(وحشت ہی وحشت قسط نمبر7)
شین بھاگ تو گیا تھا، لیکن وہ ایک بزدل دشمن کی طرح آخری وار کرنے کی تیاری میں تھا۔ اس نے ولا کے خفیہ راستے سے بم نصب کر دیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ تیمور اور منت کی واپسی پر جشن ہوگا، اور وہی جشن ان کا آخری دن بن جائے گا۔
(جشن کا سررماں اور خط ک دستک)
ولا میں واپسی پر حیا نے واقعی بریانی کی دیگ چڑھا دی تھی۔ زران اور تیمور بالکونی میں کھڑے شہر کے بدلتے موسم کو دیکھ رہے تھے۔"تیمور، اب دیر نہ کرو۔ کل ہی نکاح پڑھوا لو، ورنہ منت کا مزاج پھر بدل گیا تو سنبھالنا مشکل ہوگا،" زران نے ہنستے ہوئے کہا۔
تیمور نے مسکرا کر کمرے کے اندر دیکھا جہاں منت آئینے کے سامنے کھڑی اپنی وہی انگوٹھی پہن رہی تھی جو اس نے غصے میں اتار دی تھی۔ اچانک تیمور کی نظر نیچے لان میں کھڑی ایک مشکوک گاڑی پر پڑی۔ اس کا تجربہ کار دماغ فوراً خطرے کو بھانپ گیا۔
"زران! سب کو باہر نکالو! ابھی!" تیمور چلایا۔
(بیلن اور بم)
ابھی زران کچھ سمجھ پاتا کہ ولا کے نچلے حصے میں ایک چھوٹا سا دھماکہ ہوا۔ دھواں پھیلنے لگا۔ حیا کچن سے بھاگی ہوئی آئی، "اوئے! یہ میری بریانی کس نے جلائی؟"
"حیا، بریانی چھوڑو، باہر بھاگو!" زران نے اس کا ہاتھ پکڑا۔تیمور تیزی سے منت کے کمرے کی طرف لپکا، لیکن راستے میں چھت کا ایک حصہ گرنے سے راستہ بلاک ہو گیا۔"منت! کھڑکی سے باہر کودو، میں نیچے آ رہا ہوں!" تیمور کی آواز میں پہلی بار خوف جھلک رہا تھا۔
منت ڈری ہوئی تھی، "تیمور، میں آپ کے بغیر نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(تیمور کا جذباتی فیصلہ)
تیمور نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر جلتی ہوئی لکڑیوں کو ہٹایا اور منت تک پہنچ گیا۔ اس نے منت کو اپنی گود میں اٹھایا اور دوسری منزل سے نیچے موجود سوئمنگ پول میں چھلانگ لگا دی۔ اسی لمحے ولا کا ایک بڑا حصہ دھماکے سے لرز اٹھا۔پانی سے باہر نکلتے ہی تیمور نے دیکھا کہ شین سامنے کھڑا پستول تانے ہوئے تھا۔ "آج استنبول کا بھیڑیا ہلاک ہو جائے گا،" شین نے ٹرگر پر انگلی دبائی۔۔۔۔۔۔۔
ٹھاہ!گولی چلی، لیکن شین کے ہاتھ سے بندوق گر گئی۔ پیچھے حیا کھڑی تھی، جس کے ہاتھ میں زران کی پستول تھی اور ہاتھ لرز رہے تھے۔ اس نے شین کے پاؤں پر گولی ماری تھی۔
"تم نے... میری... بریانی... ضائع کی!" حیا غصے سے رو رہی تھی۔زران نے فوراً آگے بڑھ کر شین کو دبوچ لیا اور پولیس کے حوالے کرنے کے لیے اپنے گارڈز کو آواز دی۔
(خوبصورت انجام)
باب اول:
( ہلدی کی خوشبو اور فتنہ انگیز رقص)
استنبول کے کاظمی ولا کا وسیع صحن کسی خوابناک منظر کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ فضا صندل، عرقِ گلاب اور تازہ پسی ہوئی ہلدی کی بھینی بھینی خوشبو سے معطر تھی۔ زران، جو سفید ریشمی کلف لگے کرتے اور چست پاجامے میں نہایت دلکش لگ رہا تھا، آج حیا کے شرارتی نشانے پر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا: (ہاتھ میں ہلدی کا سنہری پیالہ تھامے) "زران جانو آج آپ کی اس نوابی رنگت کو اگر میں نے سرسوں کے کھیت جیسا پیلا نہ کر دیا، تو میرا نام بدل دیجیے گا!"
زران: (کشن کے پیچھے پناہ لیتے ہوئے) "حیا! خدا کا خوف کرو۔ یہ ہلدی ہے یا کوئی پینٹ؟ اور خبردار! اگر میرے اس ڈیزائنر کرتے پر ایک دھبہ بھی پڑا، تو تمہارا وہ پیرس والا پرفیوم کچرے میں ملے گا!"
