Safar e Raigah - 10 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 10

Featured Books
  • Safar e Raigah - 10

     منظر ۔ سلطان مرزا کے اس ایک فیصلے نے گھر کی فضا کو جیسے ہمی...

  • Safar e Raigah - 9

     باب ۔کشمیر کی برفیلی اور سرد شام تھی۔ باہر چنار کے درختوں س...

  • قلم کا قیدی

                     انتساب اُن کے نام...میرے 'استادِ محترم&...

  • صبح ہو گئی چچا

    خفیہ میں نے اپنے دل میں کیا راز چھپا رکھا ہے؟ میں نے تعلق کو...

  • لفافہ

    تصویر آج پھر میرا دل ملاقات کے لیے تڑپ رہا ہے۔ ایک بار پھر،...

Categories
Share

Safar e Raigah - 10

 منظر ۔ 

سلطان مرزا کے اس ایک فیصلے نے گھر کی فضا کو جیسے ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا۔ راویل، جو اب تک اس گمان میں تھا کہ اس کی پھپھو اس کے اور ہانیہ کے رشتے کی بات کر رہی ہیں، اس وقت سکتے میں آ گیا جب سلطان مرزا نے صاف لفظوں میں آیات اور راویل کے نکاح کا اعلان کر دیا۔ وہ رشتہ جو ہانیہ کے لیے سمجھا جا رہا تھا، وہ دراصل آیات کے نصیب میں لکھا جا چکا تھا۔ سلطان مرزا کا فیصلہ آخری تھا، جسے ٹالنے کی جرات اس گھر میں کسی میں نہیں تھی۔


جب یہ خبر آیات تک پہنچی، تو اس کے پیروں تلے سے جیسے زمین ہی نکل گئی۔ اس کا دل دھڑکنا بھول گیا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ وہ بھاگتے ہوئے راویل کے کمرے میں پہنچی۔ اس کے چہرے پر خوف، بے بسی اور آنسوؤں کی ایک لمبی قطار تھی۔


"راویل!" آیات نے لرزتی ہوئی آواز میں اسے پکارا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ "راویل، مجھے یہ شادی نہیں کرنی۔۔۔


 تم پلیز بابا سے اس شادی کے لیے انکار کر دو۔ میں تم سے ہاتھ جوڑتی ہوں، انہیں منع کر دو!"

راویل جو خود اس جھٹکے سے سنبھل نہیں پایا تھا، اس نے گہری سانس لی اور تھوڑے روکھے پر بھاری لہجے میں بولا، "آیات، میں تو بابا سے بول دوں گا۔۔۔ 


میں کہہ دوں گا کہ میں اس رشتے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ پر تُم خود کیوں نہیں کہتیں؟ تم بھی تو ان سے کہہ سکتی ہو نا؟ وہ تمہارے بابا ہیں، اگر تم ان سے ضد کروگی، تو وہ تمہاری بات ضرور مانیں گے۔"


راویل کی یہ بات سنتے ہی آیات کے چہرے پر ایک دردمندانہ مسکراہٹ ابھری۔ ایک ایسی مسکراہٹ جس میں برسوں کا بکھراؤ اور اکیلاپن چھپا تھا۔ اس کے صبر کا باندھ ٹوٹا اور آنسو تیزی سے اس کے گالوں پر بہنے لگے۔


"بابا اور میری بات۔۔۔؟" آیات کی آواز جیسے گلے میں ہی گھٹ گئی۔ اس نے روتے ہوئے اپنا سر جھٹکا۔ "راویل، تم جانتے ہو۔۔۔ تم سب جانتے ہو نا کہ بابا کا اور میرا تعلق بچپن سے کیسا رہا ہے؟ ہمارے بیچ کبھی باپ بیٹی کا وہ رشتہ رہا ہی نہیں، جہاں ضد کی جا سکے یا حق جتایا جا سکے۔ ہم بس ایک دوسرے سے کام کی حد تک بات کرتے ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہ کر بھی ہم دو انجانوں کی طرح ہیں۔"


آیات نے روتے ہوئے راویل کا ہاتھ تھام لیا، اس کی آنکھوں میں بے انتہا بے بسی تھی، "وہ میری بات کبھی نہیں مانیں گے، راویل۔۔۔ کبھی نہیں! اگر میں نے انکار کیا تو وہ سمجھیں گے کہ میں ان کے فیصلے کی توہین کر رہی ہوں، ان کی عزت اچھال رہی ہوں۔ میری آواز ان تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتی ہے۔ تمہارے سوا اس گھر میں میری اس دیوار کو کوئی نہیں گرا سکتا۔ پلیز، راویل۔۔۔ مجھے اس آزمائش سے بچا لو۔"


