وحشت ہی وحشت( قسط نمبر (3)
(منظر کشی :)
رات کا وقت تھا، بارش کی بوندیں استنبول کی سڑکوں کو بھگو رہی تھیں۔
سیاہ گاڑیوں کا ایک لمبا قافلہ ارسلان کے ویلا کے سامنے آکر رکا۔ گاڑی کا دروازہ کھلا اور چمکتے ہوئے سیاہ بوٹوں کے ساتھ ایک قد آور شخص باہر نکلا۔ وہ تیمور کا ظمی تھا۔ اس کی گہری نیلی آنکھیں اب کسی سمندر کی طرح پر سکون تھیں، لیکن ان کے پیچھے تباہی چھپی تھی۔تیمور نے ویلا میں قدم رکھا تو وہاں سناٹا چھا گیا ارسلان، جو کچھ دیر پہلے منت پر اپنی دھونس جمارہا تھا، تیمور کو دیکھتے ہی پسینے میں شرابور ہو گیا۔ تیمور نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے سگار سلگایا اور زران کی طرف اشارہ کیا۔ زران نے ایک فائل ارسلان کے سامنے پھینکی۔یہ اس جائیداد کے کاغذات ہیں جو تم نے دھوکے سے ہتھیالی تھی۔ آج یہ س میرے نام ہو گا، اور تم ... تم یہاں سے اپنے پیروں پر نہیں جاؤ گے ، " تیمور کی بھاری آواز ہال میں گونجی۔
(تیمور اور منت کا آمنا سامنا )
اسی دوران ، منت جو کچن سے پانی کا جگ لے کر آ رہی تھی،ہال میں ہونے والی ہلچل دیکھ کر وہیں ٹھٹک کر رک گئی۔ اس کے ہاتھ سے جگ چھوٹ کر فرش پر گرا۔جگ کرچی کرچی ہو گیا۔ شور سن کر تیمور کی سرد نظریں مڑیں اور سیدھی منت پر پڑیں۔ ایک لمحے کے لیے۔ استنبول کا سب سے بڑا گینگسٹر ساکت رہ گیا۔۔۔اسے اس لڑکی کی آنکھوں میں وہی معصومیت اور وہی درد نظر آیا جو کبھی خود اس کی اپنی آنکھوں میں ہوا کرتا تھا۔
تیمور نے زران سے آہستہ سے کہا، " اس لڑکی کے بارے میں سب کچھ معلوم کرو۔اس گھر میں کوئی بھی چیز سلامت نہ رہے، یہ لڑکی.زخمی نہیں ہونی چاہیے۔"
ارسلان کے محل نماولا میں چھائے سناٹے کو تیمور کی سرد آواز نے مزید گہرا کر دیا تھا۔۔ ارسلان کے باڈی گارڈز تیمور کے دائیں ہاتھ ، زران کی رائفلوں کے سامنے بے بس کھڑے تھے یہ رہا ارسلان کا انجام اور منت اور تیمور کی پہلی ملاقات کا منظر :
(خوف کا سایہ اور حساب بے باق)
ارسلان گڑ گڑاتے ہوئے تیمور کے قدموں میں گرنے ہی والا تھا کہ زران نے اسے اپنی بندوق کی نوک سے۔
پیچھے دھکیل دیا۔ تیمور نے سگار کا دھواں فضا میں اچھالا اور بڑے سکون سے کہا:" ارسلان ! تم نے سوچا تھا کہ تم میری ماں کے آنسوؤں کی قیمت چکا پاؤ گے ؟ یہ جائیداد ، یہ ولا ....
یہ سب تو صرف شروعات ہے۔ اصل درد تو اب شروع ہو گا۔ تیمور نے زران کو اشارہ کیا۔ زران نے ارسلان کے دونوں ہاتھ میز پر رکھ کر ایک تیز دھار خنجر نکالا۔ ارسلان کی چیخیں ابھی نکلنے ہی والی تھیں کہ ہال کے دوسرے کونے میں کھڑی منت کی ہچکی بندھ گئی۔
اس کی آنکھوں میں شدید خوف تھا اور وہ کانپتے ہوئے دیوار سے لگ کر کھڑی تھی۔
تیمور کی نظریں ارسلان سے ہٹ کر منت پر جمی تھیں۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر زران کو روک دیا۔ تیمور آہستہ آہستہ چلتا ہوا منت کے قریب آیا۔ اس کے قدموں کی آواز منت کے دل کی دھڑکنوں سے تیز تھی۔تیمور نے دیکھا کہ اس سخت سردی میں منت نے صرف ایک پھٹا ہوا سو ئیٹر پہن رکھا تھا۔ اور اس کے پاؤں میں ڈھنگ کے جوتے بھی نہیں تھے ۔
تیمور کا لہجہ ، جو ابھی ارسلان کے لیے آگ اگل رہا تھا، منت کے سامنے اچانک مدھم ہو گیا " تم کون ہو ؟ اور اس گندگی (ارسلان) کے گھر میں کیا کر رہی ہو ؟"
منت نے کپکپاتے لہجے میں جواب دیا، " میں ... میں یہاں کام کرتی ہوں۔ میری تائی امی نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔تیمور نے اس کے چہرے پر موجود تھپڑ کا نشان دیکھا۔۔۔۔۔۔(جو اس کی تائی امی نے مارا تھا)۔
