منظر ۔
شاہ میر نے محسوس کر لیا تھا کہ آیات کے مزاج کی برہمی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔ وہ اب بھی کچھ اکھڑی اکھڑی سی، اپنے چمچ سے آئس کریم کے پگھلتے ہوئے آخری حصے کو پیالے میں گول گول گھما رہی تھی۔
اس کے چہرے پر جھوٹی بے رخی دیکھ کر شاہ میر کے لبوں پر ایک دلکش شرارت نے انگڑائی لی۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور دھیمی، رازدارانہ آواز میں پوچھا:
"آیات... ویسے 956 ملین (نو سو چھپن ملین ) کوئی معمولی تعداد نہیں ہوتی۔ اگر میں چاہوں تو اسی پل ایک 'لائیو' ویڈیو آن کر کے پوری دنیا کو دکھا سکتا ہوں کہ اس وقت میں کس کے ساتھ آئس کریم کھا رہا ہوں۔ کیا خیال ہے آپ کا؟"
آیات نے چونک کر تیزی سے سر اٹھایا۔
ایک پل کے لیے اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں سچ مچ کا خوف لہرایا، مگر اگلے ہی لمحے اس کی جگہ اسی پرانی، مانوس ضد نے لے لی۔
"بالکل نہیں شاہ میر! خبردار جو آپ نے ایسا کچھ کیا۔ میں آپ کا کوئی 'ٹریول ولاگ' نہیں ہوں جسے آپ کیمرہ اٹھا کر پوری دنیا کے سامنے دکھاتے پھریں۔"
شاہ میر کا ایک بے ساختہ، کھلکھلاتا ہوا قہقہہ فضا میں گونجا۔
"اچھا بابا، میں تو بس مذاق کر رہا تھا۔ مگر سچ بتائیے... کیا آپ کو واقعی برا لگا جب اس لڑکی نے میرے ساتھ تصویر کھینچی؟ یا پھر دل کے کسی کونے میں یہ خوف جاگا ہے کہ شاہ میر سکندر اب صرف آپ کا دوست نہیں رہا، بلکہ پوری دنیا کا ہو چکا ہے؟"
آیات نے آئس کریم کا کپ میز پر رکھا۔ اس کے چہرے پر اب مذاق کی جگہ ایک سنجیدگی اور گہرائی اتر آئی تھی۔ وہ ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی
"ڈر نہیں لگتا شاہ میر، مگر مجھے حیرت ضرور ہوتی ہے۔ ہم جس دنیا سے آئے ہیں (سلطان مرزا کے گھر سے)، وہاں تو کسی کی اتنی تعریف، اتنی پذیرائی نہیں ہوتی تھی۔ اور یہاں... ایک بالکل انجان لڑکی آتی ہے اور آپ کے ساتھ یوں بے تکلف کھڑی ہو جاتی ہے جیسے آپ اس کے بچپن کے دوست ہوں۔ مجھے یہ سب تھوڑا عجیب، تھوڑا اوپرا لگتا ہے۔"
شاہ میر نے آیات کے بدلے ہوئے لہجے کو محسوس کرتے ہوئے اپنی آواز کو مزید نرم اور سنجیدہ کر لیا۔
"آیات، وہ نو سو چھپن ملین لوگ صرف اسکرین پر چمکتے ہوئے ہندسے یا میرے فالوورز نہیں ہیں، وہ میری طاقت ہیں۔ جب میں افغانستان کی اس اندھیری غار میں چھپا بیٹھا تھا، یا جب میں چین کی عظیم دیوار پر بالکل اکیلا سرد ہواؤں کا سامنا کر رہا تھا، تب مجھے یہی احساس زندہ رکھتا تھا کہ دنیا میں کوئی ہے جو میری کہانی سننا چاہتا ہے، جو میرے لوٹ آنے کا منتظر ہے۔ مگر..."
