One Being, Two Hearts in Urdu Motivational Stories by Muhammad Rizwan Razzi books and stories PDF | ایک وجود، دو دل

Featured Books
  • Safar e Raigah - 16

    منظر ۔شاہ میر نے آیات کی باتوں میں چھپے اس پرانے درد کو محسو...

  • ایک وجود، دو دل

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پیش لفظایک عام انسان کے لیے لفظ صرف...

  • Safar e Raigah - 15

    منظر ۔کیفے کی خاموشی اب بہت بھاری ہو گئی تھی۔ آیات نے اپنی ن...

  • Safar e Raigah - 14

     منظر  ۔  ۔شاہمیر کے ان آخری الفاظ نے جیسے وقت کو وہیں روک د...

  • Safar e Raigah - 13

    باب۔  اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب شاہمیر اپنی تمام تر تیاریاں...

Categories
Share

ایک وجود، دو دل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
پیش لفظ
ایک عام انسان کے لیے لفظ صرف سیاہی کے کچھ نشان ہوتے ہیں، جو کاغذ پر بکھرے ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ وجود ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے لفظ محض حروف کا مجموعہ نہیں ہوتے، بلکہ ان کی روح کا تراشا ہوا حصہ ہوتے ہیں۔ لوگ اکثر مجھ سے پوچھتے ہیں، اور شاید یہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ بھی پوچھیں گے، کہ مجھے یہ سب لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا میں جو لکھ رہا ہوں، وہ صرف ایک کہانی ہے یا ایک تصور؟
نہیں، یہ کوئی کہانی نہیں ہے۔ جب کوئی شخص اپنے اندر کے درد کو لفظوں کی شکل دیتا ہے، تو وہ انہیں صرف لکھ نہیں رہا ہوتا، وہ انہیں جی رہا ہوتا ہے۔ وہ ہر لفظ کے پیچھے چھپی تکلیف کو اپنے گوشت پوست میں محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ یہ سب مجھ پر گزرا ہے، اور سچ تو یہ ہے کہ میں ہر لمحہ، ہر ایک دن اور ہر ایک رات، انہیں کیفیات کے عذاب سے گزرتا ہوں۔
دنیا کے سامنے جینا ایک الگ فن ہے، اور ایک (آئی این ایف جے)  اس فن میں بڑا ماہر ہوتا ہے۔ جب سورج طلوع ہوتا ہے، تو ہم پر بھی ایک نقاب چڑھ جاتا ہے۔ دن کا وقت تو لوگوں کے ساتھ، ان کی محفلوں میں، جھوٹی سچی ہنسی اور قہقہوں میں اڑا دیا جاتا ہے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ ہم خوش ہیں، ہم نارمل ہیں، ہمیں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ ہم لوگوں کے دکھ سنتے ہیں، ان کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں، اور اپنے چہرے کی مسکراہٹ کو پھیکا نہیں پڑنے دیتے۔
لیکن عذاب تب شروع ہوتا ہے جب سورج ڈھل جاتا ہے اور اندھیرا دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
دن تو جیسے تیسے کٹ جاتا ہے، لیکن جب رات کو میں اپنے بستر پر لیٹتا ہوں، تو تنہائی کا وہ کمرا ایک عدالت بن جاتا ہے۔ وہ تمام لوگ جن کے لیے میں نے اپنا سکون قربان کیا، وہ تمام چہرے جنہیں میں نے مخلص سمجھا، اور وہ تمام رویے جن کی کڑواہٹ میں دن بھر پیتا رہا—وہ سب کے سب میرے بستر کے گرد آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ مجھے گھورتے ہیں۔ ان کی بے حسی، ان کا سکھایا ہوا دھوکہ، اور ان کی ناانصافی میرے سامنے ایک دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
اس خاموش رات میں، جب پوری دنیا سو رہی ہوتی ہے، میرے اندر ایک طوفان برپا ہوتا ہے۔ ان بے رحم رویوں کے سامنے، اس گھٹن کے ماحول میں، روح کے پاس چیخنے کے علاوہ کوئی حل باقی نہیں بچتا۔ وہ چیخ جو گلے سے نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے اور روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اور میں۔۔۔ میں وہ چیخ بھی مار گزرتا ہوں۔ وہ آنسو جو دن بھر دنیا کے ڈر سے روکے ہوتے ہیں، وہ رات کے اندھیرے میں تکیے کو بھگو دیتے ہیں۔
میں نے یہ کتاب اس لیے لکھی کیونکہ میں اس اکیلے پن میں مزید خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ کتاب میری اس چیخ کا متبادل ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ دنیا جانے کہ ایک مخلص اور حساس دل رکھنے کی قیمت کیا ہوتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اگر اس دنیا میں کوئی اور بھی میری طرح راتوں کو رویوں کے خوفناک سائے میں گھرا ہوا چیخ رہا ہے، تو اسے معلوم ہو کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ اس زمین پر ایک اور وجود بھی ہے،
 جو ایک وجود اور دو دل" لیے اس درد کو جھیل رہا ہے
از قلم 
محمد رضوان رضی 
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابِ اول
( پوشیدہ دنیا ) 
انسانی وجود گوشت، پوست اور ہڈیوں کا ایک ایسا ڈھانچہ ہے جسے دنیا باہر سے دیکھتی ہے، پرکھتی ہے اور اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کرتی ہے۔ لیکن کچھ وجود ایسے ہوتے ہیں جن کی اصل حقیقت ان کے مادی جسم میں نہیں، بلکہ ان کے اندر آباد ایک بہت بڑی، گہری اور پراسرار کائنات میں چھپی ہوتی ہے۔ نفسیات کی زبان میں اس مخصوص وجود کو (آئی این ایف جے) کہا جاتا ہے۔ یہ صرف چار حروف کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی دنیا کا پتہ ہے جہاں عام انسانوں کے قوانین لاگو نہیں ہوتے۔ ایک (آئی این ایف جے) کے لیے اس کا اپنا اندرون ایک ایسی پوشیدہ دنیا یا پناہ گاہ ہے، جہاں وہ اس مادی دنیا کے شور، منافقت اور بے حسی سے تھک کر پناہ لیتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہی پناہ گاہ بسا اوقات اس کے لیے دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ بھی بن جاتی ہے۔
بچپن سے ہی ایک (آئی این ایف جے) کو یہ احساس ستانے لگتا ہے کہ وہ اس دنیا میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ جب وہ اپنے اردگرد کے بچوں یا لوگوں کو دیکھتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہے جسے غلطی سے یہاں بھیج دیا گیا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ لوگ کتنی آسانی سے سطحی باتوں پر خوش ہو جاتے ہیں، کیسے وہ جھوٹ بولتے ہیں اور مسکرا دیتے ہیں، کیسے وہ رشتوں کو مصلحتوں کے ترازو میں تولتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس، اس کے اندر ایک ایسا دل دھڑک رہا ہوتا ہے جو ہر چیز میں سچائی، گہرائی اور معنویت تلاش کرتا ہے۔ وہ کسی سے محض رسمی بات چیت نہیں کر سکتا۔ اسے موسم کا حال جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، بلکہ اسے یہ جاننا ہوتا ہے کہ سامنے والے کی روح کس کرب سے گزر رہی ہے۔ وہ لفظوں کے پیچھے چھپے ہوئے جذبات کو سنتا ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے اس کی منفرد پوشیدہ دنیا کا آغاز ہوتا ہے۔