تیمور کی آنکھیں غصے سے سرخ ہونے لگیں۔ اس نے زران کی طرف مڑے بغیر کہا :"زران ! اس لڑکی کے خاندان کا پتہ نکالو۔ اور ارسلان ... اسے ابھی ختم مت کرنا۔اسے اس تہہ خانے میں ڈال دو جہاں اس نے معصوم لوگوں کو قید کر رکھا تھا۔ اسے پتہ چلنا چاہیے کہ ۔ قید کیا ہوتی ہے۔"تیمور نے اپنا مہنگا اور گرم اوور کوٹ اتارا اور نہایت نرمی سے منت کے کندھوں پر ڈال دیا۔اس کوٹ کی گرمائش اور تیمور کے مخصوص پر فیوم کی خوشبو نے منت کو ایک پل کے لیے تحفظ کا احساس دلایا،مگر وہ پھر بھی سہمی ہوئی تھی۔
" تمہارا نام کیا ہے؟" تیمور نے پوچھا۔من ... منت ، " اس نے نیچی نظروں سے جواب دیا۔تیمور کے لبوں پر ایک مبہم سی مسکراہٹ آئی۔ " منت ... یعنی ایک مراد ۔ آج سے تم اس جہنم میں نہیں رہو گی۔زران، اسے گاڑی میں بٹھاؤ۔ ہم اسے اس کے گھر چھوڑ کر آئیں گے،اور وہاں ... اس کی تائی سے بھی تھوڑی ' بات چیت کرنی ہے۔"جب تیمور کی کالی گاڑیوں کا قافلہ منت کے گھر کے سامنے رکا، تو محلے میں کھلبلی مچ گئی۔تائی امی اور ہنا باہر نکلیں تو منت کو ایک عالی شان گاڑی سے اترتے دیکھ کر ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
تائی امی چلائیں ، " ارے یہ کیا تماشہ ہے ؟ منت، یہ کون لوگ ہیں ؟"تیمور گاڑی سے باہر نکلا۔ اس کی شخصیت کا رعب ایسا تھا کہ تائی امی کی زبان کو جیسے تالا لگ گیا۔تیمور نے تائی امی کے قریب آکر نہایت دھیمے مگر زہر یلے لہجے میں کہا آپ نے اس بچی کے ساتھ جو سلوک کیا ہے ، اس کا حساب لینے میں خود آیا ہوں۔ یاد رکھنا، میں تیمور کا ظمی ہوں ... میں جو مانگتا ہوں وہ چھین لیتا ہوں،۔۔
اور جس سے نفرت کرتا ہوں اسے مٹا دیتا ہوں۔ آج سے منت کی آنکھ میں ایک بھی آنسو آیا۔۔۔۔،
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️
تو آپ کا یہ گھر استنبول کے نقشے سے مٹ جائے گا۔۔۔۔۔ تیمور جب گاڑی سے باہر نکلا تو شام کی مدھم روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
اس کی گہری نیلی آنکھیں کسی شفاف سمندر کی طرح تھیں، جن میں ذہانت اور شدت دونوں جھلکتی تھیں۔ اس کے گھنے سیاہ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے، اور جب وہ تائی امی کی بے وقوفانہ باتوں پر طنزیہ مسکرایا، تو اس کے گالوں پر پڑنے والے گہرے ڈیمپلز (Dimples) نے اس کی شخصیت کو ایک عجیب سی ۔ دلکشی دے دی۔ وہ ایک ایسا مر د تھا جسے دیکھ کر کوئی بھی عورت اپنا دل ہار سکتی تھی، مگر اس کی آنکھوں کی سردی کسی کو قریب آنے کی ہمت نہ دیتی۔
دوسری طرف منت، جو ابھی ابھی اس کے کوٹ میں لپٹی گاڑی سے اتری تھی، قدرت کا شاہکار تھی۔اس کی بڑی بڑی بھوری آنکھیں، لمبی پلکیں اور دودھیار نگت پر پریشانی کے گلابی سائے۔اسے کسی پری جیسا روپ دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔،
(: ہنا کا حسد اور سازش۔۔۔)
ہنا، جو اب تک دروازے کے پیچھے چھپ کر سب دیکھ رہی تھی، تیمور کی خوبصورتی اور دولت دیکھ کر جیسے پاگل ہی ہو گئی۔ اس نے کبھی خواب میں بھی ایسا مرد نہیں دیکھا تھا۔جس کی ایک جھلک ہی دل کی دھڑکنیں روک دے۔امی ! یہ ... یہ اتنا امیر اور خوبصورت آدمی اس منحوس منت کے ساتھ کیا کر رہا ہے ؟ ہنانے جل کر اپنی ماں سے پوچھا۔
تائی امی کی آنکھوں میں لالچ چمک اٹھا ، " لگتا ہے اس لڑکی کی قسمت جاگ گئی ہے،لیکن ہم اسے اتنی آسانی سے تیمور کا ظمی کو لے جانے نہیں دیں گے۔ اگر اس گھر میں کسی کی شادی۔تیمور سے ہو گی، تو وہ صرف تم ہو ہنا ! "
اگلی صبح کا منظر :
تیمور کی واپسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن تیمور نے زران کو حکم دیا کہ منت کے گھر بہترین ناشتہ اور ڈھیروں تحائف بھیجے جائیں۔ لیکن وہ خود بھی وہاں پہنچ گیا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا منت اب بھی ڈری ہوئی ہے۔
✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️