اس نے اپنی نظریں آیات کی جھکی ہوئی پلکوں پر ٹکا دیں۔
"مگر ان نو سو چھپن ملین لوگوں میں سے کوئی بھی اس وقت یہاں میرے ساتھ موجود نہیں ہے۔ وہ سب صرف اس شیشے کی اسکرین کے پار ہیں، لیکن آپ... آپ میرے سامنے حقیقت بن کر بیٹھی ہیں۔ میرے لیے ان لاکھوں 'لائکس' اور 'سبسکرائب' سے کہیں زیادہ قیمتی آپ کا یہ غصہ، یہ ناراضگی اور یہ معصوم سی جلن ہے۔"
آیات نے گھبرا کر اپنی نظریں چرائیں، مگر وہ اپنے چہرے پر دوڑ جانے والی حیا کی خوبصورت لالی کو نہ چھپا سکی۔ اس نے دل کی دھڑکن کو سنبھالنے اور بات کا رخ بدلنے کے لیے جلدی سے پوچھا
"اچھا، تو یہ بتائیے... اتنے سارے چاہنے والوں میں سے کبھی کسی نے آپ کو کوئی عجیب سا تحفہ بھیجا ہے؟ یا سب بس راستے میں روک کر تصویریں ہی لیتے ہیں؟"
شاہ میر کے چہرے پر ایک پرانی یاد کی مسکراہٹ ابھری۔
"ایک بار جاپان میں، ایک فالوور نے مجھے ایک صدی پرانی 'سامورائی تلوار' (Samurai Sword) تحفے میں دینے کی ضد پکڑ لی تھی! اور ایک مرتبہ ترکی کے ایک بوڑھے بزرگ نے، جو میرا ولاگ دیکھتے تھے، مجھے اپنے آبائی گھر کا ایک پرانا کمرہ ہمیشہ کے لیے دینے کی پیشکش کی تھی کہ جب بھی میں دنیا کے سفر سے تھک جاؤں، وہاں آ کر سکون سے رہ سکوں۔"
آیات نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔ "اور آپ نے کیا کیا؟ کیا آپ نے وہ کمرہ لے لیا؟"
شاہ میر نے نفی میں سر ہلایا۔ "نہیں۔ کیونکہ تب میرے پاس وہاں رکنے کی، وہاں ٹھہر جانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ مگر اب... مجھے لگتا ہے کہ مجھے اپنا مستقل ٹھکانہ ڈھونڈ لینا چاہیے۔"
ان کی یہ گفتگو اب وقت اور ماحول کے اثر سے مزید گہری اور جذباتی ہوتی جا رہی تھی۔ شاہ میر نے مسکراتے ہوئے آیات کی طرف دیکھا، جو ابھی بھی ہلکی سی خفگی اور حیا کے ملے جلے جذبات کے ساتھ کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہواؤں کا مزا لے رہی تھی۔
شاہ میر نے اپنا کیمرہ بیگ سے نکالا اور اس کی سیٹنگز چیک کرتے ہوئے بڑے آرام سے کہا، "آپ کی اس خاموشی میں بھی ایک عجیب سا سکون ہے آیات، لیکن آپ کی آواز... وہ میرے اگلے ویڈیو میں جادو پھونک سکتی ہے۔"
آیات نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "کیا مطلب؟"
"میرا مطلب ہے،" شاہ میر نے کیمرے کا رخ اس کی طرف تھوڑا سا جھکایا، "کیا آپ میرے اگلے ٹریول ویڈیو کے لیے اپنی آواز دیں گی؟ پسِ پردہ آپ کے کچھ الفاظ، کچھ جذبات... جو اس منظر کو مکمل کر دیں۔"
آیات ابھی اس اچھوتے خیال پر کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اچانک شاہ میر کی جیب میں رکھا ہوا فون زور سے تھرتھرایا اور اس کی تیز رنگ ٹون نے ماحول کا سحر توڑ دیا۔ اسکرین پر ' ارمان بھائی جان ' کا نام چمک رہا تھا۔
نام دیکھتے ہی شاہ میر کے چہرے پر کھیلتی شرارت پل بھر میں غائب ہو گئی اور اس کی جگہ ایک گبھراہٹ اور سنجیدگی نے لے لی۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور کال ریسیو کی
