منظر ۔
ہسپتال کی اس تھکا دینے والی شفٹ اور دوستوں کے ساتھ ہلکے پھلکے مذاق کے بعد، شاہمیر کا اگلا پڑاؤ اس کا اپنا جِم (Gym) تھا۔ یہ جِم صرف اس کا بزنس نہیں تھا، بلکہ یہاں کی خاموشی اور ویٹس (weights) کا شور اسے ذہنی سکون دیتے تھے۔
جِم کے اندر داخل ہوتے ہی ہپ ہاپ میوزک کی مدہم آواز اور لوہے کے ٹکرانے کی جانی پہچانی سنسناہٹ نے شاہمیر کا استقبال کیا۔ وہ ابھی اپنی بائیک کی چابی کاؤنٹر پر رکھ ہی رہا تھا کہ سامنے سے صابر آتا دکھائی دیا۔ صابر، جو شاہمیر کا بہترین دوست ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے جِم کا ہیڈ ٹرینر بھی تھا، گلے میں تولیہ ڈالے، ہاتھ میں پروٹین شیکر لیے کھڑا تھا۔
"اوہ ہو! ڈاکٹر صاحب تشریف لے آئے۔ مجھے تو لگا تھا آج پھر ہسپتال والوں نے تمہیں وہیں قید کر لیا ہے،" صابر نے شرارت سے تالی مارتے ہوئے کہا۔
شاهمیر نے مسکرا کر اپنے کوٹ کے بٹن کھولے، "بس یار، زاہد اور فارس کے ساتھ تھوڑا وقت لگ گیا۔ ویسے بھی، یہاں آئے بغیر میرے دن کی تھکن کہاں اترتی ہے۔
"
صابر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سنجیدگی سے دیکھا، "تھکن تو تمہارے چہرے سے صاف دکھ رہی ہے شاہمیر۔ لیکن میں جانتا ہوں، جتنا بھی تھک جاؤ، صابر کے ساتھ ورک آؤٹ کیے بغیر تمہارا گزارا نہیں ہے۔
چلو، جلدی سے چینج کر کے آؤ، آج لیگ ڈے (Leg Day) ہے، کوئی بہانہ نہیں چلے گا!"
شاہمیر نے ایک گہری سانس لی اور چینجنگ روم کی طرف بڑھتے ہوئے سوچا، صابر جیسے دوست ہی تو ہیں جو زندگی کے اس 'سفرِ رائگاں' میں اسے تھمنے
نہیں دیتے۔
شاہمیر ابھی چینجنگ روم سے ٹی شرٹ اور ٹریک پینٹ پہن کر باہر نکلا ہی تھا کہ صابر نے دور سے ہی اسے آواز دی۔ وہ بینچ پریس کے پاس کھڑا ایک بھاری باربیل (barbell) سیٹ کر رہا تھا۔
"آ جاؤ بھئی مسافر صاحب! ذرا اپنی یہ ڈاکٹر والی معصومیت سائیڈ پر رکھو اور آ کر اس لوہے سے دو دو ہاتھ کرو،" صابر نے شاہمیر کو دیکھتے ہی چیلنجنگ انداز میں کہا۔
شاہمیر نے کلائی پر بندھی گھڑی کو سیٹ کیا اور ہنستے ہوئے پاس آیا، "صابر، تم کبھی نہیں بدلو گے۔ ہسپتال میں مریضوں کی ہڈیاں جوڑ کر آ رہا ہوں، اور تم یہاں میری ہڈیاں توڑنے کے چکر میں رہتے ہو ہمیشہ۔"
"ہڈیاں ٹوٹیں گی تبھی تو مضبوط ہوں گی نا ڈاکٹر صاحب!" صابر نے قہقہہ لگایا۔ پھر اس کا لہجہ تھوڑا سنجیدہ ہوا، "ویسے، زاہد اور فارس کہہ رہے تھے کہ اگلے مہینے تمہارا وہ ٹریکنگ کا کوئی پلان ہے؟ ہسپتال سے چھٹی مل جائے گی؟"
شاہمیر نے ایک گہری سانس لی اور باربیل پر ہاتھ رکھتے ہوئے دور کھڑکی سے باہر دیکھا، "پلان تو ہے صابر... اور چھٹی کا کیا ہے، لینی پڑے گی۔ وہ پہاڑ، وہ برف، وہ خاموشی... مجھے لگتا ہے اگر میں کچھ دن وہاں نہ گیا تو میرا یہ دماغ واقعی ہسپتال کے وارڈز میں گھومتے گھومتے تھک جائے گا۔"
صابر نے غور سے شاہمیر کے چہرے کو دیکھا، وہ اپنے اس دوست کی رگ رگ سے واقف تھا۔ اس نے شاہمیر کے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا، "میں جانتا ہوں شاہمیر۔ تمہارے اندر جو ایک سچا مسافر چھپا ہے نا، اسے یہ شہر اور ہسپتال کی چار دیواریاں زیادہ دیر قید نہیں رکھ سکتیں۔ لیکن ایک شرط ہے..."