حیا: (ایک شوخ قہقہہ مار کر) "دیکھ لیں گے!" اس نے ایک دم ہرنی کی طرح چھلانگ لگائی اور مٹھی بھر کر ٹھنڈی ہلدی زران کے دونوں گالوں پر مل دی۔ زران نے تلملا کر حیا کا دوپٹہ کھینچا اور دونوں کے درمیان وہ تکرار شروع ہوئی جس نے پورے ولا میں زندگی بھر دی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک حیا نے ڈی جے کو ایک مخصوص اشارہ کیا۔ ہال میں "دلبر" گانے کی وہ سحر انگیز اور تڑپاتی ہوئی دھن گونجی کہ سب کے دل دھڑکنے لگے۔ حیا نے منت کا ہاتھ پکڑا، جو پیلے بھاری کامدار لہنگے میں کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی، اور اسے ہال کے وسط میں لے آئی۔۔۔۔۔۔۔۔
منت نے پہلے تو انکار میں سر ہلایا، لیکن پھر تال کے جادو نے اسے جکڑ لیا۔ اس نے اپنے لہنگے کو تھوڑا سا اوپر اٹھایا اور ایک پیشہ ور رقاصہ کی طرح اپنی کمر کو مٹکانا شروع کیا۔ اس کے وجود کی لچک کسی لہراتی ناگن جیسی تھی۔ وہ اپنی باڈی کو اس طرح لرزاتی کہ دیکھنے والوں کی سانسیں حلق میں اٹک جاتیں۔ جب وہ اپنی کمر کو شدت سے تال پر جھٹکتی، تو اس کے کمر بند کی گھنٹیاں فضا میں آگ لگا دیتی تھیں۔ اس کے پیٹ اور کمر کا وہ بے خود کر دینے والا لرزہ کسی فتنہ سے کم نہ تھا۔
اسی لمحے تیمور کاظمی نے ہال میں قدم رکھا۔ جیسے ہی اس کی نظر اپنی "ملکہ" پر پڑی جو سینکڑوں نظروں کے سامنے اپنے حسن اور جسم کی نمائش کر رہی تھی، اس کی نیلی آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔ غصہ اس کے پورے وجود میں سرائیت کر گیا۔۔۔۔۔۔۔
تیمور: (ایک ایسی دہاڑ کہ پورا ولا لرز اٹھا)"میوزک بند کرو!"ایک پل میں قبرستان جیسی خاموشی چھا گئ )
تیمور تیزی سے سٹیج پر چڑھا اور سب کے سامنے منت کا بازو اتنی بے رحمی سے مروڑا کہ ہڈیوں کے چٹخنے کی آواز آئی۔ اس نے منت کو بالوں سے پکڑا اور سب کے سامنے گھسیٹتا ہوا اوپر لے گیا، جبکہ حیا اور زران کے چہرے خوف سے سفید پڑ گئے۔
کمرے کی سزا اور جنونی وصال۔۔۔۔۔***
تیمور نے منت کو کمرے میں داخل ہوتے ہی فرش پر پٹخ دیا اور دروازہ اندر سے لاک کر دیا۔ اس نے اپنا موبائل نکالا اور وہی "دلبر" گانا فل والیم پر لگا دیا۔
تیمور: "تمہیں ناچنے کا بہت شوق ہے نا؟ سب کو اپنی کمر کی لچک دکھا رہی تھی؟ اب ناچو! صرف میرے سامنے ناچو، اور تب تک نہیں رکو گی جب تک تمہارے پیروں سے خون نہ نکل آئے!"
منت: (سسکیاں لیتے ہوئے تیمور کے پاؤں پکڑ کر) "تیمور، خدا کے لیے معاف کر دیں... میں بہک گئی تھی!"
تیمور: (دیوار پر ہاتھ مار کر) "میں نے کہا ناچو! اپنی کمر ویسے ہی ہلاؤ جیسے نیچے ہلا رہی تھی، ورنہ آج تمہاری کھال ادھیڑ دوں گا!"
منت لرزتے قدموں سے ناچنے لگی۔
آ پاس آ، کیوں دور ہے؟
تیری نظر کا قصور ہے ۔۔۔۔۔۔
چڑھا جو مجھ پہ سرور ہے تھوڑا سکون۔۔۔۔
، تھوڑا فتور ہے تیرا قصور ہے یا میرا قصور ہے تیرا نشہ، تیرا فتور ہے۔۔۔۔۔
جب سے دیکھا ہے تجھ کو ہوش نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھ کو دل میرا بولے، اب تو آ کے مل۔۔۔۔
اس کے بدن میں ایک ایسی لچک تھی جیسے کسی ماہر اداکارہ یا منجھی ہوئی رقاصہ کی ہوتی ہے۔ وہ اپنے جسم کو کسی کمال مہارت سے موڑتی (Twist کرتی) کہ دیکھنے والے کی سانسیں تھم جاۓ۔ اس کی ہر حرکت میں ایک جادو تھا، کبھی وہ لہراتی اور کبھی کسی نازک ڈال کی طرح لچک جاتی۔
"چڑھا جو مجھ پہ سرور ہے،۔۔۔۔۔
تھوڑا سکون، تھوڑا فتور ہے تیرا قصور ہے۔۔۔
یا میرا قصور ہے، تیرا نشہ، تیرا فتور ہے۔۔۔"
منت اب پوری طرح موسیقی کے سحر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ وہ اپنے وجود کو کسی ماہر فنکار کی طرح مروڑتے ہوئے (Contorting) رقص کی ایسی تال چھیڑ رہی تھی کہ تیمور کاظمی دنگ رہ گیا اسکی نیلی آنکھوں میں وحشت اتر آئی۔۔۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