منظر ۔
اچھا تو تم ہسپتال تب سے جانے والے ہو تم بس ایک مُسافر ہی نہیں ڈاکٹر بھی ہو مت بھولو تم شامیر ۔ IPS
"آرمان سکندر " نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
ہا بھائی ! ڈاکٹر ننتو گیا ہو اب ذمےداری تو نبھانی پڑےگی ۔ شامیر کے لہجے میں ایک بوج تھا ۔
پر بھائی " رُباب باجی" تو ڈاکٹر تھی نہ فر ایک ہی گھر میں دو دو ڈاکٹر کی کیا ضرورت تھی ۔
تم ایسے کیوں کہے رہو ہو شامیر جیسے تمھیں پتہ ہی نہیں کی یہ بابا کی خوہش تھی اور تم تو جانتے ہی ہوں نہ ہمارے گھر پر سب کسی نہ کیسے بیٹھی پوسٹ پر ہے تمھیں دنیا گھمنی تھی ہم اس چیز کے خلاف نہیں ہوئے دنیا میں جینے کے لیے ہمیں کچھ نہ کچھ کام تو کرنا پڑھ تا ہے نہ ۔ ارما ن کی یہ بات شامیر کے دل میں اتری تھی ۔
ٹھیک ہے بھائی میں کل سے چلا جایا کرونگا مجھے ایک کام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے پر مجھے اپنا دنیا دیکھنے کا سپنا پورا کرنا ہے ۔
ہا شامیر ، ہم جانتے ہیں تمہارے دنیا گھومنے ہے اس لیے ہم سب خاموش تھے پر اب تم بڑے ہو گئے ہو تمہاری عمر پتہ ہے نہ تمھیں 26 سال اور تمنے ہی کل کہا تھا نہ تمنے 70 ملک دیکھ لیے ہے اور اب تم جلدی نہیں کرنا چاہتے ۔
بھائی مجھے پتہ ہی ي میری ذمےداری ہی میں ایک ڈاکٹر ہو اور مجھے میری ذمےداری کا حساس ہی میں ہاسپٹل جاتا ہو تو میرا گھر آنے کا من ہی نہیں کرتا یہ میرا مسئلہ ہے میں جب یہ مریضوں کو دیکھتا ہی تو مجھے محساس ہوتا ہے کی مجھے انہی بچنا ہی ۔
ہا بھائی میں کل سے چلا جاؤنگا اور ویسے بھی مجھے "زائد" ، اور "فارس" کی کلز آرہی تھی کے ہاسپٹل آؤ مجھے یاد ہے مجھے کافی وقت ہو گیا ہے ہاسپٹل گئے ۔
اگلے صبح شامیر ہاسپٹل جاتا ہے ۔
زائد اور فارس ہاسپٹل کے گیٹ پر انتظار کر رہے تھے ۔
تم دونوں میرا گیٹ پر ہی انتظار کر رہے تھے ۔ شامیر اپنی کار کا دروازہ کھولتے ہوئے کہنے لگا اُسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔
ہا ہمیں یہ چند ہر روز دیکھنے کو نہیں ملتا نہ اس لیے کھڑے ہے یہاں آپ کے استقبال میں ز خیال لیے کر کے یہ چند فر سے بدلو میں نہ چلا جائے ۔ فارس نے مزاخیہ لہجے میں کہا ۔
تو کبھی نہیں سدرینگا فارس ، چل اب اندر چل ورنہ پاگل کہنے کی گاڑی آتی ہی ہوگی تُجھے لینے ۔ شامیر نے اسی لہجے میں اُسّے جواب دیا ۔
چھوڑ نے شامیر ، اس کی تو عادت ہے مذاق کرنے کی ۔ چلو تم دونوں اندر اب ۔ زائد نے کہا ۔
ہا ہا چلو بھائی مجھے تو در ہے کی اس مسافر سنجیدہ نہ ہو جائے مُجھسے نہیں سنا جاتا اسکا لیکتچر ۔ فارس نے پھر سے شامیر کی تنگ کھینچ تے ہوئے کہا ۔
فارس ، آج ہی آیا ہے وہ پریشان مت کرو نہ اُسکے ۔ زائد نے شامیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
شامیر ایک بات تو بتا تو اتنی دنیا گھوما تُجھے ہم دونوں کی یاد نہیں آئی کیا ۔زائد نے سنجیدہ ہو کر سوال کیا ۔
تم تو اس محبوبہ کی طرح ہو جو دور ہو کر بھی قریب محسوس ہوتی ہے ۔ شامیر
نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
منظر: سٹی ہاسپٹل ۔ ڈاکٹرز لاؤنج
ہاسپٹل کی سفید دیواروں کے بیچ، ڈاکٹرز لاؤنج ایک چھوٹا سا سکون کا جزیرہ تھا۔ شاہمیر اپنے ایپرن کے بٹن کھولتے ہوئے سوفی پر ڈھیر ہو گیا۔ اس کے چہرے پر تھکن تھی، مگر آنکھوں میں وہی پر اعتماد چمک۔
"یار شاہمیر، تو انسان ہے یا مشین؟" زید نے کافی کا مگ پکڑاتے ہوئے پوچھا۔ "صبح سے تین سرجری اور ابھی بھی ایسے بیٹھا ہے جیسے ٹریکنگ پر نکلنے والا ہو"۔