راویل خاموشی سے آیات کے ان آنسوؤں کو دیکھتا رہا، جس میں ایک بیٹی کی برسوں کی محرومی اور ایک بے بس لڑکی کی پکار صاف سنائی دے رہی تھی۔ کمرے میں صرف آیات کے سسکنے کی آو

از گونج رہی تھی۔


آیات کی سسکیاں سن کر راویل کا دل پسیج گیا۔ وہ جو اب تک خود کو ایک اجنبی الجھن میں گھرا محسوس کر رہا تھا، آیات کی یہ حالت دیکھ کر اپنی سب تلخی بھول گیا۔ اس نے آگے بڑھ کر بہت نرمی سے آیات کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔


"آیات۔۔۔ خود کو سنبھالو۔ میں بات کروں گا ماموں سے، تم ایسے مت رو پلیز۔" راویل نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا، اس کی اپنی آواز میں بھی ایک بے چینی تھی۔ "اور۔۔۔ اور ویسے بھی، تم تو جانتی ہو نا کہ میں ہانیہ سے محبت کرتا ہوں۔ مجھے سچ میں نہیں پتا تھا کہ امی میرا رشتہ ہانیہ کے لیے نہیں بلکہ تمہارے لیے مانگ رہی ہیں۔ اگر مجھے ذرا بھی اندازہ ہوتا، تو میں اسی وقت سب واضح کر دیتا۔"


راویل کا یہ اعتراف اگرچہ آیات کے لیے نیا نہیں تھا، لیکن اس وقت ان حالات میں یہ سن کر اس کے دل پر جیسے کوئی آری چل گئی۔ اس نے نم آنکھوں سے راویل کی طرف دیکھا، جن میں اپنی بہن کے لیے تڑپ صاف جھلک رہی تھی۔


"ہاں راویل۔۔۔ میں جانتی ہوں،" آیات نے اپنے بہتے ہوئے آنسوؤں کو پونچھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا، "مجھے پتا ہے کہ تم ہانیہ سے محبت کرتے ہو اور وہ بھی تمہیں چاہتی ہے۔


 تو تم ہی بتاؤ، میں تم سے کیسے شادی کر لوں؟ میں اپنی بہن کی خوشیاں تباہ نہیں کر سکتی۔ وہ میری چھوٹی بہن ہے راویل، میں اس کا حق چھین کر خود کیسے خوش رہ سکتی ہوں؟ یہ شادی ہم دونوں کے ساتھ ساتھ ہانیہ کی زندگی بھی برباد کر دے گی۔"


راویل خاموش ہو گیا۔ کمرے میں ایک گہرا اور تکلیف دہ سکوت چھا گیا۔ آیات کی باتیں سچی تھیں، اور ان باتوں نے راویل کے سامنے اس تلخ حقیقت کو لا کھڑا کیا تھا جس سے وہ اب تک منہ موڑ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سلطان مرزا کا فیصلہ پتھر پر لکیر ہے، لیکن ہانیہ کی محبت اور آیات کا یہ روتا ہوا چہرہ اسے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہا تھا۔


"تم فکر مت کرو آیات،" راویل نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے لہجے کو مضبوط بنانے کی کوشش کی، "میں ماموں سے بات کرنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکالوں گا۔ چاہے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے، میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گا۔"


لیکن دونوں یہ بات اچھے سے جانتے تھے کہ سلطان مرزا کے سامنے کھڑے ہونا گویا طوفان کا رخ موڑنے جیسا تھا، اور اس فیصلے کے پیچھے جو طوفان آنے والا تھا، اس کا اندازہ ابھی ان دونوں میں سے کسی کو نہیں تھا۔



"جب میری شادی کی خبر میرے کانوں تک پہنچی، تب جانا کہ آنکھوں سے قیامت دیکھنا کسے کہتے ہیں۔ دل نے ایک چیخ کے ساتھ دعا کی کہ کاش یہ دنیا ہی ختم ہو جائے۔۔۔ تبھی کسی نے دھیمے سے کہا، 'دنیا تو کب کی ختم ہو چکی ہے، بس تمہارا محسوس

کرنا باقی ہے۔'"