Safar e Raigah - 14 in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 14

Featured Books
  • Safar e Raigah - 14

     منظر  ۔  ۔شاہمیر کے ان آخری الفاظ نے جیسے وقت کو وہیں روک د...

  • Safar e Raigah - 13

    باب۔  اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب شاہمیر اپنی تمام تر تیاریاں...

  • Safar e Raigah - 12

    سلطان مرزا کے دل میں غصے کی آگ اتنی گہری اور تیز تھی کہ وہ خ...

  • بے شمار منزلیں

    میں بلاشبہ بدنام ہوں۔ ظاہر ہے میں عاشق ہوں اس لیے بلاشبہ بدن...

  • Safar e Raigah - 11

    منظر ۔ ہائے اللہ تمہاری تمہارے پھوپھو کے بیٹے سے شادی ہونے و...

Categories
Share

Safar e Raigah - 14

 منظر  ۔ 

 ۔شاہمیر کے ان آخری الفاظ نے جیسے وقت کو وہیں روک دیا تھا۔ آیت نے چونک کر اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک اقرار تھا اور ہونٹوں پر ایک ہلکی، تقریبا نہ دکھنے والی مسکراہٹ۔ لائبریری کی اس پرانی، کتابوں سے مہکتی فضا میں ان دونوں کے درمیان ایک ان دیکھا رشتہ استوار ہو چکا تھا۔


اسی پال لائبریری کے کلاک نے ہلکی سی آواز کے ساتھ وقت بدلنے کا اعلان کیا۔ آیت نے گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر ایک گہرا سانس لے کر اپنی کتابیں سمیٹنے لگی۔ خاموشی کو توڑتے ہوئے شاہمیر نے دھیمی آواز میں کہا، "یہاں کی سردی واقعی انسان کو منجمد کر دیتی ہے... 


اگر آپ برا نہ مانیں، تو کیا ہم پاس ہی کے ایک چھوٹے سے کیفے میں بیٹھ کر گرم چائے یا کافی پی سکتے ہیں؟ مجھے لگتا ہے ہماری باتیں ابھی ادھوری ہیں۔"


آیت نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔ وہ، جو ہمیشہ اجنبیوں سے دور بھاگتی تھی، آج اس مسافر کے سامنے اپنے سارے حصار توڑ چکی تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔


کچھ ہی دیر بعد، وہ دونوں لائبریری کی خاموشی سے نکل کر سڑک کے پار بنے ایک چھوٹے، گرم اور پرسکون کیفے میں بیٹھے تھے۔


 باہر ہلکی ہلکی دھند اتر رہی تھی، اور کیفے کے اندر دھیمی سی موسیقی چل رہی تھی۔ ویٹر نے ان کے سامنے چائے کے مگ لا کر رکھ دیے۔ گرم چائے کی بھاپ ان دونوں کے درمیان اڑ رہی تھی، لیکن ماحول پر اچانک ایک گہری خاموشی چھا گئی تھی۔ دونوں کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا، مگر الفاظ جیسے کہیںک

ھو گئے 


منظر ایک خاموش کیفے کا ہے، جہاں باہر سرد ہواچل   

 رہی ہے۔ شامیر اور آیات ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔ شامیر نے ابھی ابھی اپنا وہی پرانا قصہ سنایا تھا کہ کیسے اس نے ستر (70) ملک دیکھے، مگر اب وہ 'ٹھہر' کر جینا چاہتا ہے۔


آیات نے اس کی طرف حیرت اور تھوڑی سنجیدگی سے دیکھا۔


"شامیر، آپ نے اتنی دنیا دیکھی ہے... کیا کبھی کسی جگہ پر رک کر ایسا لگا کہ بس، یہی گھر ہے؟ یا پھر آپ ہمیشہ کسی اگلی منزل کے پیچھے ہی بھاگتے رہے؟"

شاہ میر نے اپنے ہاتھ میں پکڑے کافی کے کپ کو دیکھا، جیسے وہ اس کے اندر خود کو تلاش کر رہا ہو۔


"گھر دیواروں سے نہیں بنتا، آیات،" شاہ میر نے دھیمے لہجے میں کہا۔ "میں نے ستر ملکوں میں ستر طرح کے گھر دیکھے، مگر سکون صرف وہاں ملا جہاں مجھے خود سے بھاگنا نہیں پڑا۔ سفرِ رائگاں کا مطلب یہ نہیں کہ راستہ فضول تھا، بلکہ یہ ہے کہ منزل کی تلاش میں ہم نے راستے کو ہی منزل سمجھ لیا۔

"

آیات خاموش ہو گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ شاہ میر کے پاس صرف پاسپورٹ کے اسٹیمپس نہیں ہیں، بلکہ ایک بکھری ہوئی داستان ہے جسے وہ اب سمیٹنا چاہتا ہے۔


کیفے کی خاموشی میں شاہ میر کی باتیں سن کر آیات نے ایک سرد آہ بھری۔ اس نے اپنے پرس کی زنجیر سے کھیلتے ہوئے شاہ میر کی آنکھوں میں دیکھا ان آنکھوں میں جن میں ستر ملکوں کی دھول اور ہزاروں راستے بسے تھے۔


"شاہ میر، آپ کو لگتا ہے کہ سفر ہی سب کچھ ہے،" آیات نے نرم مگر مضبوط آواز میں کہا۔ "مگر میرے لیے... سفر ایک برا خواب بھی ہو سکتا ہے۔ آپ خوشی سے گھر سے نکلے تھے، مگر کچھ لوگ گھر سے نکلنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔

"

شاہ میر کی مسکراہٹ لبوں پر ہی تھم گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ آیات کی باتوں میں صرف سنجیدگی نہیں، بلکہ ایک گہرا دکھ چھپا تھا۔


"میرا یہ بنجارہ پن آپ کو متاثر کر سکتا ہے، آیات، مگر کیا یہ آپ کو ڈراتا نہیں؟" شاہ میر نے پوچھا۔ "ایک ایسا شخص جو کبھی ایک جگہ نہیں رکتا، کیا وہ کبھی کسی کا ساتھ نبھا سکتا ہے؟"

آیات نے ایک پل کے لیے نظریں چرا لیں۔ "ڈر تو لگتا ہے، شاہ میر۔ کیونکہ جو شخص پوری دنیا گھوم چکا ہو، اس کے لیے ایک انسان کے دل میں رہنا شاید بہت چھوٹی جگہ ہو۔

"

اسی وقت آیات نے اپنے فون پر ایک پرانی تصویر دیکھی اور اس کی انگلیاں کانپنے لگیں۔ شاہ میر نے اسے حیرت سے دیکھا آیات کی زندگی میں بھی ایک ایسا راز تھا جو اس نے کبھی کسی کو نہیں بتایا تھا۔ وہ شاہ میر کے اس بے باک سفر سے جتنی متاثر تھی، اتنی ہی اپنے ماضی کے کسی سائ

ے سے خوفزدہ بھی تھی۔