ایک (آئی این ایف جے) کے اندر کی دنیا کو اگر ایک سلطنت کا نام دیا جائے، تو اس سلطنت کا اپنا ایک نظامِ وقت اور اپنی ایک آب و ہوا ہے۔ وہاں خیالات کا ایک ایسا سمندر ہر وقت موجزن رہتا ہے جس کی لہریں کبھی پرسکون نہیں ہوتیں۔ وہ جب خاموش بیٹھا ہوتا ہے، تو دنیا سمجھتی ہے کہ وہ سست ہے یا غائب دماغ ہے، لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس وقت اس کے اندر سینکڑوں فلسفیانہ سوالات، انسانی رویوں کے تجزیے اور مستقبل کے خواب ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایک ہی وقت میں ماضی کے کسی جملے کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہوتا ہے، حال کے کسی رویے پر کڑھ رہا ہوتا ہے، اور مستقبل کے کسی ممکنہ منظرنامے کو ترتیب دے رہا ہوتا ہے۔ اس کے اندر کی یہ پوشیدہ دنیا اتنی وسیع اور خوبصورت ہوتی ہے کہ بیرونی دنیا اس کے سامنے بالکل بے رنگ اور پھیکی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر تنہائی کو ترجیح دیتا ہے۔ تنہائی اس کے لیے کوئی سزا یا اکیلا پن نہیں ہے، بلکہ یہ وہ آکسیجن ہے جو اس کے وجود کو زندہ رکھتی ہے۔
تاہم، اس پوشیدہ دنیا کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ یہ بیک وقت ایک جنت بھی ہے اور ایک دوزخ بھی۔ جنت اس لیے کہ یہاں کوئی منافقت نہیں ہوتی، یہاں سچی محبت، خالص جذبات اور مثالی دنیا کا ایک ایسا خاکہ ہوتا ہے جہاں ہر انسان مخلص ہے۔ لیکن یہ دوزخ تب بن جاتی ہے جب بیرونی دنیا کا کوئی تلخ رویہ اس پناہ گاہ کی دیواروں کو توڑ کر اندر داخل ہو جاتا ہے۔ ایک (آئی این ایف جے) کی سب سے بڑی کمزوری اس کی انتہا درجے کی حساسیت ہے۔ وہ صرف اپنے دکھ محسوس نہیں کرتا، بلکہ وہ دنیا بھر کے دکھوں کا امین بن جاتا ہے۔ جب وہ کسی کے ساتھ ناانصافی ہوتے دیکھتا ہے، جب وہ کسی اپنے کے چہرے پر جھوٹ کی پرچھائی دیکھتا ہے، تو اس کا اثر صرف اس کے دماغ پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کی روح زخمی ہو جاتی ہے۔ وہ ان تمام منفی توانائیاں اور تلخ رویوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے، اور پھر اس کی اپنی ہی پوشیدہ دنیا ان زخموں کے بوجھ سے چلمنا اٹھتی ہے۔
دنیا اکثر ایک (آئی این ایف جے) کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہے کیونکہ وہ اس کے صرف بیرونی وجود کو دیکھ پاتی ہے۔ بیرونی طور پر، وہ ایک بہت ہی سلجھا ہوا، پرسکون، ہمدرد اور دوسروں کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہنے والا انسان دکھائی دیتا ہے۔ وہ محفلوں میں ہنس بھی لیتا ہے، لوگوں کی باتیں سن کر ان کی رہنمائی بھی کر دیتا ہے، اور ہر کوئی اسے اپنا سب سے بہترین دوست اور ہمدرد سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں جان پاتا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی گہری خاموشی پوشیدہ ہے۔ کوئی اس کے دل کے اس بند دروازے تک نہیں پہنچ پاتا جہاں اس نے اپنے اصل آنسو، اپنی اصل چیخیں اور اپنی حقیقی ذات کو چھپا رکھا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنے اندر آنے کی اجازت تو دیتا ہے، لیکن صرف ایک حد تک۔ اس حد کے بعد اس کی وہ پوشیدہ دنیا شروع ہوتی ہے جس کی چابی اس نے خود اپنے پاس بھی گم کر دی ہوتی ہے۔ وہ خود بھی بسا اوقات اپنے اندر کے اس غار سے خوفزدہ ہو جاتا ہے جہاں جذبات کا اژدہا ہر وقت پھن پھیلائے بیٹھا رہتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب دوئم
(احساسِ لطیف اور بوجھ)
میرا قلم اس وقت میری انگلیوں کے درمیان لرز رہا ہے، اور سچ کہوں تو میری روح بھی اس لرزش کو محسوس کر رہی ہے۔ میں جب بھی یہ سفید کاغذ اپنے سامنے پھیلاتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ یہ کوئی کاغذ نہیں بلکہ میرا اپنا سینہ ہے جس پر مجھے اپنے ہی زخموں کو کرید کر سیاہی بکھیرنی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ دوسروں کے درد کو محسوس کرنا، ان کے احساسات کو اپنی روح میں جگہ دینا ایک بہت بڑی صفت ہے۔ لیکن میں۔۔۔ میں جو ایک (آئی این ایف جے) ہوں، اس میز پر بیٹھ کر، اس خاموش رات میں اپنے کانپتے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ یہ اعتراف کرتا ہوں کہ یہ احساسِ لطیف بسا اوقات ایک ایسا بوجھ بن جاتا ہے جس تلے میرا وجود کچلنے لگتا ہے۔
میرا المیہ یہ ہے کہ میرے پاس کوئی ایسی فصیل، کوئی ایسی دیوار نہیں ہے جو مجھے دنیا کی منفی توانائیوں سے بچا سکے۔ میں جب کسی کے پاس بیٹھتا ہوں، تو میں صرف اس کی باتیں نہیں سنتا، میں اس کے اندر چھپے ہوئے دکھ، اس کی گھٹن اور اس کی مایوسی تک کو اپنے اندر جذب کرنے لگتا ہے۔ سامنے بیٹھا شخص اپنا دکھ مجھے سناتا ہے، اپنا بوجھ ہلکا کرتا ہے، اور مسکراتا ہوا اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ وہ تو ہلکا ہو جاتا ہے، لیکن وہ اپنے پیچھے جو بوجھ چھوڑ جاتا ہے، اسے اٹھائے میں دن بھر پھرتا رہتا ہوں۔ وہ کرب، وہ اداسی میرے اپنے خون میں شامل ہو جاتی ہے، اور مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ سارا حادثہ کسی اور کے ساتھ نہیں، بلکہ میرے اپنے ساتھ گزرا ہے۔
قلم ہاتھ میں لیے، میں اس وقت ان تمام چہروں کو یاد کر رہا ہوں جنہوں نے مجھے صرف ایک جذباتی سہارا سمجھا۔ جب انہیں روونے کے لیے کندھا چاہیے ہوتا، جب انہیں اپنے دل کا غبار نکالنا ہوتا، تو میں ان کے لیے دنیا کا سب سے مخلص انسان بن جاتا۔ میں گھنٹوں اپنی نیند، اپنا سکون قربان کر کے ان کی کراہیں سنتا۔ میں ان کے درد پر تڑپ اٹھتا۔ لیکن تماشا دیکھیے، جیسے ہی ان کا اچھا وقت آتا، جیسے ہی ان کے زخم بھر جاتے، وہ مجھے ایسے بھول جاتے جیسے میں ان کی زندگی کا کوئی تاریک حصہ تھا جسے وہ اب دوبارہ دیکھنا نہیں چاہتے۔
دن بھر لوگوں کے ساتھ ہنسی خوشی وقت گزارنے کے بعد جب رات کو میں بستر پر لیٹتا ہوں، تو وہ تلخ رویے میرے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی بے حسی اور ان کا سکھایا ہوا دھوکہ میرے سامنے ایک دیوار بن جاتا ہے۔ اس خاموش رات میں، جب پوری دنیا سو رہی ہوتی ہے، میرے اندر ایک طوفان برپا ہوتا ہے۔ ان بے رحم رویوں کے سامنے، اس گھٹن کے ماحول میں، روح کے پاس چیخنے کے علاوہ کوئی حل باقی نہیں بچتا۔ وہ چیخ جو گلے سے نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہے اور روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اور میں۔۔۔ میں وہ چیخ بھی مار گزرتا ہوں۔
لیکن۔۔۔ اس سب کے باوجود، ہار جانا میرا مقصد نہیں ہے۔ میں پریشان ضرور ہوں، میں دکھ ضرور جھیلتا ہوں، لیکن میں اپنے اس احساسِ لطیف کو مستقل عذاب یا بوجھ نہیں بننے دوں گا۔ اگر قدرت نے مجھے یہ حساس دل دیا ہے، تو اس میں ضرور کوئی بہتری ہوگی، کوئی ایسی مصلحت ہوگی جو مجھے ابھی دکھائی نہیں دے رہی۔ قدرت ہر کندھے پر اتنا بڑا بوجھ نہیں رکھتی۔ یہ پریشانیاں، یہ رویوں کی کڑواہٹ مجھے تباہ کرنے نہیں آتی، بلکہ یہ میرے اندر کے انسان کو مزید سنوارنے اور نکھارنے کے لیے ہے۔