شاہمیر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر پیچھے ٹکایا۔
"زید، ٹریکنگ اور سرجری میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ دونوں میں راستہ بھٹکیں تو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں"۔
فارس، جو پاس ہی فائل دیکھ رہا تھا، ہنس کر بولا، "اس کا بس چلے تو یہ آپریشن تھیٹر میں بھی ماؤنٹین گیئر پہن کر چلا جائے۔ کل مریض سے کہہ رہا تھا۔ 'گھبرائیے مت، یہ سرجری بالکل ویسی ہے جیسے نانگا پربت کی چوٹی پر قدم رکھنا'"۔
"میں نے ایسا کب کہا؟" شاہمیر نے ایک تکیہ اٹھا کر فارس کی طرف اچھالا۔
"کہہ تو تم دیتے ہو!" زید نے چلبلے انداز میں کہا۔ "ویسے سنا ہے آج سینئر ڈین نے تمہیں بلایا تھا؟ کیا کہہ رہے تھے؟ پھر سے کوئی نیا 'expedition' یا ہاسپٹل کا کوئی بورنگ فنکشن؟"
شاہمیر نے گہری سانس لی اور شرارت سے بولا، "کہہ رہے تھے کہ شاہمیر، تمہاری وجہ سے ہاسپٹل کا ڈسپلن خراب ہو رہا ہے۔ تمہارے دوست کام کم اور باتیں زیادہ کرتے ہیں"۔
"اوہو! تو یہ ہماری شکایت ہو رہی تھی؟" فارس نے نقلی ناراضگی دکھائی۔
"نہیں،" شاہمیر نے اٹھتے ہوئے ان کے کندھے تھپتھپائے، "انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ اتنا ہنستے نہ ہوتے، تو شاید یہ ہاسپٹل اتنا زندہ دل نہ ہوتا۔ چلو اب، بریک ختم۔ اگلا راؤنڈ شروع ہونے والا ہے"۔
لاؤنج میں ان کے قہقہے گونج اٹھے، جو ہاسپٹل کی اس سنجیدہ فضا میں کسی تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح تھے۔ شاہمیر نے اپنا سٹیتھوسکوپ گلے میں ڈالا اور ایک پُر وقار چال کے ساتھ باہر نکل گیا، پیچھے اس کے دوست ابھی بھی اس کی ٹانگ کھینچ
نے میں مصروف تھے۔
منظر: سٹی ہاسپٹل ۔ کیفے ٹیریا کا کونا
ہاسپٹل کی کینٹین میں چائے کی بھاپ اور دوستوں کا شور و غل تھا۔ شاہمیر، زید اور فارس ایک کونے والی ٹیبل پر بیٹھے تھے۔ شاہمیر تھکن سے چور، اپنی کرسی کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے ہوئے تھا۔
"اوئے، سرجن صاحب! زندہ ہو یا پوسٹ مارٹم کر دیں تمہارا؟" فارس نے سموسے کی پلیٹ ٹیبل پر زور سے رکھتے ہوئے کہا۔
شاہمیر نے ایک آنکھ کھول کر اسے گھورا۔ "فارس، تو جب تک منہ نہ کھولے، دنیا کتنی پرسکون لگتی ہے نا؟"
"ارے، شکر کر ہم تیرے دوست ہیں،" زید نے چائے کا سپ لیتے ہوئے ٹانگ کھینچی۔ "ورنہ جس طرح تو جونیئر ڈاکٹرز کو او ٹی (OT) میں 'لیکچر' دیتا ہے نا، باہر نکل کر ان کا بس چلے تو تیری گاڑی کے ٹائر پنکچر کر دیں"۔
شاہمیر ہلکا سا ہنسا، اس کی تھکن تھوڑی کم ہوئی۔ "جونیئر ہیں وہ، انہیں سکھانا پڑتا ہے۔ سرجری کوئی مذاق نہیں ہے"۔
"ہاں ہاں، ہمیں پتہ ہے تیرا 'پرفیکشنسٹ' والا بھوت،" فارس نے سموسہ توڑتے ہوئے کہا۔ "لیکن یار شاہمیر، کبھی تو بریک لیا کر۔ پورا ہفتہ ہاسپٹل میں گزار دیتا ہے۔ اگلے مہینے ہم لوگ پلان بنا رہے ہیں، کہیں باہر نکلتے ہیں۔ تو پھر سے 'ایمرجنسی' کا بہانہ مت بنانا"۔
تمھیں تو پتہ ہے میں ایک بر گیا تو جلدی واپس نہیں آتا ۔
شاہمیر نے سیدھے ہو کر بیٹھتے ہوئے میز پر جھک کر کہا، "پلان کہاں کا ہے؟ اگر وہی پرانی جگہ ہوئی تو میں نہیں آ رہا"۔
"بھائی، تیرا بس چلے تو تو ہمیں نارتھ پول لے جائے،" زید نے ہنستے ہوئے کہا۔ "وہاں بھی تو کسی پہاڑی پر کھڑے ہو کر کہو گے ۔ 'دوستو، یہ ویو دیکھو، بالکل ہیومن اناٹومی کی طرح کمپلیکس ہے!'"