شاہمیر نے ابرو اٹھا کر پوچھا، "کیا شرط؟"
"شرط یہ ہے کہ اس ٹریکنگ پر جانے سے پہلے تمہیں جِم میں یہ صابر کا سیٹ پورا کرنا پڑے گا۔ چلو، پوزیشن لو اور پورے بارہ ریپس (reps) نکالنے ہیں، ایک بھی کم ہوا تو پہاڑوں کا پلان کینسل!" صابر نے شرارت سے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
شاہمیر کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ آ گئی، "تم سے تو بحث کرنا ہی فضول ہے، صابر۔ چ
لو، لگاؤ ویٹس!"
شاہمیر نے باربیل ہینڈل کو مضبوطی سے پکڑا اور صابر کی نگرانی میں اپنا پہلا سیٹ شروع کیا۔ لوہے کے بھاری وزن کو اٹھاتے ہوئے اس کے بازوؤں کی رگیں تن گئیں، لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا.
جیسے وہ اپنی ساری ذہنی تھکن اسی لوہے پر نکال رہا ہو۔
صابر برابر میں کھڑا ہو کر کاؤنٹ کر رہا تھا، "بہت اچھے شاہمیر! آٹھ۔۔۔ نو۔۔۔ دس۔۔۔ بس دو اور! ہمت مت ہارنا۔"
جب بارہواں ریپ پورا ہوا تو شاہمیر نے ایک لمبی سانس چھوڑتے ہوئے باربیل کو واپس اسٹینڈ پر رکھا اور بینچ پر ہی بیٹھ کر اپنی پیشانی کا پسینہ پونچھنے لگا۔ صابر نے مسکرا کر اسے پانی کی بوتل پکڑائی۔
"ماننا پڑے گا ڈاکٹر صاحب، ہسپتال کی رات بھر کی ڈیوٹی کے بعد بھی تمہارا اسٹیمنا (stamina) زبردست ہے،" صابر نے تعریف کرتے ہوئے کہا۔
شاہمیر نے پانی کا ایک گھونٹ لیا اور ہنستے ہوئے بولا، "تمہاری کڑی نگرانی کے آگے کس کی ہمت ہے جو ڈھل جائے؟ ویسے صابر، جِم کا کام کیسا چل رہا ہے؟ آج کل نئے ممبرز کافی نظر آ رہے ہیں۔"
صابر نے جِم کے ہال کی طرف دیکھا، جہاں کچھ اور لوگ بھی ٹریننگ کر رہے تھے، "ہاں یار، شکر ہے اللہ کا۔ کام اچھا چل رہا ہے۔ بس کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ زندگی کتنی تیزی سے بھاگ رہی ہے۔ ہم سب اپنے اپنے کاموں میں کتنے مصروف ہو گئے ہیں۔ تم ہسپتال کے چکروں میں، میں یہاں لوہے کے ساتھ۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے خود کے لیے وقت ہی نہیں بچتا۔"
شاہمیر کی نظریں ایک بار پھر جِم کی بڑی سی شیشے والی کھڑکی سے باہر چلی گئیں، جہاں اب شام کا اندھیرا گہرا ہو رہا تھا اور سڑک پر گاڑیوں کی ہیڈلائٹس چمک رہی تھیں۔
"تم نے بالکل صحیح کہا صابر،" شاہمیر کا لہجہ تھوڑا دھیما اور گہرا ہو گیا، "ہم سب کسی نہ کسی دوڑ میں شامل ہیں۔ لیکن کبھی کبھی اس دوڑ سے باہر نکلنا ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے میرے لیے وہ کشمیر کا سفر صرف ایک عام ٹرپ نہیں ہے۔
مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہاں پہاڑوں کی برف میں، اس خاموشی میں، مجھے میری زندگی کا کوئی کھویا ہوا جواب ملے گا۔"