"سلام، بھائی جان۔"
دوسری طرف سے ایک انتہائی سخت، رعب دار اور نپی تلی آواز گونجی، جس میں ایک پولیس افسر کا دبدبہ صاف ظاہر تھا
"وعلیکم السلام۔ شاہ میر، کہاں ہو تم؟ تمہارے ساتھ اس وقت کون ہے؟"
شاہ میر نے ایک پل کے لیے چوری چھپے آیات کی طرف دیکھا، جو اب بالکل خاموش ہو کر اس کی گفتگو سن رہی تھی۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے آئی پی ایس بھائی کی عقاب جیسی نظروں اور سوالوں سے بچنا ناممکن حد تک مشکل ہے۔
"بھائی میں... میں بس شوٹنگ ختم کر رہا تھا،" شاہ میر نے اپنے لہجے کو معمول پر لانے اور بات کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کی، لیکن اس کی آواز میں جھلکتی ہوئی گھبراہٹ نے آیات کے لبوں پر ایک دھیمی اور شرارتی مسکراہٹ بکھیر دی۔
شاہ میر ابھی اپنے بھائی کی سخت اور نپی تلی باتوں کا کوئی نپا تلا جواب سوچنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اچانک فضا میں وہی جانی پہچانی، پرجوش آواز گونجی۔
"اوہ مائی گاڈ! شاہ میر سر! آپ ابھی تک یہیں ہیں؟"
وہی لڑکی، جو کچھ دیر پہلے اکیلی آئی تھی، اب اپنے ساتھ دو اور سہیلیوں کو لے کر واپس آ چکی تھی۔
اس کا شور اور ایکسائٹمنٹ اتنی زیادہ تھی کہ شاہ میر کے فون کے دوسری طرف موجود اس کے آئی پی ایس (IPS) بھائی کے کانوں تک وہ آوازیں صاف پہنچ گئیں۔
"شاہ میر؟ یہ لڑکیاں کون ہیں؟ اور تم کس کے ساتھ اتنی ہنسی مذاق کر رہے ہو؟" بھائی کی آواز کا پارہ اب اور بھی سخت ہو گیا تھا۔ اس میں ایک تفتیشی افسر کی سختی نمایاں تھی۔
شاہ میر نے گھبرا کر فون کو کان سے تھوڑا دور کیا، لیکن وہ جوش سے بھری فین لڑکی تو جیسے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
"سر، پلیز! میری فرینڈ نے جب آپ کی تصویر دیکھی تو کہنے لگی کہ اسے بھی آپ سے ملنا ہے۔ کیا ہمارے ساتھ ایک گروپ سیلفی ہو جائے؟"
آیات، جو اب تک خاموش کھڑی یہ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی، اس کے صبر کا بندھن اب آہستہ آہستہ ٹوٹنے لگا تھا۔ اس نے دیکھا کہ شاہ میر ایک طرف اپنے بھائی سے سچ چھپانے یا جھوٹ بولنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، اور دوسری طرف یہ ہجوم اسے گھیرنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔
آیات نے ایک گہری اور سرد سانس لی، اور شاہ میر کے بالکل قریب آ کر تھوڑے اونچے اور کڑک دار لہجے میں کہا
"شاہ میر! اگر آپ کا یہ 'فین سیشن' ختم ہو گیا ہو، تو کیا اب ہم گھر چل سکتے ہیں؟ رات بہت زیادہ ہو گئی ہے!"
آیات کا یہ اچانک اور روکھا انداز سن کر وہ لڑکیاں حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔ وہاں موجود آئس کریم پارلر کے اس چھوٹے سے حصے میں ایک پل کے لیے جیسے سناٹا چھا گیا۔
مگر اصل طوفان تو فون کے دوسری طرف تھا؛ شاہ میر کے فون سے اب اس کے بھائی کی گرجدار آواز صاف سنائی دے رہی تھی:
"شاہ میر! یہ تیسری آواز کس کی تھی؟ گھر آؤ تم، پھر بات کرتے ہیں!"