شاہمیر نے قہقہہ لگایا۔ "اتنا برا بھی نہیں ہوں میں"۔
"اس سے زیادہ برا ہو بھی نہیں سکتے،" فارس نے چلبلے انداز میں کہا۔ "کل ایک پیشنٹ پوچھ رہا تھا ۔ 'ڈاکٹر صاحب اتنے خاموش کیوں ہیں؟'۔ میں نے کہہ دیا — 'ان کا دل پہاڑوں میں چھوٹ گیا ہے، یہاں صرف جسم گھوم رہا ہے'"۔
"بکواس بند کر،" شاہمیر نے مسکراتے ہوئے فارس کا ہاتھ جھٹکا۔ "ویسے پلان بنا لو، اگر کوئی بڑا کیس نہ ہوا تو میں چلوں گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ڈرائیونگ فارس نہیں کرے گا، مجھے اپنی جان پیاری ہے"۔
"دیکھو! شروع ہو گیا اس کا نخرہ،" زید نے بازو پھیلائے۔
لاؤنج میں ان کی ہنسی گونج اٹھی۔ شاہمیر کو محسوس ہوا کہ یہ تھوڑی دیر کی شرارت اس کے لیے کسی دوا سے کم نہیں تھی۔ تبھی اس کے بیپر نے شور مچایا۔
"لو بھائی، بلاوا آ گیا،" شاہمیر نے اٹھتے ہوئے اپنا ایپرن ٹھیک کیا۔ "تم لوگ بل بھر دینا، اگلی بار میری طرف سے"۔
"ہر بار یہی کہتا ہے!" پیچھے سے فارس کی آواز آئی، مگر شاہمیر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ تیز
ی سے کوریڈور کی طرف نکل گیا۔
منظر: ہاسپٹل پارکنگ ۔ ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد
صبح کے سات بج رہے تھے۔ شفٹ ختم ہو چکی تھی۔ شاہمیر اپنی گاڑی کے پاس کھڑا تھا، تھکن سے برا حال مگر بال اب بھی سیٹ تھے۔ زید اور فارس ہنستے کھلکھلاتے اس کی طرف آئے۔
"اوئے شاہمیر! رک جا، بڑا 'VIP' بنا پھرتا ہے،" فارس نے دور سے ہی آواز لگائی۔
شاہمیر نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے پلٹ کر دیکھا۔ "تم لوگ ابھی تک گئے نہیں؟ گھر جاؤ، سو جاؤ، ورنہ کل پھر کسی غلط نس میں انجکشن ٹھوک دو گے"۔
"ہم تو جا ہی رہے تھے، مگر راستے میں سوچا کہ 'The Great Shahmeer' سے پوچھ لیں... آج ناشتے کا کیا سین ہے؟" زید نے شانہ ہلاتے ہوئے کہا۔ "سنا ہے تیرے گھر سے آج کچھ خاص آنے والا تھا؟"
شاہمیر نے ایک گہری سانس لی اور چابی انگلی پر گھمائی۔ "خاص کچھ نہیں، بس امی نے پراٹھے بھیجے تھے۔ مگر تم دونوں کے لیے وہاں کچھ نہیں ہے"۔
"ایسے کیسے؟" فارس نے لپک کر شاہمیر کے ہاتھ سے چابی چھین لی۔ "دوستی میں 'نو پراٹھا' مطلب دوستی ختم۔ اور ویسے بھی، تو اتنی ڈائٹ شائٹ کرتا ہے، تیرا پیٹ خراب ہو جائے گا اتنے ہیوی ناشتے سے۔ ہم تیری صحت کا خیال رکھ رہے ہیں"۔
شاہمیر نے مسکرا کر سر جھٹکا۔ "تم لوگ میری صحت کا نہیں، میرے ٹفن کا خیال رکھ رہے ہو۔ چابی واپس کر فارس"۔
"پہلے وعدہ کر کہ 'نہاری' کھلانے لے جائے گا ویک اینڈ پر،" زید نے بیچ میں ٹانگ اڑائی۔ "ورنہ یہ گاڑی آج یہیں کھڑی رہے گی اور تو پیدل چل کر جائے گا جیسے اپنے ان پہاڑوں میں جاتا ہے"۔
شاہمیر گاڑی سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا، اس کی تھکن دوستوں کی اس چلبلی باتوں سے کم ہونے لگی تھی۔ "ٹھیک ہے بابا، نہاری پکی۔ اب چابی دو"۔
فارس نے چابی اچھالی جو شاہمیر نے ہوا میں ہی لپک لی۔
"ویسے شاہمیر،" زید نے تھوڑا سنجیدہ ہو کر کہا، "کل رات اس کریٹیکل کیس کے وقت تیرا ہاتھ ایک بار بھی نہیں کانپا۔ ہم سب وہاں ڈر رہے تھے، پر تو... تو تو الگ ہی مٹی کا بنا ہے"۔
شاہمیر نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ایک پُر سکون نظر دوستوں پر ڈالی۔ "جب راستہ مشکل ہو نا زید، تو نظریں منزل پر ہونی چاہئیں، قدموں پر نہیں۔ یہ سیکھا ہے میں نے اپنے سفروں سے"۔
"لو! پھر شروع ہو گیا اس کا 'فلاسفر' موڈ،" فارس نے زور سے قہقہہ لگایا۔ "بھائی، ہمیں سرجری سکھانی ہے تو سکھا، یہ 'سفر اور منزل' والی باتیں کسی کتاب میں لکھ دینا۔ ہم چلے سونے!"
