Safar e Raigah - 11 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 11

Featured Books
  • Safar e Raigah - 11

    منظر ۔ ہائے اللہ تمہاری تمہارے پھوپھو کے بیٹے سے شادی ہونے و...

  • قرطبہ کی شام

    ِبِسْمِ اللّٰہِ الَّرحْمٰنِ الَّرحِیْم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...

  • Safar e Raigah - 10

     منظر ۔ سلطان مرزا کے اس ایک فیصلے نے گھر کی فضا کو جیسے ہمی...

  • Safar e Raigah - 9

     باب ۔کشمیر کی برفیلی اور سرد شام تھی۔ باہر چنار کے درختوں س...

  • قلم کا قیدی

                     انتساب اُن کے نام...میرے 'استادِ محترم&...

Categories
Share

Safar e Raigah - 11

منظر ۔ 

ہائے اللہ تمہاری تمہارے پھوپھو کے بیٹے سے شادی ہونے والی تھی جلدی جلدی بولو آیت مُجھسے اب رہا نہیں جا رہا ۔ مبشرہ نے آیت کی بات بیچ میں ہی روک کر کہا.


پھر راویل نے بابا سے کہ دیا کے اُسّے یہ شادی نہیں کرنی اور پھوپھو اور راويل واپس جرمنی چلے گئے ۔ 

ہانیہ کو لگا میں قصوروار ہو تو وہ بھی مُجھسے نفرت کرنے لگی ۔ بابا کا روئیہ اور خراب ہو گیا میرے لیے ۔ پھر ایک دن بابا نے مجھ پر بہت غصہ کیا ۔ میں اُس دِن جب لائبریری گئی تھی تک ہے مجھے پتہ چلا تھا کے میرے بابا سلطان میرزا نہیں ہے ۔ 

پھر میں گھر چھوڑ کر تھا کشمیر آگئی ۔ 


چلو اب سو جاؤ مبشرہ کل مجھے جلدی جانے ہے ۔ 


مبشرہ آیت کے قریب آئی اُسنے اُسّے گلے لگایا اور بینا کچھ کہے اپنے بستر پر جا کر لیٹ گئی ۔ 


اگلے صبح ۔ 

یہ وقت ہی تھا جب آیت کی خاموش محنت اور اس کی 'نئی پہچان' کے چرچے کشمیر کی وادیوں سے نکل کر دور تک پھیلنے لگے تھے۔ اس کا ہنر کتابوں کی حفاظت اور ان پر کی گئی باریک کڑھائی اب صرف ایک کام نہیں رہا تھا، بلکہ ایک شاہکار 'آرٹ' بن چکا تھا۔

جب ماضی اور حال ٹکرائے۔ 


آیت کو یہ احساس تک نہیں تھا کہ اس کی یہ کامیابی کبھی اس کے پرانے خاندان تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ سری نگر میں ایک بڑے ادبی میلے اور نمائش (Exhibition) کا اہتمام ہوا، جہاں ملک بھر کے نامور لوگ اور پبلشرز آنے والے تھے۔ آیت کے کیوریٹر نے بہت زور دیا کہ وہ اپنے کام کو وہاں نمائش کے لیے پیش کرے۔


 آیت نے پہلے صاف انکار کر دیا، کیونکہ اسے ہر وقت یہی ڈر لگا رہتا تھا کہ کہیں کوئی پرانا رشتہ دار یا کوئی جاننے والا اسے دیکھ نہ لے۔ مگر پھر اس نے سوچا، "اگر میں آج اپنے ہنر کو چھپا رہی ہوں، تو کیا میں نے واقعی اپنی پرانی حقیقت کو قبول کر لیا ہے؟"


اپنے نام کی نمائش: آخر کار اس نے ہار مانی اور اپنے کام کو ڈسپلے کے لیے بھیج دیا۔ اس کے کام کے اوپر صرف 'آرٹسٹ آیت' لکھا تھا کوئی کنیت (Surname) نہیں، کوئی سلطان مرزا کا حوالہ نہیں۔

 

سلطان مرزا کے گھر میں، ہانیہ سلطان اب کافی بڑی اور سمجھدار ہو چکی تھی۔ وہ ایک ادبی میگزین کی ایڈیٹر بن گئی تھی اور اسی فیسٹیول کو کور کرنے کے لیے سری نگر آئی تھی۔


ہانیہ کی نظر نمائش میں گھومتے ہوئے، ہانیہ کی نظر ایک ایسے اسٹال پر پڑی جہاں کتابوں کی بائنڈنگ اور کورز کا انداز بہت انوکھا تھا۔ اس نے اس اسٹائل میں وہی پرانی 'نزاکت' دیکھی جو اسے بچپن میں اپنی بڑی بہن کے کام میں دکھتی تھی۔


اُسّے ایک عجیب احساس ہوا ہانیہ کے قدم وہیں رک گئے۔ اس نے وہ کور اٹھایا اور اس پر لکھا نام دیکھا "آیت"۔ یہ دیکھتے ہی اس کے ہاتھ تھتھک گئے۔ کیا یہ وہی آیت ہے؟ وہ آیت جو برسوں پہلے گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی؟