شاہ میر نے کسی بڑی مصیبت کے خوف سے جلدی سے فون کاٹ دیا اور بے بسی کی آخری حد چھوتے ہوئے ایک بار آیات کو اور ایک بار اپنی فینز کو دیکھا۔ آیات کے چہرے پر اس وقت جو سختی اور بے رخی تھی، اس نے شاہ میر کو یہ اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ اب مذاق یا تفریح کا وقت ختم ہو چکا ہے۔
آیات نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے آئس کریم کے کپ کو دیکھا جو اب پگھل کر اپنی شکل کھو رہا تھا، پھر اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھر کر شاہ میر کی طرف دیکھا۔
"افہ اللہ، شاہ میر! لگتا ہے آپ کے یہ فینز مجھے سکون سے دو چمچ آئس کریم بھی نہیں کھانے دیں گے،" آیات نے تھوڑے چڑچڑے مگر مزاحیہ لہجے میں تپ کر کہا۔
شاہ میر، جو ایک طرف فون پر بھائی کی ڈانٹ اور دوسری طرف چاہنے والوں کے اس اچانک ہجوم کے درمیان بری طرح پھنس چکا تھا، آیات کی بات سن کر بری طرح ہڑبڑا گیا۔ اس نے جلدی سے ان لڑکیوں کی طرف دیکھ کر ایک رسمی مسکراہٹ سجائی، "تھینک یو سو مچ!" کہا اور انہیں وہاں سے رخصت ہونے کا اشارہ کیا۔
پھر اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے، اس نے فون کو اپنی جیب میں یوں ڈالا گویا وہ کسی بڑی مصیبت کو چند لمحوں کے لیے خود سے دور چھپا رہا ہو۔
"آئس کریم... اوہ، آئی ایم سو سوری! میرا مطلب ہے، بس دو منٹ،" اس نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔
آیات نے آخری چمچ آئس کریم ختم کیا ، اپنی خوبصورت آنکھیں تھوڑی سی مٹکائیں اور طنزیہ لہجے میں بولی
"آپ کی اس 'سیلیبریٹی لائف' نے تو میرے رہے سہے سکون کا بھی نشانہ لے لیا ہے۔ ابھی تو آپ کے بھائی جان نے جو سوال پوچھے ہیں، گھر جا کر ان کا کیا جواب دیں گے آپ؟ مجھے تو لگتا ہے کہ 'آئی پی ایس بھائی' کو ہینڈل کرنا ان معصوم فینز کو ہینڈل کرنے جتنا آسان نہیں ہوگا۔"
شاہ میر نے ایک گہری سانس لی اور آیات کے پاس بچھے ہوئے اسٹول پر بیٹھ گیا۔
"بھائی کا تو اب اللہ ہی حافظ ہے، لیکن اس وقت میرے لیے آپ کا سکون اور آپ کا موڈ زیادہ ضروری ہے۔ چلیے، اس سے پہلے کہ کوئی اور فین 'سیلفی سیلفی' چلاتا ہوا یہاں آ پہنچے، ہم یہاں سے نکلتے ہیں۔"
آیات کے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔ اس نے اپنا کپ میز پر رکھا اور کھڑی ہو گئی۔
"نکلتے ہیں؟ لیکن کہاں؟ اپنے گھر کی طرف یا میرے ان سوالوں سے بچنے کے لیے کسی نئی جگہ کی طرف؟"
شاہ میر نے اپنا کیمرہ بیگ کندھے پر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں وہی پرانی، دلکش شرارت لوٹ آئی۔ وہ دھیمی آواز میں بولا
"وہاں... جہاں صرف برف ہو، پہاڑوں کی خاموشی ہو... اور ہمارے علاوہ کوئی تیسرا فین نہ ہو۔"
شاہ میر نے گاڑی اسٹارٹ کی اور دونوں خاموشی سے شہر کی پرسکون اور سنسان سڑکوں پر نکل پڑے۔ جب شاہ میر نے ہاسٹل کے بڑے سے گیٹ کے پاس پہنچ کر نرمی سے بریک لگائی۔