"گدھے ہو تم دونوں،" شاہمیر نے ہنستے ہوئے انجن اسٹارٹ کیا۔
"گدھے ہیں مگر تیرے یار ہیں!" زید نے کھڑکی پر ہاتھ مار کر کہا۔
شاہمیر نے گاڑی آگے بڑھا دی، مگر شیشے میں اپنے دوستوں کو ہاتھ ہلاتے دیکھ اس کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ آئی جو صرف سچی دوستی میں ہی ملتی ہے۔ ایک سخت ڈاکٹر کے پیچھے چھپا وہ "سفرِ رائیگاں" کا مسافر آج
سچ میں خوش لگ رہا تھا۔
۔
منظر: ہاسپٹل کی پارکنگ ۔ رات کا پچھلا پہر
آپریشن تھیٹر سے نکلتے ہی شاہمیر نے اپنا ماسک تھکن سے کھینچ کر ٹھوڑی (chin) پر ٹکا لیا تھا۔ اس کے بال تھوڑے بکھرے ہوئے تھے، مگر چلنے کا وہی پُر اعتماد انداز۔ راہداری (Corridor) کے موڑ پر ہی فارس اور زید کسی پرانی بینچ پر بیٹھ کر ٹھنڈی چائے پی رہے تھے۔
"اوئے! آ گیا سلطانِ سرجری،" فارس نے شاہمیر کو دیکھتے ہی زور سے آواز لگائی۔
شاہمیر نے پاس آکر ٹھنڈی سانس لی۔ "تم لوگ ابھی تک یہیں ہو؟ گھر کیوں نہیں گئے؟"
"گھر جا کر کیا کریں گے؟ بیوی تو ہے نہیں جو انتظار کرے گی، اور نیند ہمیں آتی نہیں،" زید نے چائے کا کپ بڑھاتے ہوئے کہا۔ "یہ لے، ٹھنڈی ہے پر تیرے دماغ کی گرمی ٹھیک کر دے گی"۔
شاہمیر نے کپ پکڑ لیا اور بینچ پر ڈھیر ہو گیا۔ "آج کا کیس لمبا کھینچ گیا۔ پورا جسم ٹوٹ رہا ہے"۔
"تو کسی نے کہا تھا اتنا 'پرفیکٹ' بننے کو؟" فارس نے اس کی ٹانگ کھینچی۔
"میں نے دیکھا تھا، تو ایک ایک ٹانکا (stitch) ایسے لگا رہا تھا جیسے کسی دلہن کا جوڑا سی رہا ہو۔ بھائی، مریض تھا وہ، کوئی فیشن شو کا ریمپ نہیں!"
شاہمیر نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔ "فارس، تو کبھی سدھرے گا نہیں۔ سرجری میں صفائی نہ ہو تو سکون نہیں ملتا"۔
"تجھے تو سکون تب ملتا ہے جب تو کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑا ہو کر ہمیں ویڈیو کال کرے اور کہے۔
'دوستو، یہ آکسیجن دیکھو کتنی فریش ہے'، اور یہاں ہم ہاسپٹل کی کاربن ڈائی آکسائیڈ میں مر رہے ہوتے ہیں،" زید نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
شاہمیر نے چائے کا سپ لیا اور مسکراتے ہوئے بولا، "ویسے، اگلے مہینے کا کیا پلان ہے؟ میں سوچ رہا تھا اس بار تھوڑا 'آف روڈنگ' کرتے ہیں"۔
"نہیں بابا! پچھلی بار تیری ڈرائیونگ کی وجہ سے میری جان حلق میں آ گئی تھی،" فارس نے فوراً کان پکڑے۔ "تو سرجن اچھا ہے شاہمیر، پر ڈرائیور تو کسی سڑی ہوئی فلم کا ولن لگتا ہے۔ پتہ نہیں کہاں کہاں سے گاڑی نکالتا ہے"۔
"ڈر لگتا ہے کیا؟" شاہمیر نے شرارت سے آنکھ ماری۔
"ڈر نہیں لگتا، بس اپنی 'انایٹمی' (anatomy) سے پیار ہے ہمیں،" زید ہنستے ہوئے بولا۔ "تو تو ہے ہی پتھر دل۔ مریض کا پیٹ کھولنا ہو یا پہاڑوں کی دشواریاں، تیرے چہرے پر ایک شکن تک نہیں آتی۔ کبھی تو ڈر کے دکھا دیا کر ہمیں بھی لگے کہ تو انسان ہے"۔
شاہمیر خاموش ہو گیا، اس کی نظریں ہاسپٹل کی دیواروں سے پرے کسی انجان راستے کو ڈھونڈنے لگیں۔ "ڈر سب کو لگتا ہے یار۔ بس دکھانے کا وقت نہیں ملتا"۔
"چلو چلو، اب یہ گہری باتیں بند کرو،" فارس اٹھتے ہوئے بولا، "چلو کینٹین چلتے ہیں، سنا ہے آج پراٹھے تازہ بنے ہیں۔ شاہمیر پیسے تو دے گا، کیونکہ تو نے آج سب سے زیادہ 'تعریف' بٹوری ہے سینئر ڈاکٹر سے"۔