سلطان مرزا کے گھر میں جسے کبھی 'بوجھ' سمجھ کر بھلا دیا گیا تھا، وہی نام آج ایک عزت اور ہنر کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ نمائش کا وہ ہال سرد تھا، مگر آیت کے جسم میں ایک عجیب سی حرارت دوڑ گئی۔ 


جب اس نے دور سے دیکھا کہ ایک لڑکی اس کے اسٹال کے پاس رک کر اس کی بنائی ہوئی کتاب کے کور کو گہرائی سے دیکھ رہی ہے، تو اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔


جیسے ہی اس لڑکی نے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا، آیت کی سانسیں تھم گئیں وہ زوبیہ تھی۔ وہی ہانیہ، جس نے برسوں پہلے اسے اندیکھا کر دیا تھا۔


آیت کے لیے یہ لمحہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔

پل بھر کا سناٹا ۔ اس نے فوراً اپنی نظریں جھکا لیں۔ اس کی پہلی کوشش یہی تھی کہ وہ وہاں سے نکل جائے۔ اس کا وہ 'صبر' جو اس نے کشمیر کی وادیوں میں سیکھا تھا، اب امتحان پر تھا۔ وہ بھاگ سکتی تھی، لیکن اس نے خود کو روکا۔


گہری سانس اور قوت اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور دل میں خدا کا ذکر کیا۔ اس نے خود سے کہا "آیت، تم وہ پرانی لڑکی نہیں ہو جو ڈر کر بھاگتی تھی۔ تم نے حقیقت کو قبول کیا ہے، اور یہ تمہاری حقیقت ہے۔"


 آیت نے اپنے کندھے سیدھے کیے اور ہانیہ کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ ہانیہ اسے شاید پہچان لے، اور اس کا ماضی پھر سے سامنے آ جائے۔ مگر اس بار، اس کے چہرے پر وہ پہلے والا غرور نہیں، بلکہ ایک نیا ٹھہراؤ (Calmness) تھا۔


جب آیت، ہانیہ کے بالکل قریب پہنچی، تو ہانیہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ پرانا احساس تھا تھوڑی چڑ، تھوڑی حیرانی، اور بہت سے سوال۔ 

 ہانیہ دھیمی اور کپکپاتی آواز میں "آیت؟ تم۔۔۔ تم یہاں؟ ہم نے تو سوچا تھا کہ تم۔۔۔"

آیت ایک ٹھنڈی، ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ "ہانیہ ، میں وہی ہوں جسے تم نے برسوں پہلے اپنے دل سے نکال دیا تھا۔ پر میں اب وہ نہیں ہوں جو تم یاد کرتی ہو۔"

آیت کی آواز میں کوئی شکایت نہیں تھی، کوئی کڑواہٹ نہیں تھی۔ یہ وہ صبر تھا جس نے اسے اتنا مضبوط بنا دیا تھا کہ وہ اپنے ہی پرانے رشتوں کے سامنے بنا ڈگمگ

ائے کھڑی ہو سکے۔




ہانیہ کی آنکھوں میں وہی پرانی اکڑ اور بے رخی تھی، جیسے وقت اس کے لیے کہیں رک گیا ہو۔ اس نے آیت کو سر سے پاؤں تک دیکھا وہ سادگی، وہ لباس، اور وہ سکون، جو شاید ہانیہ کی سمجھ سے باہر تھا۔

 

ہانیہ نے کتاب کا کور واپس ٹیبل پر پٹکا، جیسے اسے چھونا بھی اس کے لیے توہین ہو۔ اس کی آواز میں وہی تیکھا پن تھا جو سلطان مرزا کے گھر کی ہواؤں میں گھوما کرتا تھا۔


ہانیہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ "بدل گئی ہو تم، آیت۔ مگر تمہارا یہ 'نئی عورت' بننے کا ناٹک، کیا تمہیں سچ میں لگتا ہے کہ تم ہم سے یا اپنے ماضی سے چھپ سکوگی؟ گھر سے بھاگ کر یہاں آنا اور یہ چھوٹا موٹا کام کرکے خود کو سکونی سمجھنا۔۔۔ یہ تمہاری صرف ایک اور جھوٹی تسلی ہے۔"


آیت کی آنکھوں میں آنسو نہیں آئے، بلکہ ایک گہری خاموشی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ہانیہ آج بھی وہی ہے اپنے بابا کی پرچھائیں، جسے دولت اور گھمنڈ نے اندھا کر رکھا ہے۔


ہانیہ "بابا آج بھی وہی ہیں، اور گھر کا وہی رتبہ ہے۔ تمہیں کیا لگا، تمہارے جانے سے ہمیں کوئی فرق پڑا؟ تمہارا ہونا یا نہ ہونا ہمارے لیے برابر تھا، اور آج بھی ہے۔"