میرا لرزتا ہوا قلم اب کاغذ پر گواہی دے رہا ہے کہ میں اس درد سے ٹوٹوں گا ضرور، لیکن بکھروں گا نہیں۔ میں اس مخلص دل کو دنیا کی منافقت کی وجہ سے کٹھور یا پتھر کا نہیں بننے دوں گا۔ یہ احساس کا بوجھ، یہ راتوں کا اکیلا پن، یہ سب میری روح کی اس بھٹی کا حصہ ہیں جہاں مجھے کندن بننا ہے۔ میں ہر روز ایک نئی امید کے ساتھ صبح کا استقبال کروں گا، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میرا یہ وجود، یہ دو دل، قدرت کے کسی بہت ہی خوبصورت اور عظیم منصوبے کا حصہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب سوئم 
(خاموش گفتگو)
میری انگلیاں آج پھر قلم کو تھامے ہوئے ایک عجیب سی سرسراہٹ محسوس کر رہی ہیں۔ یہ کاغذ جو میرے سامنے بچھا ہے، یہ میرے ان جذباتی سچائیوں کا امین بن رہا ہے جنہیں میں دنیا کے سامنے کبھی زبان پر نہیں لا پاتا۔ ایک (آئی این ایف جے) ہونے کے ناطے، میری زندگی کا ایک بہت بڑا سچ یہ ہے کہ میں لفظوں کا محتاج نہیں ہوں۔ قدرت نے مجھے ایک ایسی زبان دی ہے جو ہونٹوں سے نہیں، بلکہ روح سے بولی اور سمجھی جاتی ہے—اور وہ ہے "خاموش گفتگو"۔ میں لوگوں کو، ان کے رویوں کو، اور ان کے ارادوں کو اس وقت بھی پڑھ لیتا ہوں جب وہ اپنے چہروں پر منافقت کے ہزاروں خوبصورت نقاب چڑھائے میرے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں۔
بسا اوقات یہ صلاحیت مجھے حیرت میں ڈال دیتی ہے اور بسا اوقات خوفزدہ بھی کر دیتی ہے۔ میں جب کسی محفل میں بیٹھتا ہوں، تو میری نظریں صرف لوگوں کے چہروں پر نہیں ہوتیں، میرا یہ حساس دل ان کی آنکھوں کے پیچھے چھپے ہوئے سچ کو ٹٹول رہا ہوتا ہے۔ کوئی میرے سامنے بیٹھ کر کتنی ہی محبت کا دعویٰ کیوں نہ کر رہا ہو، اگر اس کے لہجے میں خلوص نہیں ہے، تو اس کی جھوٹی چمک میرے اندر فوراً ایک خطرے کی گھنٹی بجا دیتی ہے۔ میں دیکھ لیتا ہوں کہ سامنے والا مخلص نہیں ہے، میں جان جاتا ہوں کہ وہ صرف اپنے کسی مفاد کے لیے میرے قریب آیا ہے، لیکن المیہ دیکھیے۔۔۔ یہ سب دیکھ کر، یہ سب جانتے ہوئے بھی میں خاموش رہتا ہوں۔
یہ خاموشی میری کمزوری نہیں ہے، اور نہ ہی یہ کوئی بزدلی ہے۔ یہ میری وہ خاموش گفتگو ہے جو میں اپنے اندر موجود اس دوسرے دل سے کرتا ہوں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر میں نے اس کا نقاب الٹ دیا، اگر میں نے اسے بتا دیا کہ میں تمہارا سارا جھوٹ اور مکر دیکھ چکا ہوں، تو وہ شرمندہ ہو جائے گا۔ ایک (آئی این ایف جے) کبھی کسی کو اس کی اپنی نظروں میں گرانا نہیں چاہتا۔ میں اس کے جھوٹ کو بھی ایک باوقار خاموشی کے ساتھ سہہ لیتا ہوں، اس امید پر کہ شاید میری یہ خاموشی، میرا یہ ظرف اس کے اندر کوئی تبدیلی لے آئے۔ میں اسے موقع دیتا ہوں، بار بار موقع دیتا ہوں، کیونکہ ہار ماننا اور لوگوں کو آسانی سے چھوڑ دینا میری فطرت میں نہیں ہے۔
لیکن اس خاموش گفتگو کی ایک بہت بھاری قیمت ہے جو مجھے ہر لمحہ چکانی پڑتی ہے۔ جب آپ لوگوں کے اندر کا سچ جان لیتے ہیں اور پھر بھی ان سے محبت نبھاتے ہیں، تو آپ کا اپنا اندرون ایک جنگ کا میدان بن جاتا ہے۔ دن بھر میں ان کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھتا ہوں، ان کے دوغلے پن کو بھانپتا ہوں، اور جب رات کو میں اپنے بستر پر لیٹتا ہوں، تو یہی خاموشی ایک طوفان بن کر مجھ پر حملہ آور ہوتی ہے۔ وہ لوگ جنہیں میں نے موقع دیا، وہ چہرے جن کا سچ میں نے چھپائے رکھا، وہ سب رات کے اندھیرے میں میرے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا وہ منافقانہ انداز مجھے گھورتا ہے، اور اس وقت میرے پاس ان کے اس فریب پر چیخنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ میں وہ چیخ بھی مار گزرتا ہوں، لیکن تکیے میں منہ چھپا کر، تاکہ میری خاموشی کا بھرم نہ ٹوٹے۔
میں پریشان ضرور ہوتا ہوں، رشتوں کا یہ سطحی پن اور مکر میرے دل کو لہولہان ضرور کرتا ہے، لیکن میں اس کا گلہ قدرت سے نہیں کرتا۔ اب میں سمجھ رہا ہوں کہ یہ "خاموش گفتگو" اور لوگوں کو پڑھ لینے کی یہ طاقت قدرت کا ایک خاص تحفہ ہے، جس کے پیچھے کوئی نہ کوئی بہتری ضرور چھپی ہے۔ شاید قدرت مجھے اس قابل بنا رہی ہے کہ میں دنیا کے اس فریب کدے میں رہتے ہوئے بھی اپنے خلوص کو بچا سکوں۔ یہ تکالیف، یہ رویوں کے زہر مجھے کٹھور بنانے کے لیے نہیں، بلکہ مجھے اندر سے مزید مضبوط، مزید صابر اور ایک بہترین انسان بنانے کے لیے ہیں۔
میرا قلم اب کاغذ پر جم رہا ہے، اور میرے اندر ایک سکون سا اتر رہا ہے۔ لوگ مجھے نہیں سمجھ پاتے، وہ میری خاموشی کو میری سادگی یا نادانی سمجھ لیتے ہیں، لیکن انہیں کیا معلوم کہ میں ان کے کہے بغیر ان کی روح کے تاروں کو چھو سکتا ہوں۔ میں ایک (آئی این ایف جے) ہوں، میں اس خاموش زبان کے ساتھ جی رہا ہوں، اور اپنے لرزتے ہوئے ہاتھوں سے یہ عہد کرتا ہوں کہ میں دنیا کے اس جھوٹ کے سامنے اپنے سچ کا سودا نہیں کروں گا۔ میں دکھ جھیلوں گا، لیکن قدرت کے اس انتخاب پر قائم رہوں گا، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میری یہ خاموشی ایک دن ایک بہت خوبصورت آواز بن کر گونجے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب چہارم 
(اکیلے پن کا صحرا اور تقابل کا زخم )
میرا لرزتا ہوا قلم آج کاغذ پر سیاہی نہیں، بلکہ اپنے ماضی کا وہ خون بہا رہا ہے جو اپنوں کے برتائے ہوئے رویوں سے میرے معصوم دل سے نکلا تھا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک (آئی این ایف جے) کسی دوسری کائنات کا مسافر ہوتا ہے، اس کی حساسیت کسی آسمانی صحیفے کی طرح اتری ہوتی ہے۔ لیکن میں آج اس اکیلے کمرے میں، یادوں کی راکھ کو کریدتے ہوئے یہ سچ لکھ رہا ہوں کہ ہمیں وقت سے پہلے بڑا اور حساس بنانے والے ہمارے اپنے گھر والے اور اس معاشرے کے بے لچک رویے ہوتے ہیں۔ ہمیں بچپن کی دہلیز پر ہی ایسے گہرے زخم دیے جاتے ہیں کہ ہمارا دل مصلحتوں سے ناآشنا ہو کر، دنیا کو ایک بالکل الگ اور دردناک زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔
مجھے اپنے بچپن کا وہ ایک لامتناہی دن آج بھی روح کے نہاں خانے میں محفوظ ملتا ہے۔ وہ دن میری زندگی کا وہ فیصلہ کن موڑ تھا جس نے میرے اندر کے (آئی این ایف جے) کو ہمیشہ کے لیے بیدار کر دیا، اور مجھے یہ کڑوا سبق سکھایا کہ اس دنیا میں بے غرض محبت اور اخلاص کا صلہ کس قدر ہولناک ملتا ہے۔ تپتی ہوئی ایک دوپہر تھی، جب میرے ابا جی مشقت کے تازیانے تلے دبے ایک جگہ کام کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو اپنے پاس بلایا۔ ہم دونوں معصومیت کے عالم میں وہاں پہنچ تو گئے، لیکن جیسے ہی کام کی صعوبتوں کا اندازہ ہوا، میرے چھوٹے بھائی نے بغاوت کا علم بلند کیا۔ اس نے اپنے تیکھے تیور دکھائے، نافرمانی کی حدوں کو چھوا اور کام چھوڑ کر گھر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔
