والدین کے فرائض
تحریر۔شاہد شکیل
والدین اور اولاد کا رشتہ محض خون کا نہیں بلکہ ایک مسلسل امانت،ذمہ داری اور اِخلاقی عہد کا نام ہے،بچے جب دنیا میں آنکھ کھولتے ہیں تو وہ نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ ذہنی،جذباتی اور سماجی اعتبار سے بھی مکمل طور پر اپنے والدین کے محتاج ہوتے ہیں،بلوغت کی عمر تک پہنچنا ایک عدوی حد تو ہو سکتی ہے مگر والدین کے فرائض اُس سے کہیں پہلے شروع ہوتے ہیں اور در حقیقت عمر کی کسی حد پر ختم نہیں ہوتے البتہ اُن کی نوعیت ضرور بدل جاتی ہے۔بچپن کے ابتدائی سال والدین کی سب سے بڑی آزمائش اور اہم ذمہ داری ہوتے ہیں،اِس مرحلے پر بچے کو سب سے پہلے جسمانی اور جذباتی تحفظ درکار ہوتا ہے،بچے کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ ایک محفوظ دائرے میں ہے جہاں اُسکی بھوک، نیند، بیماری اور خوف کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اگر اِس عمر میں والدین لاپرواہی،سختی یا بے توجہی برتیں تو اِسکے اثرات زندگی بھر باقی رہ سکتے ہیں۔ پرورش صرف کھانا کھلانا اور لباس فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ بچے کے کردار کی تعمیر کا عمل ہے،والدین کو خود وہی بن کر دکھانا چاہئے جو وہ اپنے بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں،سچائی،شرافت،برداشت،احترام اور ذمہ داری،یہ سب نصیحت سے کم اور مثال سے زیادہ سکھائے جاتے ہیں، بچے کی غلطیوں پر اندھی سختی کے بجائے رہنمائی اور ہر کامیابی پر غیر ضروری تعریف کے بجائے متوازن حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ بیماری کے وقت صرف علاج ہی نہیں بلکہ شفقت،صبر اور حوصلہ دینا بھی اہم ترین ہے،بچے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا اسکی خوشی کو اپنی خوشی سمجھنا اور اُسکے غم کو معمولی نہ جاننا اُسے یہ سکھاتا ہے کہ جذبات قابلِ قدر ہوتے ہیں اور بانٹے جا سکتے ہیں،یہی احساس اُسے مستقبل میں ایک حساس اور ذمہ دار بناتا ہے۔تعلیم والدین کی ایک بنیادی ذمہ داری ہے،تعلیم کا مطلب محض سکول یا ڈگری نہیں،بچے کو سوچنا، سوال کرنا، فرق کرنا اور ذمہ داری قبول کرنا،سکھانا اصل تعلیم ہے، تعلیم کو دباؤ کے بجائے شعور اور خود مختاری کا ذریعہ بنانا ضروری ہے،تعلیم کے دوران رہنمائی ضروری ہے کنٹرول نہیں، دلچسپی ضروری ہے جبر نہیں۔جب بچہ نوجوانی میں داخل ہوتا ہے تو والدین کا کردار نازک ہوجاتا ہے، یہاں سب سے اہم چیز اعتماد ہے،حد سے زیادہ نگرانی بغاوت کو جنم دیتی ہے اور مکمل بے توجہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے،اِس مرحلے پر والدین کو چاہئے کہ وہ سننے والے بنیں،حکم دینے والے نہیں،رہنمائی کریں مگر فیصلے کرنے کا ہنر بھی سکھائیں،غلطیوں سے سیکھنے کا موقع دیں، نہ کہ ہر لغزش پر فیصلہ صادر کریں۔