شاہمیر نے مسکراتے ہوئے اپنا سٹیتھوسکوپ جیب میں ڈالا۔ "ٹھیک ہے، چلو۔ مگر شرط یہ ہے کہ فارس راستے میں ایک بھی لطیفہ (joke) نہیں سنائے گا"۔
"یہ تو ناانصافی ہے!" فارس چلایا۔
تینوں ہنستے مسکراتے راہداری میں نکل گئے۔ شاہمیر کی تھکن دوستوں کی اس بے باک دوستی میں کہیں کھو گئی تھی۔ ہاسپٹل کی خاموشی میں ان کے بھاری قدموں کی چاپ ایک
نئی زندگی کا احساس دلا رہی تھی۔
منظر: ہاسپٹل کی چھت (Terrace) ۔ رات کا کھانا
رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہاسپٹل کی کینٹین کا کھانا کھا کھا کر تنگ آئے تینوں دوستوں نے آج چھت پر ڈبہ کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ شاہمیر نے اپنے ایپرن کی آستینیں اوپر چڑھائی ہوئی تھیں اور وہ ایک پرانی پانی کی ٹینکی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔
"یار شاہمیر، یہ جو تیرا 'سیریس ڈاکٹر' والا چہرہ ہے نا، اسے تھوڑا ڈھیلا چھوڑا کر،" فارس نے بریانی کا لقمہ توڑتے ہوئے کہا۔ "مریض ٹھیک ہو جاتا ہے، پر تیرا چہرہ دیکھ کر اسے لگتا ہے ابھی بھی کوئی پیچیدگی (complication) باقی ہے"۔
شاہمیر نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ سر جھٹکا۔ "فارس، سرجری ٹیبل پر ہنسی مذاق نہیں چلتا۔ وہاں ایک ملی میٹر کی غلطی کا مطلب سمجھتے ہو نا؟"۔
"ہاں بھائی، ہم سب ڈاکٹر ہیں، کوئی حلوائی نہیں!" زید نے بیچ میں لقمہ دیا۔ "لیکن تو تو ایسے سرجری کرتا ہے جیسے کوئی جنگ لڑ رہا ہو۔ کل وہ نرس پوچھ رہی تھی۔ 'ڈاکٹر شاہمیر کبھی ہنستے بھی ہیں یا ان کے جبڑے کے پٹھے (jaw muscles) منجمد ہو گئے ہیں؟'"۔
شاہمیر نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھا، جہاں دھندلی سی چاندنی ہاسپٹل کی لائٹس میں کھو رہی تھی۔ "ہنستا تو ہوں، پر شاید تم لوگوں کے بیہودہ لطیفوں پر نہیں"۔
"اچھا؟ تو یہ بتا، اس دن ٹریکنگ پر جب تیرا جوتا پھٹا تھا اور تو ننگے پیر دو کلومیٹر چلا تھا، تب کیوں نہیں ہنسا؟" فارس نے پرانی بات چھیڑ دی۔
شاہمیر کے چہرے پر ایک اصلی اور گہری مسکراہٹ آئی۔ "وہ مذاق نہیں، امتحان تھا۔ اور تم دونوں تو ایسے تھک گئے تھے جیسے صدیوں سے بھوکے ہو"۔
"بھوکے تو ہم ہمیشہ رہتے ہیں،" زید نے شاہمیر کی طرف ڈبہ بڑھاتے ہوئے کہا۔ "لے، تھوڑی بریانی کھا لے، ورنہ تیرا یہ 'ٹریولر' والا جسم ہاسپٹل کی دیواروں میں ہی دفن ہو جائے گا"۔
شاہمیر نے ایک نوالہ لیا اور کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر دبے پاؤں فارس کی طرف بڑھا اور اس کے بال بگاڑ دیے۔
"اوئے! کیا کر رہا ہے؟" فارس چلایا۔
"چیک کر رہا ہوں کہ تیرا دماغ کام کر رہا ہے یا تھک کر سو گیا ہے،" شاہمیر نے قہقہہ لگایا۔
"دیکھو! اس نے مذاق کیا! نوٹ کرو دوستو، آج تاریخ لکھ لو!" زید نے جوش میں اپنا چمچ ہوا میں لہرایا۔
شاہمیر ہنستے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔ "تم لوگ گدھے ہو، پر شاید میرے پاس اس سے بہتر آپشن نہیں ہے"۔