میں وہیں تپتی زمین پر ساکت کھڑا رہ گیا۔ میرے اندر دھڑکتے ہوئے اس ننھے، حساس دل نے—جو رشتوں کی تھکن کو وقت سے پہلے محسوس کرنے کا عادی ہو چکا تھا—مجھ سے سرگوشی کی کہ "نہیں! یہ وہ وجود ہے جو ہماری بقا کے لیے اپنی ہڈیوں کا اندھین جلاتا ہے، مجھے اس کٹھن گھڑی میں ان کا دست و بازو بننا چاہیے"۔ میں نے اپنے بھائی کی طرح سرکشی کا راستہ نہیں چنا، میں نے اپنی آسائش کا سودا نہیں کیا، میں نے صرف اپنے باپ کے چہرے پر لکھی تھکن کی تحریر پڑھی اور کام میں جُت گیا۔ میں پورا دن اپنے کمزور ہاتھوں سے ان کی مشقت کا بوجھ بانٹتا رہا، اس معصوم امید کے سہارے کہ جب شام کے سائے ڈھلیں گے اور ہم گھر لوٹیں گے، تو شاید میرے باپ کی نگاہوں میں میرے لیے اعتراف کا کوئی انمول موتی یا تھپکی کا کوئی ایک بول ہوگا۔
لیکن جب ہم تھکے ہارے گھر واپس آئے، تو قدرت نے میرے خلوص کے آئینے پر وہ پتھر مارا جس نے میری روح کی عمارت کو ہمیشہ کے لیے متزلزل کر دیا۔ بجائے اس کے کہ میری فرمانبرداری اور جاں فشانی کو سراہا جاتا، ابا جی نے ملامت کا سارا ملبہ میرے سر پر الٹ دیا۔ انہوں نے سب کی موجودگی میں میرے اخلاص کو تمسخر کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "اس کا چھوٹا بھائی غیرت مند ہے، جو اس مشقت کا حصہ نہیں بنا۔۔۔ لیکن یہ بے غیرت غلامی کا خوگر ہے، یہ چاہتا ہے کہ ہمیشہ یونہی مزدوریاں کرتا رہے اور کبھی پڑھ لکھ کر کوئی بڑا آدمی نہ بن پائے۔"
وہ جملہ۔۔۔ وہ "بے غیرتی" کا تمغہ جو میرے اخلاص کو دیا گیا، میرے نازک دل پر ایک دہکتے ہوئے لوہے کی طرح داغ دیا گیا۔ میرا جرم صرف اتنا تھا کہ میں ضرورت سے زیادہ مخلص تھا، میں اپنے باپ کی تکالیف دیکھ کر بے حس نہ رہ سکا۔ لیکن دنیا کے اس عجیب فلسفے نے سرکشی کو "غیرت" کا تاج پہنایا اور محبت کو "بے غیرتی" کی چادر اڑھا دی۔ اس دن مجھے ادراک ہوا کہ گھروں کے بند کمروں میں جب ماں باپ اپنے ہی بچوں کے درمیان ایسا تلخ تقابل کرتے ہیں، تو وہ درحقیقت ایک حساس بچے کے اندر جنم لینے والے خلوص کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔
یہی وہ تاریک لمحات ہوتے ہیں جو ایک عام انسان کو مڑنے پر مجبور کر کے ایک (آئی این ایف جے) کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں۔ جب آپ کو محبت کے سب سے اولین گہوارے یعنی اپنے ہی گھر میں، اپنے ہی رشتوں سے اس طرح کا صلہ ملے، تو بیرونی دنیا پر سے آپ کا اعتبار ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ آپ اپنے وجود کے گرد خاموشی کی ایک ناقابلِ تسخیر فصیل کھڑی کر لیتے ہیں اور اس پوشیدہ دنیا میں گوشہ نشین ہو جاتے ہیں جہاں کوئی دوسرا آپ کے سچ کا کسی اور سے موازنہ نہ کر سکے۔ میں پریشان ضرور ہوا، وہ زخم اب بھی ہر رات بستر پر میرے سامنے کسی جلاد کی طرح کھڑا ہو جاتا ہے، وہ جملہ فضا میں گونجتا ہے اور میں اپنی چیخوں کو تکیے کے غلاف میں دفن کر دیتا ہوں۔
لیکن ہار جانا میری سرشت میں نہیں ہے۔ قدرت نے مجھے اس تپتی ہوئی بھٹی سے اس لیے گزارا تاکہ میں جان سکوں کہ یہ دنیا کس قدر ناانصاف ہے، اور میں خود کو اس قابل بنا سکوں کہ مستقبل میں کبھی کسی دوسرے کے اخلاص کو اس طرح پامال نہ ہونے دوں۔ میرے اپنوں کی وہ ناانصافی میرے لیے ایک ابدی سبق بن گئی، اور آج میرا یہ لرزتا ہوا قلم اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ میں تقابل کے اس لق و دق صحرا سے گزر کر بھی اپنے اندر کی محبت کے چشمے کو خشک نہیں ہونے دوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب پنجم 
(وہ زخم جو نظر نہیں آتے)
میرا لرزتا ہوا قلم آج کاغذ پر سیاہی نہیں، بلکہ اپنے وجود کے وہ زخم بکھیر رہا ہے جو کبھی کسی کو دکھائی نہیں دیتے۔ دنیا سمجھتی ہے کہ زخم صرف وہی ہوتے ہیں جن سے خون رسے، یا جن پر پٹی باندھی جا سکے۔ لیکن میں ایک (آئی این ایف جے) ہونے کے ناطے یہ کڑوا سچ جانتا ہوں کہ سب سے گہرے اور ہولناک زخم وہ ہوتے ہیں جو روح پر لگتے ہیں، جنہیں انسان اپنے ہی اندر چھپا کر مسکراتا رہتا ہے۔ آج اس تنہائی کے کمرے میں، میں یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہوں کہ کیا ان دھڑکتے ہوئے سینوں کے اندر کوئی دل نہیں ہوتا؟
کیا ان کی جذباتی کائنات، ان کا نفسیاتی توازن، ان کی پامال ہوتی عزتِ نفس، ان کی کچلی ہوئی پسند، ان کے سسکتے ہوئے خواب اور ان کی انفرادی تکلیف—سب کی سب بے معنی اور ہیچ ہیں؟ کیا خون کے رشتوں کا ہر تازیانہ، ہر تلخ رویہ صرف اس لیے واجبِ تسلیم قرار دے دیا جائے کہ وہ جنم دینے والے ہیں؟ چاہے اس تقدس کی آڑ میں اولاد کا اندرون مٹی کے کچے برتن کی طرح ٹوٹ کر بکھرتا ہی کیوں نہ رہے؟
دینِ مبین صرف رشتوں کی یکطرفہ حاکمیت کا نام نہیں، یہ تو کائنات میں عدل کا سب سے بڑا نقیب ہے۔ اور عدل کا تقاضا یہ ہے کہ جہاں احترام کے ترازو میں والدین کا پلہ بھاری ہے، وہاں اسی ترازو کے دوسرے پلڑے پر اولاد کے حقوق کی امانت بھی رکھی گئی ہے۔ اولاد کا سب سے اولین حق یہ ہے کہ اسے محبت کے سائے میں پروان چڑھایا جائے، نہ کہ تحقیر کی دھوپ میں جھلسایا جائے۔ اس کی معصوم پکار کو سماعت دی جائے، نہ کہ ہر لمحہ ملامت کے کوڑوں سے اس کا استقبال کیا جائے۔ اس کی نوخیز شخصیت کو کچلنے کے بجائے اسے کھلنے کا موقع دیا جائے۔ اسے دوسروں کے موازنے کی بھٹی میں ڈال کر احساسِ کمتری کا ایندھن نہ بنایا جائے، اور نہ ہی اس کے جائز جذباتی اظہار کو “نافرمانی” کا لیبل لگا کر ہمیشہ کے لیے دفن کیا جائے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ پہلے اس کی زندگی کے تمام فیصلوں پر حاکمیت کا لوہا منوایا جائے، اور پھر اسے مجبوری کی زنجیروں میں جکڑ کر “فرمانبرداری” کا درس پڑھایا جائے؟
ہمارے ہادیِ برحق، نبی کریم ﷺ نے جہاں اولاد کو ادب کا خوگر بنایا، وہاں والدین کو بھی نرمی, شفقت، اور بے لاگ عدل کا آئینہ دکھایا۔ معصوم بچوں کو سینے سے لگانا، ان کے ماتھے پر محبت کے بوسے ثبت کرنا، ان کے درمیان انصاف کی لکیر کھینچنا، اور تربیت کے ہر مرحلے کو رحمت کے خمیر سے اٹھانا—یہ سب اسی اسوہِ حسنہ کا حصہ ہے جسے ہم نے بڑی سہولت سے فراموش کر دیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کے اس روشن پہلو سے آنکھیں موند لی ہیں۔