آیت نے اپنی بہن کی باتوں کو بڑی سنجیدگی سے سنا۔ پہلے شاید وہ ٹوٹ جاتی، مگر آج؟ آج اس کے پاس 'صبر' کی وہ ڈھال تھی جسے ہانیہ کے تیکھے الفاظ بھی چھید نہیں سکتے تھے۔


آیت پُرسکون لہجے میں "ہانیہ، تم نے صحیح کہا۔ میرے جانے سے تمہیں فرق نہیں پڑا، اور شاید اسی لیے میں آج یہاں ہوں۔ تمہیں لگتا ہے یہ 'ناٹک' ہے، کیونکہ تم نے کبھی حقیقت کا سامنا نہیں کیا۔ تم نے ہمیشہ وہی دیکھا جو بابا نے دکھایا۔"

آیت نے دھیرے سے وہ کتاب اٹھائی جسے ہانیہ نے پٹکا تھا، اور اسے واپس سنہرے دھاگوں سے بنی اپنی شیلف میں لگا دیا۔

آیت "میں یہاں کسی کو دکھانے یا ثابت کرنے نہیں آئی۔ میں یہاں صرف اس لیے ہوں کیونکہ مجھے اپنے جینے کا مقصد مل گیا ہے۔ تمہیں اگر لگتا ہے کہ تمہارے پاس سب کچھ ہے، تو میں تمہارے اس وہم میں داخل نہیں ہونا چاہتی۔"


آیت نے وہاں سے منہ پھیر لیا۔ ہانیہ وہاں کھڑی رہی، کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، پر شاید اس کے پاس آیت کے اس نئے وجود کا کوئی جواب

نہیں تھا۔


ہانیہ کی آنکھوں میں وہی پرانی اکڑ اور بے رخی تھی، جیسے وقت اس کے لیے کہیں رک گیا ہو۔ اس نے آیت کو سر سے پاؤں تک دیکھا وہ سادگی، وہ لباس، اور وہ سکون، جو شاید ہانیہ کی سمجھ سے باہر تھا۔

 

ہانیہ نے کتاب کا کور واپس ٹیبل پر پٹکا، جیسے اسے چھونا بھی اس کے لیے توہین ہو۔ اس کی آواز میں وہی تیکھا پن تھا جو سلطان مرزا کے گھر کی ہواؤں میں گھوما کرتا تھا۔


 ہانیہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ "بدل گئی ہو تم، آیت۔ مگر تمہارا یہ 'نئی عورت' بننے کا ناٹک، کیا تمہیں سچ میں لگتا ہے کہ تم ہم سے یا اپنے ماضی سے چھپ سکوگی؟ گھر سے بھاگ کر یہاں آنا اور یہ چھوٹا موٹا کام کرکے خود کو پُرسکون سمجھنا۔۔۔ یہ تمہاری صرف ایک اور جھوٹی تسلی ہے۔"


آیت کی آنکھوں میں آنسو نہیں آئے، بلکہ ایک گہری خاموشی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ہانیہ آج بھی وہی ہے اپنے بابا کی پرچھائیں، جسے دولت اور گھمنڈ نے اندھا کر رکھا ہے۔


 ہانیہ"بابا آج بھی وہی ہیں، اور گھر کا وہی رتبہ ہے۔ تمہیں کیا لگا، تمہارے جانے سے ہمیں کوئی فرق پڑا؟ تمہارا ہونا یا نہ ہونا ہمارے لیے برابر تھا، اور آج بھی ہے۔"



آیت نے اپنی بہن کی باتوں کو بڑی سنجیدگی سے سنا۔ پہلے شاید وہ ٹوٹ جاتی، مگر آج؟ آج اس کے پاس 'صبر' کی وہ ڈھال تھی جسے ہانیہ کے تیکھے الفاظ بھی چھید نہیں سکتے تھے۔


آیت پُرسکون لہجے میں "ہانیہ، تم نے صحیح کہا۔ میرے جانے سے تمہیں فرق نہیں پڑا، اور شاید اسی لیے میں آج یہاں ہوں۔ تمہیں لگتا ہے یہ 'ناٹک' ہے، کیونکہ تم نے کبھی حقیقت کا سامنا نہیں کیا۔ تم نے ہمیشہ وہی دیکھا جو بابا نے دکھایا۔"


آیت نے دھیرے سے وہ کتاب اٹھائی جسے ہانیہ نے پٹکا تھا، اور اسے واپس سنہرے دھاگوں سے بنی اپنی شیلف میں لگا دیا۔

آیت "میں یہاں کسی کو دکھانے یا کچھ ثابت کرنے نہیں آئی۔ میں یہاں صرف اس لیے ہوں کیونکہ مجھے اپنے جینے کا مقصد مل گیا ہے۔ تمہیں اگر لگتا ہے کہ تمہارے پاس سب کچھ ہے، تو میں تمہارے اس وہم کو توڑنا بھی نہیں چاہتی۔"

آیت نے وہاں سے منہ پھیر لیا۔ ہانیہ وہاں کھڑی رہی، کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، پر شاید اس کے پاس آیت کے اس نئے وجود کا کوئی

جواب نہیں تھا۔