"آپشن ہے ہی نہیں تیرے پاس،" فارس نے کندھے سے کندھا ملایا۔ "ہم وہ نصیب ہیں جو تجھے ہر حال میں جھیلنا پڑے گا۔ چلو اب جلدی کھاؤ، وارڈ راؤنڈ شروع ہونے والا ہے"۔
شاہمیر نے ان کی دوستی کی گرمی کو محسوس کیا۔ ہاسپٹل کی ٹھنڈی اور بے جان فضا میں، یہ دو یار ہی اس کی اصلی 'ایمرجنسی کٹ' تھے۔ اس نے اپنا سٹیتھوسکوپ دوبارہ گلے میں ڈالا اور ایک نئی توانائی کے ساتھ نیچے کی طرف چل دیا، پیچھے سے دوستوں کی
چھیڑ خانی اب بھی جاری تھی۔
منظر: ہاسپٹل کا سنسان کوریڈور ۔ شفٹ کی تبدیلی
رات کے پچھلے پہر کی خاموشی کو فارس کے قہقہوں نے چیر دیا تھا۔ شاہمیر تھکن سے چور، اپنی گردن کو دائیں بائیں جھٹک رہا تھا، جبکہ زید نے اس کے کندھے پر پورا بوجھ ڈال رکھا تھا۔
"اوئے شاہمیر! تو سچ بتا، تو انسان ہے یا وہ جو بچپن میں ہم 'ٹرمینیٹر' (Terminator) دیکھتے تھے؟" فارس نے اس کی آنکھوں کے سامنے انگلیاں نچائیں۔
"پندرہ گھنٹے سے تو او ٹی (OT) میں تھا، اور ابھی بھی تیری کریز خراب نہیں ہوئی؟"
شاہمیر نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور ٹھنڈی سانس لی۔ "فارس، اگر میں تیری طرح بکھرا ہوا دکھنے لگا نا، تو مریض ڈر کے مارے ہاسپٹل سے بھاگ جائیں گے۔ تھوڑا ڈھنگ سے رہا کر، ڈاکٹر لگنا بھی ہوتا ہے"۔
"ہمیں ڈاکٹر لگنے کی ضرورت نہیں، ہمارا کام بولتا ہے،" زید نے ڈھیٹ پن سے کہا۔ "ویسے سن، کینٹین والے نے نیا 'اسپیشل' چائے مصالحہ منگوایا ہے۔ چل آج تیرا ٹیسٹ لیتے ہیں کہ تیری 'حساس سرجن ناک' (sensitive surgeon nose) بتا سکتی ہے کہ اس میں کیا کیا ڈالا ہے؟"
شاہمیر نے ایک گہری سانس لی اور ان کی طرف دیکھا۔ "تم لوگ کبھی تھکتے نہیں؟ میری شفٹ ختم ہو چکی ہے، مجھے صرف نیند چاہیے"۔
"نیند؟ اتنی جلدی؟" فارس نے راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ "ابھی تو ہم نے پلان بنانا ہے کہ ویک اینڈ پر جو تو ہمیں اپنے خرچے پر باہر لے جا رہا ہے، وہاں مینو (menu) کیا ہوگا"۔
"میں نے کب کہا کہ میں خرچہ اٹھاؤں گا؟" شاہمیر نے حیرت سے پوچھا۔
"تونے نہیں کہا، تیری قسمت نے کہا ہے،" زید نے مسکرا کر اس کے ایپرن کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالا اور اس کا بیپر (beeper) نکال کر دیکھنے لگا۔ "دیکھ، ابھی تک کوئی ایمرجنسی نہیں آئی، اس کا مطلب ہے قسمت چاہتی ہے کہ تو ہمیں ٹریٹ دے"۔
شاہمیر نے اپنا بیپر واپس لیا اور انہیں گھورا، مگر اس کی گھڑکی میں دوستی کی نرمی تھی۔ "تم دونوں اتنے بڑے 'مفت خورے' کیسے بن گئے؟"
"بھائی، یہ ہنر صرف تیرے جیسے امیر دوستوں کی وجہ سے آیا ہے،" فارس نے شاہمیر کے گلے میں ہاتھ ڈالا۔ "چل اب، شکل مت بنا۔ وہ دیکھ، زید نے پہلے ہی چائے کے تین کپ آرڈر کر دیے ہیں"۔
شاہمیر نے دیکھا تو زید واقعی کینٹین کی طرف بھاگ رہا تھا۔ شاہمیر نے ایک قہقہہ لگایا اور اپنا سٹیتھوسکوپ اتار کر پاکٹ میں ٹھونس دیا۔
"تم لوگ نا... ایک دن مجھے پاگل کر دو گے،" شاہمیر نے کہا۔
"پاگل تو تو پہلے سے ہے، راستہ ڈھونڈنے کے چکر میں،" فارس نے چلتے چلتے اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔ "ہم تو بس تجھے زمین پر رکھتے ہیں"۔