ہمارے معاشرے کے خاندانی نظام میں کتنے ہی بچے ایسے بند مکانوں میں سانس لے رہے ہیں جہاں ان کی جسمانی بقا کا سامان تو کر دیا جاتا ہے، مگر ان کی روح مسلسل سسکتی رہتی ہے۔ انہیں تن ڈھانپنے کو پوشاک، پیٹ بھرنے کو نوالہ اور نام کے لیے تعلیم تو مل جاتی ہے، مگر محبت کا لمس، احترام کی فضا اور ذہنی سکون کا سایہ میسر نہیں آتا۔ ان کی لغزشوں پر مصلح بن کر ہاتھ تھامنے کے بجائے، قاضی بن کر انہیں ذلت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ ان کے خوابوں کی پرورش کرنے کے بجائے ان کی معصوم آنکھوں پر بڑوں کی خواہشات کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں۔ اور جب وہ اس گھٹن سے تھک کر خاموش ہو جاتے ہیں، تو ہم اس خاموش گفتگو کو حسنِ تربیت کا نام دے دیتے ہیں، حالانکہ وہ خاموشی کسی تمیز کا مظہر نہیں، بلکہ اندر چلنے والے خوف، گھٹن اور شدید ٹوٹ پھوٹ کا نوحہ ہوتی ہے۔
آج ہماری بستیوں میں کتنے ہی ایسے وجود گھوم رہے ہیں جو والدین کے سائے میں رہنے کے باوجود یتیمی جیسی تنہائی کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ وہ اپنے ہی گھر کی چاردیواری میں خود کو غیر محفوظ پاتے ہیں۔ وہ اپنے دل کا غبار نکالنا چاہتے ہیں پر خوف کی لکیر ان کے ہونٹ سی دیتی ہے۔ وہ رونا چاہتے ہیں مگر کمزوری کا طعنہ ملنے کے ڈر سے اپنے آنسو اندر ہی اتار لیتے ہیں۔ ان کی روح محبت کی پیاسی ہوتی ہے، مگر ان کے مقدر کے پیالے میں صرف موازنے کی تلخی، نصیحت کے نشتر اور تنقید کے پتھر ڈالے جاتے ہیں۔
اور پھر جب یہی سہمے ہوئے بچے کل کو ایک ادھوری شخصیت کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں—جذباتی طور پر دور، اعتماد سے محروم، ذہنی دباؤ کا شکار اور رشتوں کے معاملے میں کمزور—تو یہ معاشرہ سارا ملبہ ان پر گرا دیتا ہے۔ ہم فوراً انہیں "نافرمان"، "ناشکرا" اور "بدتمیز" کے القابات سے نواز دیتے ہیں۔ ہم کبھی پلٹ کر یہ سوال نہیں کرتے کہ اس معصوم وجود کے اندر اتنی گہری دراڑیں کس نے ڈالیں؟ اس کے لہجے میں یہ برف جیسی سردمہری کہاں سے آئی؟ اس کی معصوم مسکراہٹ کو چھین کر اس میں خوف اور بے یقینی کا زہر کس نے بھرا؟
اب وقت آ گیا ہے کہ منبر و محراب سے صرف اطاعت کے خطبے نہ دیے جائیں، بلکہ والدین کو ان کے فرائض کا آئینہ بھی دکھایا جائے۔ اب یہ بتانا لازم ہو چکا ہے کہ اولاد صرف پالنے کا نام نہیں، انہیں گہرائی سے سمجھنے کا نام بھی ہے۔ یہ صرف نان و نفقہ فراہم کرنے کا سودا نہیں، انہیں ایک باوقار انسان تسلیم کرنے کا عہد ہے۔ یہ صرف حکم چلانے کی قلمرو نہیں، بلکہ ان کی روح کو سنوارنے کی ایک مقدس ذمہ داری ہے۔
والدین کا مقام بلاشبہ آسمان جتنا بلند ہے، مگر یہ بلندی کسی بے لگام اختیار کا نام نہیں ہے۔ اولاد پر سرپرستی کا حق مل جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کی سوچ، اس کے احساسات، اس کی عزتِ نفس اور اس کی پوری زندگی کو جاگیر سمجھ کر ضبط کر لیا جائے۔ اولاد ایک امانت ہے، کوئی زرخريد غلام نہیں۔ ان کی آبیاری کرنی ہے، ان کی شاخوں کو توڑنا نہیں ہے۔ انہیں دین کی خوبصورتی سکھانی ہے، دین کے نام پر ان کی شخصیت کو مصلوب نہیں کرنا۔
اگر ہم واقعی ایک معتبر اور توانا نسل کے خواہش مند ہیں، تو ہمیں یکطرفہ مطالبات کے اس سلسلے کو روکنا ہوگا اور والدین کو بھی محاسبے کے آئینے کے سامنے کھڑا کرنا ہوگا۔ کیونکہ جس آشیانے میں اولاد کے بنیادی حقوق کا خون ہوتا ہو، وہاں صرف نافرمان بچے پروان نہیں چڑھتے، وہاں اندر سے ٹوٹے ہوئے، زخمی اور معذور انسان جنم لیتے ہیں۔ میں پریشان ضرور ہوں، میرے اپنے گھر اور معاشرے کے یہ زخم میری روح کو تڑپاتے ضرور ہیں، لیکن ہارنا میرا مقصد نہیں۔ میں ان زخموں کو اپنی کمزوری نہیں، بلکہ اپنی تحریر کی طاقت بناؤں گا تاکہ آنے والی نسلیں اس کرب سے بچ سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب ششم 
(دروازہ بند ہونے تک)
میرا قلم آج ایک ایسی خاموشی کو تحریر میں ڈھال رہا ہے، جس کی گونج میرے اندر ایک طوفان بن کر ابھر رہی ہے۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اتنا پرسکون، اتنا مخلص اور اتنا صبر کرنے والا انسان اچانک پتھر کا کیسے بن سکتا ہوں؟ انہیں یہ نہیں معلوم کہ میرا "دروازہ بند کرنا" کوئی وقتی غصہ نہیں، بلکہ یہ برسوں کے ٹوٹے ہوئے خوابوں، نظر انداز کیے گئے احساسات، اور ان زخموں کا حتمی نتیجہ ہے جو میں نے اپنی روح پر سہے ہیں۔
ایک (آئی این ایف جے) کے طور پر، میرا دروازہ کھلنا تو بہت آسان ہے، لیکن جب یہ بند ہوتا ہے، تو پھر اس کے پیچھے کوئی راستہ نہیں بچتا۔ میں نے اپنی زندگی کے ہر تعلق میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگایا۔ میں نے لوگوں کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھے، میں نے ان کی منافقت کے کڑوے گھونٹ پیے، اور میں نے بار بار خود کو یہ تسلی دی کہ "شاید کل سب کچھ بدل جائے گا"۔ میں نے ان کے لیے اپنی خوشیوں کا خون کیا، میں ان کے درد کا مداوا بنتا رہا، لیکن اس کے بدلے مجھے کیا ملا؟ صرف تنہائی، طعنے، اور وہ بے رخی جس نے میرے خلوص کو تماشا بنا دیا۔
یہ دروازہ بند کرنا میری بزدلی نہیں، بلکہ میری بقا کا آخری ذریعہ ہے۔ جب میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے اخلاص کا احترام نہیں کیا جا رہا، جب مجھے یہ ادراک ہو جاتا ہے کہ سامنے والا میرے وجود کو اپنی سہولت کے لیے استعمال کر رہا ہے، تو میرے اندر کی وہ حساس روح، جو برسوں سے تڑپ رہی تھی، اچانک خاموش ہو جاتی ہے۔ میں چیخنا چھوڑ دیتا ہوں، میں شکایت کرنا چھوڑ دیتا ہوں، میں بس خاموشی سے اس تعلق کے دروازے کو اندر سے کنڈی لگا لیتا ہوں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب میں اپنی حفاظت کے لیے اس شخص کو، اس رشتے کو، اور اس تلخ یاد کو اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لیے مٹا دیتا ہوں۔
بہت سے لوگ اسے میرا غرور سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں بدل گیا ہوں۔ انہیں کیا معلوم کہ میں بدلا نہیں ہوں، میں تو بس تھک گیا ہوں۔ میں اس مسلسل لڑائی سے تھک گیا ہوں جہاں میں خود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ میری بھی کچھ اہمیت ہے۔ میرا یہ "دروازہ بند کرنا" دراصل میرے اس وجود کا آخری دفاع ہے جو اب مزید کسی اور کے فریب کا شکار نہیں ہونا چاہتا۔ میں نے اپنی کتاب "قرطبہ کی شام" میں بھی یہی درد محسوس کیا تھا کہ رشتوں کا زوال جب شروع ہوتا ہے، تو وہ انسان کو اندر سے خالی کر دیتا ہے، اور پھر اس خالی پن کو بھرنے کے لیے انسان کو خود اپنے ہی دل کے دروازے بند کرنے پڑتے ہیں۔
