایا، اور آج میرے بیٹے کو مارنے چلی تھی! آپ ایک منحوس انسان ہیں شاہریز شاہ! آپ کی محبت صرف تباہی لاتی ہے!"
شاہریز ساکت رہ گیا۔ زویا کے الفاظ زہر بھرے تیروں کی طرح اس کے دل میں اتر رہے تھے۔ اس نے غصے میں میز پر پڑا کرسٹل کا سیٹ اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔ (کڑاخ!)
"ہاں! میں ہوں منحوس! میں ہوں برا! لیکن کیا میں نے مرتضیٰ باجوہ کو پیدا کیا تھا؟ کیا میں نے اسے کہا تھا کہ میرے باپ کو دھوکا دے؟
میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر تمہارے گرد پہرہ دے رہا ہوں اور تم مجھے ہی موردِ الزام ٹھہرا رہی ہو؟" شاہریز کی آواز پورے ہال میں گونجی
اسی کشیدگی کے عالم میں، شاز اوپر سے اپنا چھوٹا سا کھلونا پستول لے کر آیا اور شاہریز کی طرف تان دیا۔ "آپ مما کو مت ڈانٹیں! آپ نے کہا تھا آپ 'سُوپل مین' (Superman) ہیں، لیکن آپ تو 'پِھسڈی' نکلے! غنڈے گھر کے اِندل (اندر) آ گئے!"
شاہریز نے ایک لمحہ شاز کو دیکھا، پھر زویا کو، اور اچانک وہ ایک زوردار قہقہہ مار کر صوفے پر گر گیا۔
زویا حیران رہ گئی۔ "آپ ہنس رہے ہیں؟"
"ہنسوں نہیں تو کیا کروں؟" شاہریز نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔ "ایک طرف موت کھڑی ہے، دوسری طرف تم مجھے گالیاں دے رہی ہو، اور میرا بیٹا مجھے 'پھسڈی' کہہ رہا ہے۔ میری زندگی تو واقعی ایک کامیڈی فلم بن گئی ہے۔"
زویا کا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا، اس نے دیکھا کہ شاہریز کے ہاتھ سے خون اب بھی بہہ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے فرسٹ ایڈ کٹ لائی اور اس کے پاس بیٹھ گئی۔
(جذباتی اعتراف)
جب زویا پٹی کر رہی تھی، شاہریز نے دھیمی آواز میں کہا، "زویا... اگر آج مجھے کچھ ہو جاتا، تو کیا تم پھر بھی مجھے معاف نہ کرتیں؟"
زویا نے اس کے زخم پر زور سے روئی (Cotton) رکھی۔ "اوہ!" شاہریز کراہا۔
"مرنے کی باتیں مت کریں۔ ابھی آپ کو بہت سارے 'حساب' چکانے ہیں۔ اور معافی؟ وہ اتنی سستی نہیں ہے،" زویا نے کہا، لیکن اس کی آواز میں اب وہ پہلی والی سختی نہیں تھی، بلکہ ایک چھپا ہوا دکھ تھا۔
شاہریز نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ "میں نے مرتضیٰ کا ٹھکانہ معلوم کر لیا ہے۔ کل اس کہانی کا آخری باب لکھا جائے گا۔ یا وہ رہے گا، یا میں۔"
زویا کا دل ڈوب گیا۔ "شاہریز... آپ اکیلے نہیں جائیں گے۔"
کیا شاہریز مرتضیٰ باجوہ کو ختم کر پائے گا؟
کیا زویا آخری لمحے میں شاہریز کو معاف کر کے اسے روک لے گی؟
کیا شاز کو اپنے اصل پاپا کا سچ معلوم ہو جائے گا؟
(قسط نمبر18)
فضا میں بارود کی بو اور سمندر کی لہروں کا شور تھا۔ شاہریز شاہ نے مرتضیٰ باجوہ کو شہر کے ایک پرانے گودام میں گھیر لیا تھا۔
لیکن مرتضیٰ نے اپنی آخری چال چل دی تھی—اس نے زویا کو اغوا کر لیا تھا۔
منظر 1: موت کا کھیل (Action Climax)
شاہریز گودام کے اندر داخل ہوا، اس کے ہاتھ میں پستول تھا اور آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ سامنے کرسی پر زویا بندھی ہوئی تھی، جس کے منہ پر پٹی تھی۔
"شاہریز شاہ! رک جاؤ، ورنہ اس کا حسین چہرہ آخری بار دیکھو گے،" مرتضیٰ باجوہ اندھیرے سے نکل کر سامنے آیا، اس نے زویا کی کنپٹی پر ریوالور رکھا ہوا تھا۔
شاہریز نے اپنا پستول نیچے پھینک دیا۔ "زویا کو چھوڑ دو مرتضیٰ! تمہارا حساب مجھ سے ہے۔"
مرتضیٰ ہنسا، ایک وحشیانہ ہنسی۔ "حساب؟ تمہارے باپ نے مجھے سڑک پر لایا تھا، میں تمہیں قبر میں اتاروں گا۔"
اچانک، زویا نے ہمت جمع کی اور زور سے اپنا سر پیچھے مارا جو مرتضیٰ کی ناک پر لگا۔ مرتضیٰ لڑکھڑایا، اور اسی لمحے شاہریز نے چھلانگ لگائی۔
دونوں کے درمیان زندگی اور موت کی جنگ شروع ہوگئی۔ شاہریز نے مرتضیٰ کو دیوار سے دے مارا۔
"یہ میرے بھائی کے لیے!" (ایک مکا) "یہ زویا کے چھ سالوں کے لیے!" (دوسرا مکا) "اور یہ میرے بیٹے کے آنسوؤں کے لیے!" (زوردار ضرب)
پولیس اندر داخل ہوئی اور مرتضیٰ باجوہ کو گرفتار کر لیا۔ شاہریز بھاگ کر زویا کے پاس آیا اور اس کی رسیاں کھولیں۔ زویا اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
منظر 2: حویلی واپسی اور مزاح (Funny Reunion)
کچھ دن بعد، شاہ ولاز میں خوشیاں لوٹ آئی تھیں۔ شاہریز کا ایک ہاتھ پلستر میں تھا اور سر پر پٹی، لیکن اس کی شرارتیں ختم نہیں ہوئی تھیں۔
زویا کچن میں تھی جب شاہریز اور شاز دونوں ایک جیسے کپڑے پہن کر اندر آئے۔ دونوں نے سر پر رومال باندھے ہوئے تھے اور ہاتھ میں لکڑی کے چمچ تھے۔
شاہریز نے گانا شروع کیا (فنی دھن پر):
"دشمن کو ہم نے مار دیا،
زویا کو پھر سے پا لیا!