ہاسپٹل کے کوریڈور میں ان کی ہنسی گونج رہی تھی۔ شاہمیر کو محسوس ہوا کہ یہ تھوڑی دیر کی بک بک اس کے ذہن سے ہر سرجری کا بوجھ اتار دیتی ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے اپنے دوستوں کے پیچھے چل دیا، یہ جانتے ہوئے کہ یہ "سفر
" بھی رائیگاں نہیں جائے گا۔
منظر: ڈاکٹرز ریسٹ روم ۔ کافی مشین کے پاس
رات کے تین بجے تھے۔ شاہمیر کافی مشین کے سامنے کھڑا بٹن دبا رہا تھا، مگر تھکن کی وجہ سے اس کی آنکھیں بار بار بند ہو رہی تھیں۔ تبھی پیچھے سے فارس نے زور سے اس کے کندھے پر "دھم" کیا۔
"اوئے! سو گیا کیا کھڑے کھڑے؟" فارس نے شرارت سے پوچھا۔
شاهیمر نے جھٹکے سے آنکھ کھولی اور ٹھنڈی سانس لی۔ "فارس، کسی دن تو میرے ہاتھوں پیٹا جائے گا۔ سرجن کے ہاتھ اور دماغ دونوں ٹھنڈے رہنے چاہئیں، پر تو۔۔۔"
"پر میں تیرا 'بلڈ پریشر' چیک کرتا رہتا ہوں،" فارس نے کافی کا کپ پکڑتے ہوئے کہا۔ "ویسے زید کہاں ہے؟ ابھی تو یہاں گھوم رہا تھا"۔
تبھی ایک الماری کے پیچھے سے زید کی دبی دبی ہنسی سنائی دی۔ وہ ایک بڑا سا ماسک پہنے شاہمیر کو ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا۔
"زید، باہر آ جا۔ تیرا جوتا دکھ رہا ہے،" شاہمیر نے بنا مڑے کہا۔
زید مایوسی سے باہر نکل آیا۔ "یار شاہمیر، تیرے پاس کیا 'سکس تھ سینس' (sixth sense) ہے؟ اتنی تھکن میں بھی تو ڈر نہیں رہا؟"
"ڈر انہیں لگتا ہے جو راستہ نہیں جانتے،" شاہمیر نے کافی کا سپ لیتے ہوئے کہا۔ "میں تو اندھیرے میں بھی نکل جاؤں تو مجھے پتا ہوتا ہے کہ کون کہاں چھپا ہے"۔
"ہاں بھائی، ہمیں پتا ہے تو 'دی گریٹ ٹریولر' ہے،" فارس نے کرسی پر بیٹھ کر اپنی ٹانگیں ٹیبل پر ٹکا دیں۔ "لیکن یہ بتا، کل جو تو نے سینئر کنسلٹنٹ کے سامنے وہ غضب جیسی اسپیچ دی تھی، وہ کہاں سے سیکھی؟ ہم تو وہاں کھڑے سوچ رہے تھے کہ یہ شاہمیر ہے یا کوئی آکسفورڈ کا پروفیسر؟"
شاہمیر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ٹیبل صاف کیا۔ "سیکھی نہیں جاتی، پڑھنی پڑتی ہے۔ اگر تم لوگ کینٹین کی بریانی سے نظر ہٹاؤ تو شاید تمہیں بھی کچھ سمجھ آئے"۔
"اوہو! دیکھو اس کا غرور،" زید نے چائے کا چمچ ہوا میں لہرایا۔ "لیکن سچ بتا، تو اتنا 'پرفیکٹ' کیسے رہ لیتا ہے؟ ہماری تو ڈیوٹی ختم ہوتے ہی شکل ایسی ہو جاتی ہے جیسے کسی نے کوٹ دیا ہو، اور تو ابھی بھی ایسا لگ رہا ہے جیسے کسی میگزین کے کور کے لیے شوٹ کرنے جا رہا ہو"۔
شاہمیر نے اپنا ایپرن ٹھیک کیا اور ان کی طرف جھک کر بولا، "کیونکہ میں ہاسپٹل کو صرف کام سمجھتا ہوں، اور تم لوگ اسے اپنی سزا سمجھتے ہو۔ جب تک کام سے عشق نہیں کرو گے، تھکن چہرے پر دکھے گی ہی"۔
"چلو، پھر سے شروع ہو گیا اس کا 'فلاسفر' موڈ!" فارس نے تکیہ اٹھا کر شاہمیر کی طرف مارا۔
شاہمیر نے بڑی صفائی سے تکیہ ہوا میں ہی پکڑ لیا۔ "نشانہ بھی تیری سرجری کی طرح کچا ہے، فارس"۔
لاؤنج میں ان تینوں کے قہقہے گونج اٹھے۔ شاہمیر نے ایک بار پھر اپنی گھڑی دیکھی۔ "چلو، مذاق ختم۔ وارڈ راؤنڈ کا وقت ہو گیا ہے۔ اور زید، وہ ماسک اتار دے، ورنہ کوئی مریض تجھے دیکھ کر واقعی 'اوپر' نکل جائے گا"۔
"ٹھیک ہے، ابا حضور!" زید نے سلوٹ کیا۔