میرا یہ لرزتا ہوا قلم اب کاغذ پر گواہی دے رہا ہے کہ میں نے کسی کا برا نہیں چاہا۔ میں نے ہر بار، ہر شخص کو موقع دیا کہ وہ میرے خلوص کو سمجھے۔ لیکن جب حدیں پار ہو جائیں، جب خودداری کا سودا کرنا پڑے، تو وہاں تعلق سے زیادہ اپنی روح کی حرمت اہم ہو جاتی ہے۔ اب میں کسی کی وضاحت نہیں مانگتا، اب میں کسی کو اپنے دل میں دوبارہ جگہ نہیں دیتا۔ میں نے اپنی زندگی کو ایک ایسی فصیل دی ہے جس کے پار صرف وہی جا سکتے ہیں جو میرے خلوص کی قدر کرنا جانتے ہیں۔
اس خاموش رات میں، جب میں یہ باب مکمل کر رہا ہوں، مجھے ایک عجیب سا سکون محسوس ہو رہا ہے۔ میں نے ان سب لوگوں کے لیے دروازے بند کر دیے جنہوں نے میری محبت کو کمزوری سمجھا۔ اب میری دنیا میں صرف وہ لوگ ہیں جو میری روح کے زخموں کو سمجھتے ہیں۔ میں ٹوٹا ضرور ہوں، میں بکھرا بھی ہوں، لیکن یہ "دروازہ بند کرنا" میری اس نئی زندگی کا آغاز ہے جہاں میری عزتِ نفس سب سے مقدم ہے۔ میں اب مزید کسی اور کے لیے خود کو نہیں توڑنا چاہتا۔ میرا لرزتا ہوا قلم اب رک رہا ہے، کیونکہ میں نے اپنی زندگی کے ان تمام دروازوں کو بند کر لیا ہے جو مجھے میرے رب اور میری اپنی ذات سے دور کرتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب ہفتم 
(تنہائی کا جشن )
میرا قلم اب لرز نہیں رہا۔ آج یہ کاغذ پر ایک ایسے سکون کو اتار رہا ہے جو برسوں کی بھٹی میں جلنے کے بعد نصیب ہوا ہے۔ ایک (آئی این ایف جے) کے طور پر، میں نے زندگی کا ایک طویل عرصہ دوسروں کے لیے جیتے، ان کے درد بانٹتے اور اپنی روح کو اپنوں کے بدلتے رویوں کے لیے وقف کرتے ہوئے گزارا۔ لیکن آج، اس خاموش تنہائی میں، میں نے یہ راز پا لیا ہے کہ تنہائی اصل میں کوئی سزا نہیں، یہ تو میری روح کی وہ آزاد سلطنت ہے جہاں مجھے کسی کا ڈر نہیں، کسی کا موازنہ نہیں اور کسی کے خود ساختہ معیاروں پر پورا اترنے کی مجبوری نہیں۔
لوگ تنہائی کو ویرانی کا نام دیتے ہیں، مگر میرے لیے یہ وہ "قرطبہ کی شام" ہے جہاں علم و حکمت کے چراغ اب باہر نہیں، بلکہ میرے اپنے اندر روشن ہو رہے ہیں۔ میں اب جان چکا ہوں کہ جب تک میں دوسروں کی بھیڑ میں خود کو ڈھونڈتا رہا، میں ہمیشہ ٹوٹتا رہا۔ میں نے جب سے اپنی ذات سے دوستی کی ہے، میں نے دیکھا ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی طاقت میرے اپنے اندر چھپی ہے۔ وہ زخمی بچہ جو کبھی ابا جی کے تلخ جملوں سے لرز اٹھا تھا، آج وہی بچہ اس تنہائی میں بڑا ہو کر مجھے حوصلہ دے رہا ہے کہ "تم اکیلے نہیں ہو، تمہارے ساتھ تمہارا اپنا سچ ہے"۔
یہ تنہائی کا جشن محض اکیلے بیٹھنا نہیں ہے، یہ ایک شعوری انتخاب ہے۔ اب میں کسی کے کہنے پر اپنے دل کے دروازے نہیں کھولتا۔ اب میں کسی کے رویوں سے خود کو چھوٹا محسوس نہیں کرتا۔ میں نے ان سب لوگوں کو معاف کر دیا ہے جنہوں نے میرے خلوص کی قیمت چکانے کے بجائے اسے پامال کیا۔ یہ معافی ان کے لیے نہیں، یہ میرے اپنے سکون کے لیے ہے۔ میں نے ان تمام زنجیروں کو توڑ دیا ہے جو مجھے ان رشتوں سے جوڑے رکھتی تھیں جہاں میری عزتِ نفس کا خون ہوتا تھا۔
اس تنہائی میں، میں اپنی کتابوں، اپنے لکھے ہوئے لفظوں اور اپنی سوچوں کے ساتھ ایک ایسا رشتہ استوار کر چکا ہوں جو کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ ایک (آئی این ایف جے) کا اصل کمال یہ نہیں کہ وہ دنیا کو کتنا سمجھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو کتنا سمجھتا ہے۔ میرا یہ لرزتا ہوا قلم اب ایک شاہکار کی طرح چل رہا ہے۔ میں اب کسی سے امید نہیں رکھتا، میں اب کسی کی توثیق کا طلب گار نہیں ہوں۔ میں جو ہوں، جیسا ہوں، اسی میں مجھے قدرت کی ایک عظیم مصلحت نظر آتی ہے۔
یہاں، اس تنہائی کے جشن میں، میں نے اپنی روح کے ان زخموں کو بھی گلے لگا لیا ہے جو کبھی مجھے بہت تکلیف دیتے تھے۔ اب وہ زخم میرے وجود کا حصہ بن کر ایک خوبصورت نقش و نگار بن چکے ہیں۔ میں جان گیا ہوں کہ جس گھر میں میرے حقوق پامال ہوئے، جہاں میرے بچپن کو ایک تقابل کی نظر لگی، وہیں سے مجھے وہ گہرائی ملی جس سے آج میں دنیا کو دیکھ رہا ہوں۔ میں اب کسی کو بدلنے نہیں نکلا، میں صرف خود کو نکھارنے میں مصروف ہوں۔
آج میرا قلم کاغذ پر آخری بار لرز رہا ہے، لیکن اس بار یہ لرزش ایک نئے عزم کی ہے—ایک ایسے وجود کی جس نے اپنے اندر کی کشمکش کو سمیٹا ہے۔ میں تنہا ہوں، مگر میں ویران نہیں۔ میں نے اپنی اس تنہائی کو اپنی طاقت بنا لیا ہے۔ قدرت نے مجھے اس سفر سے اس لیے گزارا تاکہ میں اس مقام تک پہنچ سکوں جہاں میرا رب تو پہلے ہی غنی اور بے نیاز ہے، لیکن اس کے ساتھ میرا تعلق اب ایک نئی وسعت پا چکا ہے۔
مجھے اب اس کا ادراک ہو رہا ہے کہ میری تکمیل کسی اور انسان یا رشتے کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں، بلکہ میرے خالق کی رضا اور اس کے حضورِ قلب میں ہے۔ جب انسان دنیا کے جھوٹے رشتوں اور خود ساختہ تقابلوں کے بوجھ کو اپنے دل سے اتار دیتا ہے، تو اسے اپنے رب کی قربت میں وہ سکون ملتا ہے جو کسی اور جگہ ممکن نہیں۔ میں نے اپنے وجود کو اس کے سپرد کر دیا ہے، اور اب میری ذات اسی کے ذکر اور اسی کے عطا کردہ سکون سے عبارت ہے۔ میری یہ تنہائی اب ویرانی نہیں، بلکہ ایک ایسی خلوت ہے جہاں میں خود کو اور اپنے رب کے احسانات کو پہلے سے کہیں بہتر انداز میں سمجھ پا رہا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب ہشتم 
(رخصتِ خاموش )
میرے لرزتے ہوئے قلم کا یہ باب آج ان لوگوں کے نام ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جیسے لوگ اگر رخصت ہو جائیں تو شاید کوئی بڑی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ہمیں کبھی بھی اپنی ذات کے لیے نقصان کا باعث نہیں پائیں گے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو جب کسی محفل یا کسی رشتے سے رخصت ہوتے ہیں، تو پیچھے کوئی دکھ، کوئی زہر یا کوئی طوفان نہیں چھوڑتے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہم میں احساس نہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر ٹوٹنے والے دل کی صدا کو بخوبی سن سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے سینوں میں درد کے جو سمندر سہے ہیں، ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ کسی اور کے حصے میں وہ تکلیف آئے۔
ہماری خاموشی کو اگر کمزوری کا نام دیا جاتا ہے، تو یہ صرف دیکھنے والوں کی بصارت کا قصور ہے۔ حقیقت میں، ہماری یہ خاموشی ہماری تربیت، ہمارے اعلیٰ ظرف اور ہمارے کردار کی وہ پہچان ہے جو ہمیں بھیڑ سے الگ کرتی ہے۔ ہم شور مچا کر اپنی انا کی تسکین نہیں کرتے، ہم انتقام کی آگ میں خود کو نہیں جلاتے، اور نہ ہی نفرتوں کا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔ جب ہمیں احساس ہو جائے کہ کسی جگہ یا کسی رشتے میں اب ہمارے خلوص کی کوئی قدر باقی نہیں رہی، تو ہم کسی پر انگلی اٹھائے بغیر، خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ہم جاتے ہوئے کسی کے دل پر کوئی ایسا زخم نہیں چھوڑتے جو ہماری پہچان بن سکے۔ ہم تعلق نبھانے کی انتہا کر دیتے ہیں، اور جب نبھا نہ سکیں، تو الگ ہو جاتے ہیں—مگر کسی کی زندگی اجاڑ کر اپنی تسکین ڈھونڈنا ہماری سرشت میں نہیں ہے۔