اب تو دے دو معافی بیگم،
ورنہ ہو جائے گا دیوالیہ!"
شاز نے چمچ بجایا: "ہاں مما! اب تو مان جاؤ، ورنہ پاپا پھر سے 'گھوڑا' بن جائیں گے اور میں ان کی پٹائی کلوں گا (کروں گا)!"
زویا نے ہنستے ہوئے بیلن اٹھایا۔ "آپ دونوں کا ڈرامہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ شاہریز! آپ زخمی ہیں، جا کر آرام کریں۔"
شاہریز نے زویا کا ہاتھ تھاما۔ "آرام تو تب ملے گا جب تم کہو گی کہ 'شاہریز شاہ! میں نے تمہیں معاف کیا'۔"
زویا کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ اس نے شاہریز کے چہرے پر لگی چوٹ کو چھوا۔ "جس شخص نے میرے لیے گولی کھائی ہو، میں اسے کیسے نہ معاف کروں؟ میں نے آپ کو بہت پہلے معاف کر دیا تھا، بس تھوڑا سا نخرہ دکھا رہی تھی۔"
شاہریز نے اسے اپنے قریب کھینچا۔ "اوہ! تو مسز شاہریز شاہ اتنی بڑی اداکارہ ہیں؟"
منظر 3: خوشگوار اختتام (The Grand Ending)
حویلی کے لان میں ایک بڑی تقریب تھی۔ دادی جان بھی دبئی پہنچ چکی تھیں اور شاز کو گود میں لیے نہال ہو رہی تھیں۔
شاہریز نے سب کے سامنے مائیک لیا۔ "آج میں دنیا کے سامنے اعتراف کرتا ہوں کہ میری اصل جیت بزنس نہیں، بلکہ زویا کی محبت ہے۔"
شاز نے بیچ میں مائیک چھینا۔ "اور میلے (میرے) پاپا 'سُوپل مین' ہیں! بس تھوڑے سے بدتمیز ہیں!"
پورے لان میں قہقہے گونج اٹھے۔ شاہریز نے زویا کا ہاتھ تھاما اور اسے آسمان پر ہوتی آتش بازی دکھانے لگا۔
"زویا، سدیوں کا حساب اب برابر ہو گیا ہے؟" شاہریز نے پوچھا۔
زویا نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھا۔ "نہیں شاہریز، اب تو محبت کا حساب شروع ہوا ہے، جو ہمیں پوری زندگی چکانا ہے۔"
آسمان پر رنگ برنگی روشنیاں بکھر رہی تھیں، اور "شاہ ولاز" کی فضا میں برسوں بعد سکون کی مہک رچی تھی۔ محبت جیت گئی تھی، اور شک ہار گیا تھا۔
دی اینڈ (The End) ✍️
امید ہے آپ کو شاہریز اور زویا کی یہ کہانی پسند آئی ہوگی۔
ضروری انتباہ: یہ ناول صرف ذاتی مطالعہ کے لیے ہے۔ اسے کسی بھی ویب سائٹ، بلاگ یا یوٹیوب چینل پر بغیر تحریری اجازت کے اپلوڈ کرنا ممنوع ہے۔ اگر آپ کو یہ ناول کہیں اور نظر آئے تو براہ کرم مجھے @naaz_writer786 پر مطلع کریں۔
آپ کی سپورٹ اور محبت کا شکریہ! ❤️
Social Media: Follow me on Instagram @naaz_khan_280
یہاں آپ کو ملیں گے:
اردو ناولز کی بہترین آڈیو ویڈیوز 🎤
آنے والے ناولز کے پرومو (Promos) 🎬
اور بہت کچھ!
آپ کی محبت اور سپورٹ کا شکریہ! ✨ Writer: @naaz_writer786