"لیجیے، آپ کا ٹھکانا آ گیا،" شاہ میر نے باہر اشارہ کرتے ہوئے مدہم آواز میں کہا۔
آیات نے مسکرا کر اس کا شکریہ ادا کیا اور گاڑی سے اترنے لگی۔ لیکن جیسے ہی اس نے ہاسٹل کے مرکزی داخلہ راستے کی طرف قدم بڑھائے، اس کی نظر پیچھے پڑی۔ شاہ میر بھی اپنی گاڑی پارک کر کے، اپنا بھاری کیمرہ بیگ اٹھائے اسی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
آیات ٹھٹھک کر رک گئی۔ اس کے چہرے پر حیرت کے تاثرات ابھر آئے۔
"آپ... آپ یہاں کیوں آ رہے ہیں؟ میں نے کہا تھا نا کہ میں خود چلی جاؤں گی، آپ کو مجھے روم تک چھوڑنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔"
شاہ میر نے پہلے حیرت سے آیات کو دیکھا اور پھر ہاسٹل کی اس اونچی بلڈنگ کی طرف۔ اگلے ہی پل اس کے لبوں پر ایک دبی دبی سی، شرارتی ہنسی نمودار ہوئی۔
"روم تک چھوڑنے؟ آیات جی! میں آپ کو چھوڑنے نہیں، بلکہ اپنے کمرے میں سونے جا رہا ہوں۔"
آیات کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ "کیا مطلب؟ یہ لڑکیوں کا ہاسٹل نہیں ہے، یہ ایک گیسٹ ہاؤس نما ہاسٹل ہے جہاں ٹورسٹ بھی رکتے ہیں۔ لیکن آپ...؟"
شاہ میر نے مسکراتے ہوئے اپنی جیب سے ڈیجیٹل کی-کارڈ (Key-card) نکالا اور اسے دکھاتے ہوئے بولا: "میں کل رات سے اسی ہاسٹل کے 'بلاک بی' میں رکا ہوا ہوں۔ مجھے خود اندازہ نہیں تھا کہ آپ بھی یہیں ٹھہری ہوئی ہیں! اتنی بڑی دنیا اور اتنا چھوٹا سا ہاسٹل؟"
آیات نے بے اختیاری میں اپنا سر پکڑ لیا۔ "اف اللہ! اس کا مطلب ہے ہم دونوں ایک ہی چھت کے نیچے تھے اور ہمیں خبر تک نہیں ہوئی؟ اگر میرے گھر والوں کو پتہ چلا کہ میں جس ہاسٹل میں ہوں، وہاں ایک نامور 'ٹریول ولاگر' بھی رہ رہا ہے جو اب میرا دوست بن چکا ہے، تو..."
شاہ میر نے ہمیشہ کی طرح اس کی بات بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے شرارت سے کہا "تو پھر تو آپ کے بابا سلطان میرزا کو سچ میں مجھے ڈھونڈنے کی زحمت نہیں کرنی پڑے گی، میں تو ان کے 'ٹارگٹ' کے بالکل اگلے ہی کمرے میں مل جاؤں گا!"
اس خوبصورت اتفاق پر دونوں ایک پل کے لیے خاموش ہوئے اور پھر کھلکھلا کر ہنس دیے۔ ہاسٹل کی سنسان راہداریوں میں گونجتی ان کی یہ ہنسی، جیسے اس ان کہے سفر میں ایک نئے اور خوبصورت موڑ کا پیش خیمہ تھی۔
شاہ میر نے فون پر بڑی صفائی اور مہارت سے اپنے آئی پی ایس بھائی کو سنبھال لیا تھا۔ اس نے انہیں یقین دلایا کہ وہ ایک پرسکون جگہ پر ہے اور اپنے کام میں مصروف ہے۔ جب بات ختم ہوئی، تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ہوئے اپنے اپنے کمروں کی طرف بڑھ گئے۔
رات گہری ہو چکی تھی۔ ہاسٹل کی اس پراسرار خاموشی میں صرف
باہر سے آتی ٹھنڈی ہواؤں کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی، جو جیسے کسی آنے والے اچھے وقت کی نوید سنا رہی تھیں۔