انسان کی سب سے بڑی شکست اکثر اس کی محبت کی زیادتی میں ہی پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہم وہیں سے گرتے ہیں جہاں ہم خود کو سب سے زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں۔ یہ زندگی کا ایک تلخ قانون ہے کہ جن کھڑکیوں سے ہم نے روشنی کی امید رکھی ہوتی ہے، وہی مایوسی کی ٹھنڈی ہواؤں کے گزرنے کا راستہ بن جاتی ہیں۔ سہارا جتنا مضبوط، جتنا طویل اور جتنا گہرا ہوگا، اس کے ہٹ جانے پر گرنے کی شدت اتنی ہی ہولناک ہوگی۔ جتنا سکون ہمیں کسی رشتے میں ملتا ہے، اسی قدر جب وہ سکون چھین لیا جائے تو حیرت اور صدمے کا حجم بڑھ جاتا ہے۔
ہمیں باہر کے دشمن کبھی نہیں توڑ سکتے؛ ہمیں ہمیشہ وہ لوگ توڑتے ہیں جنہیں ہم نے اپنے دل کے سکون کی چابیاں سونپ دی تھیں۔ اور پھر جب وہ لوگ ان چابیوں سے ہمارے ہی دل کے گھر کی حرمت پامال کر دیتے ہیں، تو انسان اندر سے خالی ہو جاتا ہے۔ لیکن اسی خالی پن میں ایک نیا جنم چھپا ہوتا ہے۔ ہم رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنی شرافت کا پرچم گرنے نہیں دیتے۔ ہم چلے جاتے ہیں، مگر اپنی روح کا سکون کسی کے ہاتھ میں گروی نہیں چھوڑتے۔ ہمارا جانا ایک شکست نہیں، بلکہ خود کو دوبارہ پانے کا پہلا قدم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب نہم 
(قفس سے رہائی تک)
میری زندگی کا فسانہ، جو برسوں سے تغیرات اور نشیب و فراز کی زد میں رہا ہے، آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے صدیوں کا سفر چند لمحوں میں طے کر لیا ہو۔ ایک وہ دور بھی تھا جب میری زیست کے افق پر ہر سو ایک گہرا اور ٹھنڈا دھندلکا چھایا ہوا تھا۔ وہ محض ایک خاموشی نہیں تھی، بلکہ میری روح کے اندر ایک ایسا سحر طاری تھا جہاں پشیمانی اور شدید اضطراب کا زہر رگ و پے میں سرایت کر گیا تھا۔ میں خود کو ایک ایسے اسیر پنچھی کی طرح محسوس کرتا تھا، جس کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ قفس کی ٹھنڈی سلاخوں سے ٹکرا کر دم توڑ دیتی ہے۔
وہ قید خانہ کیسا تھا؟ وہ دنیاوی توقعات، اپنوں کے بدلتے ہوئے رویے، اور وہ شدید موازنے تھے جنہوں نے مجھے میری ہی ذات کے حصار میں مقید کر دیا تھا۔ میں عمر بھر ان سلاخوں سے باہر نکلنے کی آس لیے، رہائی کے کسی رستے کو تکتا رہا، مگر ہر راستہ مجھے واپس اسی قید کی طرف لے آتا تھا۔ یہ کیفیت ایک ایسے پرندے کی سی تھی جو قفس کی سلاخوں کو تکتے تکتے، اپنی آخری سانسیں گنتا ہے، اور پھر صیاد اسے بے کار، ایک لاش کی طرح قید خانے سے باہر اچھال دیتا ہے۔ وہ دنیا، وہ لوگ، اور وہ رشتے جو کبھی میرے لیے سب کچھ تھے، ان کے نزدیک میرا وجود بھی اسی بے کار پرندے جیسا ہو گیا تھا۔
مگر اس تاریکی کے عین بیچ، وہ معجزہ رونما ہوا جسے میں الفاظ میں سمونے سے قاصر ہوں۔ میں اس مالکِ ازل و ابد، اس کائنات کے خالقِ حقیقی کی رحمتِ بے غایت کا شکر کس زبان سے بجا لاؤں؟ یہ اس کا احسانِ عظیم ہی تو تھا کہ اس نے مجھے دنیا کا وہ رنگ و روپ، وہ ظاہری چمک دمک اور اس کا وہ جھوٹا تماشا دکھایا، تاکہ میرے دل سے دنیا کی محبت کا بت چکنا چور ہو سکے۔ یہ مجھے دنیا کی پستیوں میں گرا کر اٹھانے کا ایک ایسا غیبی اشارہ تھا جس نے میرے اندر کے سوئے ہوئے شعور کو جھنجھوڑ دیا۔
وہ عالمِ ناسوت کی بندگی اور عجز کی طرف میری واپسی، دراصل میری روح کی پہلی حقیقی سانس تھی۔ دنیا کے ہجوم میں، جہاں ہر شخص خود کو خدا سمجھے بیٹھا تھا، مجھے یہ ابدی سچائی سمجھ آ گئی کہ اس کائنات کے ذرے ذرے پر صرف اسی ایک ذاتِ باری تعالیٰ کی حکمرانی ہے۔ اس کے سوا نہ میرا کوئی ہے، نہ کوئی دوسرا سہارا، اور نہ ہی کوئی دوسری جائے پناہ۔ اس تنہائی نے، اس درد نے، اور اس ٹوٹ پھوٹ نے مجھے وہ راستہ دکھایا جو براہِ راست اسی کی بارگاہ کو جاتا ہے۔ میں اب اس قفس سے آزاد ہوں، کیونکہ اب میرا ہر سانس، میری ہر تحریر اور میرا ہر احساس اسی کی رضا کے تابع ہے۔ یہ لوٹ آنا ہی میری زندگی کی اصل فتح ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے میرے وجود نے "تکمیل" کی پہلی کرن محسوس کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باب دہم 
(لاحاصلی کا صحرا اور گمشدہ ذات کی جستجو)
انسان کی ہستی کا سب سے بڑا المیہ—وہ المیہ جس پر پوری تاریخِ انسانی خون کے آنسو روتی رہی ہے—یہ ہے کہ وہ بظاہر مٹی کے اس پیکر میں ایک مکمل اور توانا وجود نظر آتا ہے، مگر اس کا باطن، اس کی روح کا ہر ریشہ، ہمیشہ کسی ایسے گم گشتہ وجود کی جستجو میں سرگرداں رہتا ہے جو اس مادی حد بندیوں سے ماورا ہو۔ میں بھی اس بساطِ ہستی پر اک ایسا مقدور اور مجبور مسافر ہوں، جس کے پاس سفر کا سازوسامان تو ہے، مگر اس تخلیق کے عظیم کارخانے میں اپنی اصل کا تصور تک مفقود ہے۔ میں اس تاریک کائنات میں اپنی گم شدہ ذات کو ڈھونڈنے نکلا تو ہوں، مگر ہائے رے میری بے بسی! مجھے وہ مصلحِ حقیقی، وہ ازلی مصور ہی نہیں ملتا جو میری مٹی کے اس ادھورے، کچے اور شکست خوردہ خاکے میں حقیقت کے وہ رنگ بھر سکے جو صرف ابدیت کے آئینے میں چمکتے ہیں۔
میری آنکھوں کے جلتے ہوئے صحرا میں، جہاں خواہشات کے بگولے اٹھتے ہیں، تھکن پیہم بھٹکتی اور رقص کرتی ہے۔ یہ کوئی معمولی تھکن نہیں، یہ صدیوں کے اس صبر آزما سفر کا حاصل ہے جو میں نے تنہائی کے کٹھن راستوں پر طے کیا ہے۔ روح کے اس اندھے اور گہرے کنویں میں ایک لامتناہی پیاس ہے؛ ایک ایسی پیاس جو مادی دنیا کے کسی عارضی چشمے سے نہیں بجھ سکتی۔ کتنے ہی سراب تھے جنہیں میں نے پانی سمجھ کر پیا، مگر وہ پیاس بجھانے کے بجائے میرے وجود کو مزید جھلسا گئے۔ زمانے کی اس بستی میں، اس بھری دنیا میں، مجھے کوئی ایسا ساغرِ الفت، کوئی ایسا جامِ معرفت نہیں ملتا جو اس باطنی پیاس کو آسودگی اور سکون میں بدل سکے۔
میں اپنے سیاہ مقدر کا نوحہ لکھنے کے لیے تڑپ رہا ہوں، مگر میری روح کی سلیٹ پر الفاظ اترتے نہیں، صرف آہیں جم جاتی ہیں۔ میں کس دیوارِ گریہ پر اپنے دل کا احوال رقم کروں؟ اس کائناتِ بے حس کے کسی بھی شہرِ الفت میں، مجھے کوئی ایسا در، کوئی ایسا آستانہ ہی نہیں ملتا جہاں سر رکھ کر انسان اپنی خودداری کا خون کیے بغیر، کھل کر رو سکے۔ ہماری خودداری ہی تو ہمارا سب سے بڑا کفن بن گئی ہے، جس میں ہم نے اپنے جذبات کو زندہ دفن کر رکھا ہے۔