صابر نے اپنے دوست کے چہرے پر وہ سنجیدگی دیکھی تو اس کے چہرے سے بھی مذاق غائب ہو گیا۔ وہ شاہمیر کے پاس بینچ پر بیٹھ گیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا، "جواب ملے یا نہ ملے شاہمیر، لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ سفر تمہیں خود سے ضرور ملوا دے گا۔ اور ہاں، وہاں جا کر ہمیں بھول مت جانا، ورنہ واپس آتے ہی میں نے ڈبل ورک آؤٹ کروانا ہے تم سے۔"
شاہمیر کے چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ پھیل گئی، "تمہیں بھولنا تو ناممکن ہے، صابر۔ چلو، باتیں بہت ہو گئیں، ا
گلا سیٹ شروع کریں؟"
جِم کا سخت سیشن ختم کرنے اور صابر سے خدا حافظ کہہ کر شاہمیر باہر آیا۔ رات گہری ہو چکی تھی اور ہوا میں ایک ہلکی سی خنکی تھی۔ اس نے اپنی بائیک سٹارٹ کی اور گھر کی طرف نکل پڑا۔ ہسپتال کی ڈیوٹی اور جِم کی تھکن کے بعد، اب اس کا ذہن بالکل پرسکون تھا۔
جب اس نے گھر کے دروازے پر بائیک کھڑی کی، تو اندر سے اندھیرا نہیں بلکہ ہال کی مدہم روشنی باہر آ رہی تھی۔ شاہمیر نے جیب سے چابی نکال کر نرمی سے دروازہ کھولا تاکہ کوئی آہٹ نہ ہو، لیکن جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا، اسے باورچی خانے سے برتنوں کی ہلکی سی آواز آئی۔
شاہمیر نے مسکرا کر اپنے قدم اس طرف بڑھائے۔ وہاں اس کی امی (امّی) چولہے کے پاس کھڑی اس کے لیے کھانا گرم کر رہی تھیں۔ رات کے اس پہر بھی وہ اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی تھیں۔
"امّی! آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں؟ میں نے کہا تھا نا کہ آپ میرا انتظار کیے بغیر سو جایا کریں،" شاہمیر نے محبت بھرے لہجے میں شکایت کرتے ہوئے ان کے قریب آ کر کہا۔
امّی نے پلٹ کر اپنے بیٹے کے تھکے ہوئے چہرے کو دیکھا اور ان کے چہرے پر ایک ممتا بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ انہوں نے شاہمیر کے سر پر ہاتھ رکھا، "جب تک میرا بیٹا گھر نہ آ جائے، مجھے نیند کیسے آ سکتی ہے؟ چلو، جلدی سے ہاتھ منہ دھو کر آؤ، میں نے تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے۔"
شاہمیر نے اپنی امّی کا ہاتھ چوما، "جی بس ابھی آیا۔"
اپنے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے شاہمیر نے سوچا، دن بھر کی ساری تھکن امّی کے اس ایک جملے اور ان کے ہاتھ کے لمس سے جیسے پل بھر میں غائب ہو جاتی ہے۔ یہ گھر اور امّی کی محبت ہی تو تھی جو اسے ہر مشکل سفر کے بعد واپس کھینچ
لاتی تھی۔