بچے کے بلوغت میں آجانے کے بعد والدین کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی بلکہ اُسکی صورت بدل جاتی ہے اب والدین کا کردار سرپرست سے مشیر کا ہونا چاہئے کیونکہ اِس عمر میں بچوں کو عزت،اعتماد اور خود مختاری درکار ہوتی ہے،والدین کو چاہئے کہ وہ اُنکی زندگی کے فیصلوں میں رہنمائی دیں مگر قبضہ نہ کریں،ساتھ دیں مگر بوجھ نہ بنیں،یہی وہ مرحلہ ہے جہاں والدین اور اولاد کا رشتہ اگر درست بنیادوں پر استوار ہو تو دو بالغ انسانوں کے درمیان ایک باوقار،مضبوط اور محبت بھرا تعلق بن جاتا ہے۔بچے کی پرورش کا پہلا اصول محبت ہے،مگر محبت صرف پیار کا لفظ نہیں،محبت وہ حاضری ہے جو بچے کی زندگی میں مستقل رہتی ہے،بچہ سب سے پہلے والدین کے چہرے سے دنیا کا مطلب سیکھتا ہے،اگر اُس چہرے پر اطمینان ہو تو دنیا محفوظ لگتی ہے،اگر اُس چہرے پر غصہ،بے رُخی یا مسلسل بے زاری ہو تو دنیا خطرہ بن جاتی ہے،والدین کا فرض ہے کہ وہ بچے کو پالیں نہیں اُسے محسوس کرائیں کہ وہ چاہا گیا ہے کیونکہ جس بچے کو محبت محسوس نہ ہو وہ بڑا ہو کر محبت نبھا نہیں پاتا۔بچے کی حفاظت صرف یہ نہیں کہ اُسے گرنے سے بچا لیا،بخار میں دوا دے دی یا اچھا کھلا پلا دیا،اصل حفاظت یہ ہے کہ بچہ یہ جان لے کہ وہ اپنے گھر میں محفوظ ہے،بچے نصیحتوں سے نہیں رویّو ں سے بنتے ہیں،اگر والدین جھوٹ کو معمولی سمجھیں تو بچہ سچائی کی قیمت نہیں سمجھتا،اگر والدین غصے میں بولیں تو بچہ محبت میں بھی سخت ہو جاتا ہے اگر والدین دوسروں کی عزت کریں تو بچہ خود عزت کرنا سیکھتا ہے،والدین کا فرض ہے کہ وہ بچے کو صرف اچھا طالبِ علم نہ بنائیں اچھا انسان بنائیں۔بچے کی بیماری صرف بخار نہیں ہوتی،وہ بچے کیلئے دنیا کا پہلا بڑا خوف ہوتی ہے،وہ کمزور ہو کر ماں باپ کی طرف دیکھتا ہے اور اُسکی آنکھیں ایک ہی سوال کرتی ہیں،کیا آپ میرے ساتھ ہیں؟ کیا میں محفوظ ہوں؟یہیں والدین کا روّیہ بچے کے دل میں نقش ہوجاتا ہے،جب دوا کے ساتھ شفقت ہو، ڈاکٹر کے ساتھ حوصلہ ہو، بچے کے سوالوں کے ساتھ صبر ہو، اِسی طرح بچے کا دکھ،چاہے وہ سکول میں کسی بات پر رویا ہو،کسی دوست نے دل توڑا ہو، یا اپنے آپ کو ناکام محسوس کیا ہو،یہ سب والدین کیلئے چھوٹی بات نہیں ہونی چاہئے کیونکہ بچے کیلئے ہر دکھ پہلی بار کا دکھ ہوتا ہے۔تعلیم کا مطلب یہ نہیں کہ بچہ اچھے نمبر لائے،تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو،اُس میں سوال کرنے کا حوصلہ ہو، اور وہ اپنی غلطی کو پہچاننے کی ہمت رکھتا ہو،والدین کا فرض ہے کہ وہ تعلیم کو مقابلہ نہ بنائیں بلکہ سمجھ بنائیں، بچے کو یہ نہ سکھائیں کہ تم سب سے آگے ہو بلکہ یہ سکھائیں کہ تم اپنے اندر سے بہتر ہوتے رہو۔والدین کا فرض ہے کہ وہ پولیس نہ بنیں پناہ گاہ بنیں،حدیں قائم رہیں مگر توہین نہ ہو، اصول ہوں مگر تحقیر نہ ہو،گفتگو ہو مگر تفتیش نہ ہو۔اصل تربیت وہ ہے جو بچے کو صرف معاشرے کے قابل نہیں بناتی بلکہ انسانیت کے قابل بناتی ہے۔