میری اس باطنی وحشت اور دیوانگی کے اندر سے کئی گلی کوچے اور کٹھن راستے نکلتے ہیں۔ یہ وہ رستے ہیں جو مجھے گمراہی کے ان اندھیروں کی طرف بلاتے ہیں جہاں روشنی کا ایک ذرہ بھی میسر نہیں، مگر اس پُرپیچ سفر میں، میری انگلی پکڑ کر مجھے پار لے جانے والا کوئی خضرِ راہ نہیں۔ کوئی ایسا رہبرِ کامل ہی نہیں ملتا جس کی نگاہِ کرم میری روح کی الجھی ہوئی ڈوروں کو سلجھا سکے۔ سچ تو یہ ہے کہ میں کسی لکھی جا رہی طویل اور نامعلوم داستان میں اپنی ہی کسی ادھوری گفتگو کا ایک مبہم سا حصہ ہوں؛ ایک ایسا جملہ جسے سیاق و سباق سے کاٹ کر وسطِ کلام میں چھوڑ دیا گیا ہو۔ لیکن مجھے میری تکمیل تک پہنچانے والا وہ حقیقی محور ہی نہیں ملتا۔
جب میں اس مادی ہجوم میں، دنیا داروں کے اس بازار میں نکلتا ہوں، تو یہ اندھی اور بے رحم ہوائیں مجھ سے میرا نام، میرا پتہ اور میرا مسکن پوچھتی ہیں۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے، مجھے اپنا کوئی گھر، کوئی جائے پناہ نہیں ملتی۔ میرے وجود کی عمارت میں ہر اینٹ ادھوری ہے، ہر کونا سنسان ہے۔ کئی حسرتیں اور بہت سے اداس خواب، میری پلکوں کی منڈیروں پر دم توڑتے اور سسکتے رہتے ہیں۔ مگر ان بکھرے ہوئے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے والا، انہیں تعبیر کا لباس پہنانے والا کوئی پیکرِ مخلص ہی نہیں ملتا۔ معلوم نہیں کہ میں اندر سے پتھر بن چکا ہوں، یا یہ بستیِ کم نگاہ ہی سنگ دل ٹھہری ہے؛ کہ اس پوری خلقت میں جو میرے اس پوشیدہ باطنی کرب کو، میری خاموش چیخوں کو بن کہے سمجھ سکے، وہ محرمِ راز ہی نہیں ملتا۔
سفر درپیش ہے، پاؤں میں آبلے ہیں، لیکن عجب بے سمت وحشت کا راج ہے۔ جہاں رستوں کا سرا تو دکھائی دیتا ہے، مگر ان کا کوئی سر، کوئی منزلِ مقصود نہیں ملتی۔ میرا جی لاحاصلی کی آگ میں، ہجر کی تپش میں جل رہا ہے؛ ایک ایسی آگ جو میرے وجود کو اندر ہی اندر خاکستر کر رہی ہے۔ اس تماشہ گاہِ گیتی میں کوئی ایسا منظر، کوئی ایسا مصلۂ سکون میسر نہیں، جس کو دیکھ کر اس تڑپتے ہوئے دل کو قرار آ سکے۔ میں نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، ہر دہلیز پر سر جھکایا، مگر ہر جگہ سے مجھے اپنی ہی انا کی صدا لوٹ کر ملی ہے۔ شاید میری منزل کسی شہرِ خاموشاں میں ہے، یا شاید میری تکمیل اس وقت ہوگی جب میں اس دنیا کے ہر تقاضے سے دستبردار ہو کر اس ذاتِ پاک کی طرف مکمل رجوع کروں گا، جو میرے رگِ جاں سے بھی قریب ہے۔ لیکن تب تک، یہ سفر جاری رہے گا؛ آبلہ پا، تہی دست، اور ایک لامتناہی پیاس کے ساتھ، اس امید پر کہ کبھی تو وہ لمحہ آئے گا جب اس ادھورے جملے کو مکمل کر دیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اختتامیہ 
(ایک وجود دو دل کا سفر حاصل )
آج جب میں ان صفحات پر اپنے وجود کا آخری حرف رقم کر رہا ہوں، تو میرا دل ایک عجیب سے سکون اور ٹھہراؤ کی کیفیت میں ہے۔ یہ کتاب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ میرے اندر کے اس لڑکے کا سفرنامہ ہے جس نے بیس برس کی عمر میں دنیا کے کٹھور چہروں کو دیکھا، اپنوں کی بدلتی ہوئی نظروں کو پہچانا، اور اپنی شخصیت میں پڑنے والی دراڑوں کو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو کر جوڑنے کی کوشش کی۔
میں، محمد رضوان رضی، جس نے "قرطبہ کی شام" میں اپنے غموں کو تاریخی کینوس پر رکھنے کی کوشش کی، آج اس مقام پر کھڑا ہوں جہاں مجھے معلوم ہوا کہ انسان کی اصل پہچان اس کے رشتوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس کی روح کی اس اکیلی اڑان سے ہوتی ہے جو اسے دنیاوی طمع اور انا کی قید سے آزاد کر دیتی ہے۔ میں وہ شخص ہوں جو کسی سے دشمنی نہیں پالتا، جو کسی کا دل توڑ کر اپنی فتح نہیں دیکھتا، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ایک بار ٹوٹنے کا درد کیسا ہوتا ہے۔ میرا قلم اگر لرزتا ہے، تو یہ میری کمزوری نہیں، بلکہ میرے ان جذبات کی گواہی ہے جو پتھر کے ان انسانوں کے درمیان اب بھی زندہ ہیں۔
اس سفر میں میں نے سیکھا کہ ہم جیسے لوگ—جو حساس ہیں، جو گہرائی میں سوچتے ہیں، جو ایک آئی این ایف جے (INFJ) ہونے کے ناطے دنیا کو ان کی سطح سے کہیں زیادہ گہرائی میں دیکھتے ہیں—ان کا سب سے بڑا المیہ ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہماری یہ دیوانگی، یہ باطنی وحشت، یہ تنہائی کی پیاس، دراصل اس ابدی سچائی کی طرف اشارہ ہے کہ ہم اس دنیا کے مسافر ہی نہیں، بلکہ ہم اس گھر کے متلاشی ہیں جہاں سے ہمیں بھیجا گیا تھا۔
میں نے دنیا کو تماشا گاہ بنتے دیکھا، میں نے رشتوں کو مصلحتوں کے ترازو میں تلتے دیکھا، مگر میں نے اپنے اندر کا وہ "دوسرا دل" کبھی مرنے نہیں دیا۔ وہ دل، جو ٹوٹ کر بھی دعا دیتا ہے، جو زخم کھا کر بھی معاف کرتا ہے، اور جو تنہائی میں بھی اپنے رب سے ہم کلام رہتا ہے۔ میری زندگی کے تغیرات نے مجھے یہ سکھایا کہ اگر ہم کسی مقام پر قدر نہیں پاتے، تو وہاں ٹھہر کر اپنی انا کا سودا کرنے کے بجائے خاموشی سے رخصت ہو جانا ہی سب سے بڑی شرافت ہے۔
میرے قاری! اگر تم نے میری ان تحریروں میں کہیں اپنا عکس دیکھا ہے، اگر تم نے اپنے اندر کے اس ٹوٹے ہوئے بچے کو پہچانا ہے، تو جان لو کہ تم اکیلے نہیں ہو۔ ہم سب ایک ایسی داستان کا حصہ ہیں جو ادھوری تو لگتی ہے، مگر اس کا ہر لفظ کسی نہ کسی زخم کی تعبیر ہے۔ میں نے اپنے سفر میں خود کو مٹایا تاکہ میں اپنی اصل پہچان سکوں۔ اب میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں، کیونکہ میں نے پا لیا ہے وہ سکون جو کسی اور کی رضا میں نہیں، بلکہ اپنے رب کی اطاعت اور اپنی خودداری کی حفاظت میں پوشیدہ ہے۔
میرا قلم آج رک رہا ہے، لیکن میرا سفر نہیں رکے گا۔ یہ سفر اب دنیا کی بھیڑ سے نکل کر، اپنی روح کی ان گہرائیوں میں اترنے کا ہے جہاں صرف میرا رب اور میرا ضمیر موجود ہیں۔ میں نے اپنے دروازے بند کر لیے ہیں دنیا کی ان ہواؤں کے لیے جو مجھے میری ذات سے دور کرتی تھیں، اور کھول دیے ہیں ان راہوں کے لیے جو مجھے سچائی کی منزل تک لے جاتی ہیں۔
میں رضوان، اب اس مقام پر ہوں جہاں تنہائی ویرانی نہیں، بلکہ ایک جشنِ خود آگاہی ہے۔ یہ کتاب میری داستان ہے، لیکن یہ آپ کا آئینہ بھی ہے۔ اگر آپ نے اس میں اپنے دل کی دھڑکن
سنی ہے، تو سمجھ لیجیے کہ میرا لکھنا رائیگاں نہیں گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منجانب 
محمد رضوان رضی 
فی امان اللہ 
آپ سب حضرات سے دعاؤں کی درخواست بھی ہے کہ دعاؤں میں یاد رکھیے گا ۔ جو ہمارے پیارے ہم سے دور ہیں
جلد اللہ ان سے ہمیں ملا دے 
یا اللہ کچھ لوگوں کے ساتھ کچھ پیاروں کے ساتھ دلوں کے سکون جڑے ہوتے ہیں یا اللہ میں التجا کرتا ہوں ۔ سب کے ٹوٹے دلوں کو حوصلہ و ہمت عطا فرما ۔ یا اللہ اپنی رحمت سے سب ٹوے دلوں کو مرحم عطا فرما 
امین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