شاہمیر ہاتھ منہ دھو کر اور کپڑے بدل کر جب ڈائننگ ٹیبل پر آیا، تو امی کھانا لگا چکی تھیں۔ گرم گرم روٹی اور سالن کی خوشبو نے اس کی بھوک اور بڑھا دی تھی۔ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھا، تو امی نے پیار سے اس کی پلیٹ میں کھانا نکالا۔
"آج ہسپتال میں زیادہ کام تھا کیا شاہمیر؟ چہرہ کافی اترا ہوا لگ رہا ہے تمہارا،" امی نے اس کے سامنے پانی کا گلاس رکھتے ہوئے فکر مندی سے پوچھا۔
شاہمیر نے لقمہ منہ میں رکھتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا، "نہیں امی، کام تو روز جتنا ہی تھا، بس زاہد اور فارس کے ساتھ تھوڑا وقت گزر گیا، اور پھر میں جِم بھی چلا گیا تھا۔ اسی لیے تھوڑی دیر ہو گئی۔
"
امی نے اطمینان کی سانس لی، لیکن پھر کچھ یاد آنے پر انہوں نے شاہمیر کی طرف دیکھا، "اچھا شاہمیر، وہ صابر کا فون آیا تھا دوپہر میں۔ وہ کچھ کہہ رہا تھا کہ تم اگلے مہینے کہیں باہر جا رہے ہو؟ کوئی کشمیر وغیرہ کا پلان بن رہا ہے؟"
شاہمیر نے نوالہ چباتے ہوئے ایک پل کے لیے امی کو دیکھا۔ اسے معلوم تھا کہ امی اس کے ہسپتال کی مصروفیات کی وجہ سے اکثر اس کے سفر پر جانے سے تھوڑا کتراتی ہیں، لیکن وہ اس کے دل کی بات بھی سمجھتی تھیں۔
"جی امی..." شاہمیر نے ہولے سے مسکرا کر کہا، "وہ زاہد، فارس اور صابر کے ساتھ مل کر ایک ٹریکنگ کا پلان بنایا ہے۔ اگلے مہینے سونمرگ کی برفانی پہاڑیوں کی طرف جانے کا ارادہ ہے۔ ہسپتال کی اس بھاگ دوڑ سے چند دن کی چھٹی لے کر اس پرسکون ماحول میں جانا چاہتا ہوں۔
"
امی نے کچھ دیر خاموشی سے اپنے بیٹے کے چہرے کو دیکھا، جہاں ایک سچے مسافر کی تڑپ صاف نظر آ رہی تھی۔ انہوں نے ایک ہلکی سی آہ بھری اور محبت سے بولیں، "میں جانتی ہوں شاہمیر، تمہیں ان اونچے پہاڑوں اور برفانی راستوں سے ایک الگ ہی لگاؤ ہے۔ تمہارا دل تو ہمیشہ وہیں بسا رہتا ہے۔ لیکن اپنا خیال رکھنا، وہاں سردی بہت ہوگی اور راستے بھی آسان نہیں ہوتے۔
"
شاہمیر نے امی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور عقیدت سے کہا، "آپ کی دعائیں ساتھ ہوں امی، تو ہر مشکل راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ یہ سفر میرے لیے بہت ضروری ہے، مجھے لگتا ہے وہاں مجھے اپنے کئی سوالوں کے جواب ملیں گے۔
"
امی نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، "اللہ تمہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ چلو، اب باتیں چھوڑو اور جلدی سے کھانا ختم کرو، ٹھنڈا ہو رہا ہے۔
"
کھانے کے بعد شاہمیر اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے، جہاں کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر وہ کشمیر کے اس
آنے والے 'سفرِ رائگاں' کے بارے
میں سوچنے لگتا ہے۔