تینوں دوست ایک ساتھ کمرے سے باہر نکلے۔ شاہمیر کی وہ پُروقار چال اور پیچھے اس کے دوستوں کی بے باک دوستی۔۔۔ سٹی ہاسپٹل کے کوریڈورز میں یہ منظر سب
کا دل جیت لیتا تھا۔
منظر: ڈاکٹرز ڈیوٹی روم ۔ شفٹ کی تبدیلی
صبح کے چار بج رہے تھے۔ ہاسپٹل کے کوریڈورز میں ایک عجیب سا ٹھنڈا سناٹا تھا، مگر ڈیوٹی روم کے اندر ماحول تھوڑا گرم تھا۔ زید نے ایک پرانی فائل کو پنکھا بنا کر جھلنا شروع کیا ہوا تھا، اور فارس میز پر سر رکھے سو رہا تھا۔
شاہمیر نے دروازہ کھولا اور داخل ہوتے ہی ایک گہری سانس لی۔ "فارس! اگر سینئر کنسلٹنٹ نے تجھے اس حال میں دیکھ لیا نا، تو تیری انٹرنشپ یہیں ختم ہو جائے گی"۔
فارس نے جھٹکے سے سر اٹھایا، اس کی ایک آنکھ بند تھی اور بال ایسے بکھرے تھے جیسے کسی طوفان سے گزر کر آیا ہو۔ "شاہمیر۔۔۔ بھائی۔۔۔ تو انسان ہے یا کوئی جن؟ اتنی تھکن کے بعد بھی تیری آواز میں اتنی انرجی (energy) کہاں سے آتی ہے؟"۔
"اس کو انرجی نہیں، 'ڈسپلن' (discipline) کہتے ہیں،" زید نے ٹانگ کھینچی۔ "لیکن شاہمیر، تو سچ بتا، کیا تو رات کو سوتا ہے یا بس چارجنگ پر لگ جاتا ہے؟"۔
شاہمیر نے مسکرا کر اپنا سٹیتھوسکوپ پاکٹ میں رکھا۔ "سوتا ہوں زید، مگر تم لوگوں کی طرح خراٹے مار کر نہیں۔ چلو اب اٹھو، چائے پینے چلتے ہیں۔ میری طرف سے"۔
"چائے؟ صرف چائے؟" فارس نے فوراً چوکنا ہوتے ہوئے پوچھا۔ "بھائی، آج تو نے وہ بڑا والا کیس سالو (solve) کیا ہے، آج تو کم سے کم آملیٹ پراٹھا بنتا ہے"۔
"ٹھیک ہے، پراٹھا بھی سہی،" شاہمیر نے کرسی کھینچی اور بیٹھ گیا۔ "لیکن شرط یہ ہے کہ زید راستے میں اپنی وہ دکھ بھری کہانیاں نہیں سنائے گا کہ کیسے اس کی بائیک کا پیٹرول ختم ہو گیا تھا"۔
"اوئے! وہ دکھ بھری نہیں، 'ایڈونچرس' (adventurous) تھی،" زید نے برا مانتے ہوئے کہا۔ "ہر کوئی تیری طرح 4x4 گاڑی لے کر پہاڑوں میں نہیں گھومتا نا"۔
شاہمیر نے قہقہہ لگایا۔ "4x4 گاڑی ہو یا پرانی بائیک، راستہ وہی طے کرتا ہے جس کا ارادہ پکا ہو۔ تم لوگ تو ہاسپٹل کے پارکنگ لاٹ میں راستہ بھٹک جاتے ہو"۔
"ہاں بھائی، ہم تو عام لوگ ہیں،" فارس نے شاہمیر کا ایپرن کھینچتے ہوئے کہا۔ "تو تو 'سفرِ رائگاں' کا مسافر ہے۔ ویسے، اگلے مہینے کا تیرا وہ ٹریکنگ (trekking) والا پلان ابھی بھی ہے یا کینسل؟"۔
شاہمیر کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے دور کسی پہاڑی راستے کی چمک آئی۔ "پلان تو ہے۔ مگر تم دونوں کو لے کر جانے کا مطلب ہے اپنا سفر آدھا کر دینا"۔
"کیوں؟ کیونکہ ہم تھک جاتے ہیں؟" زید نے پوچھا۔
"نہیں،" شاہمیر نے اٹھتے ہوئے شرارت سے کہا، "کیونکہ تم لوگ راستے میں اتنی باتیں کرتے ہو کہ پہاڑوں کا سناٹا بھی شرما جاتا ہے"۔
"یہ ہماری تعریف تھی یا بے عزتی؟" فارس نے حیرت سے زید کی طرف دیکھا۔
"جو بھی تھا، پراٹھا تو مل رہا ہے نا؟ چلو!" زید نے شاہمیر کا ہاتھ پکڑ کر اسے دروازے کی طرف دھکیلا۔
تینوں دوست ہنستے ہوئے کوریڈور میں نکل گئے۔ شاہمیر کے چہرے پر ایک پُرسکون مسکراہٹ تھی ۔ ہاسپٹل کی سخت ڈیوٹی اور سرجریز کے بوجھ کے بیچ، یہ دوستوں کا مذاق ہی اس کے لیے س
ب سے بڑی دوا تھی۔