safar e raigah in Urdu Drama by Naheed Anis books and stories PDF | Safar e Raigah - 23

Featured Books
  • Safar e Raigah - 23

    منظر ۔آیت اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو مبشرہ اسے دیکھ کر مسکرا...

  • Safar e Raigah - 22

        منظر ۔آیت نے ایک گہری سانس لی اور اپنی نظریں ڈھلتے ہوئے...

  • یادوں کا جام پیو

    یادوں کا گلاس بھرو محبت میں نشہ آور یادوں کا گلاس بھرو۔ بلان...

  • کَلیُگ کی آگنی پریکشا

    کَلیُگ کی آگنی پریکشاآج کے دور میں ہر انسان اپنی زندگی کی کس...

  • تجربہ

    خالی جیب میں اعتماد خالی جیب میں اعتماد برکت ہے۔ وہ زندگی جی...

Categories
Share

Safar e Raigah - 23

منظر ۔


آیت اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو مبشرہ اسے دیکھ کر مسکرانے لگی ۔ آیت نے اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا کیا ہوا ایسے کیوں مسکرا رہے ہو ۔


مبشرہ میں آیت کو چڑھتے ہوئے کہا آج پھر تم اپنے اس مسافر کے ساتھ چلی گئی تھی نہ آخر معاملہ کیا ہے ۔


آیت نے کہا تم غلط سوچ رہی ہو مبشرہ منے کچھ دن کے لیے لائیبریری سے چھوٹی لی ہے اور منے سوچا ہوسٹل میں رہنے سے اچھا ہے میں شہر گھملو لو ،


ہاں ٹھیک سوچا تمنے آیت اور میں دیکھ رہی ہو جب سے تمہارا وہ مسافر آیا ہے تم بہت خوش رہنے لگی ہو بس اتنا یاد رکھنا وہ یہاں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا ہے وہ ایک مسافر ہے اور مسافر کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ زادہ دن کسی بھی جگہ نہیں رُک سکتے ، اتنا کہہ کر مبشرہ سونے چلے گئی ۔


مبشرہ کے جانے کے بعد کمرے میں ایک گہرا سناٹا پھیل گیا۔

 آیت نے کھڑکی سے باہر رات کے اندھیرے میں دیکھا، جہاں دور سڑک پر جلتے لیمپ کی روشنی مدہم پڑ رہی تھی۔ 


مبشرہ کی کہی ہوئی بات "وہ ایک مسافر ہے" اس کے ذہن میں کسی گہرے کنویں میں گرتے پتھر کی طرح گونج رہی تھی۔ کیا واقعی وہ اتنی جلدی چلا جائے گا؟ اس خیال نے دل کے کسی گوشے میں ایک انجانی سی کسک پیدا کر دی تھی۔


آیت بستر پر لیٹی تو ضرور تھی، پر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اس کے ذہن میں وہی جملہ بار بار گھوم رہا تھا . "وہ ایک مسافر ہے، اور مسافر کی فطرت ہوتی ہے..."


کیا سچ میں کچھ لوگ زندگی میں صرف راستے بدلنے آتے ہیں؟ اس نے اپنا فون اٹھایا، اسکرین کی مدہم روشنی اس کے چہرے پر پڑی۔ کچھ دیر وہ بلینک اسکرین کو دیکھتی رہی، پھر ایک لمبی سانس لے کر فون واپس رکھ دیا۔ اس کے دل کے کسی کونے میں ایک عجیب سا خوف تھا کہ اگر وہ سچ میں چلا گیا، تو پیچھے کیا رہ جائے گا؟



آیت کافی دیر تک کروٹیں بدلتی رہی، لیکن نیند اس کی آنکھوں سے غائب تھی۔ آخر تھک کر اس نے ساتھ سوئی ہوئی مبشرہ کو دیکھا، جو کتنی سکون کی نیند سو رہی تھی۔ آیت سے رہا نہیں گیا، اس نے مبشرہ کا کندھا پکڑ کر اسے جھنجھوڑ دیا۔



اٹھو نا مبشرہ! میری نیند اڑا کر تم اتنے آرام سے کیسے سو سکتی ہو؟"


مبشرہ نے نیند میں ڈوبی آنکھیں کھولیں، حیران ہوتی ہوئی بولی، "کیا ہوا آیت؟ میں نے تو کچھ غلط نہیں کہا... تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟"


آیت نے ایک لمبی سانس لی، اس نے اپنی نظریں جھکا لیں کیونکہ وہ اپنی آنکھوں میں اتری نمی کو چھپانا چاہتی تھی۔ اس نے آہستہ سے، بالکل ٹوٹتی ہوئی آواز میں کہا 

"تم نے کتنی آسانی سے کہہ دیا نا مبشرہ کہ وہ ایک مسافر ہے اور چلا جائے گا…

 پر تم یہ کیوں نہیں سمجھتیں کہ کچھ لوگ جب زندگی میں آتے ہیں، تو ہمارا پورا دھیان، ہمارا سکون سب اپنے ساتھ باندھ کر لے جاتے ہیں۔


 میں نے کب کہا کہ مجھے اس سے کوئی شکایت ہے؟ مجھے تو بس اس بات سے خوف آ رہا ہے کہ کل جب وہ اچانک چلا جائے گا... تو یہ جگہ، یہ راستے کتنے خالی اور عجیب ہو جائیں گے۔"


مبشرہ نے سیدھے ہو کر بیٹھتے ہوئے آیت کو غور سے دیکھا۔ اس کے لہجے میں اب ایک فکرمندانہ نرمی تھی، جیسے وہ کسی ضد کرتے ہوئے بچے کو سچائی کا آئینہ دکھا رہی ہو۔


"آیت... تم خود بھی تو سوچو نا، وہ ایک مسافر ہے اور ایک ایسا بلاگر جس کے اتنے سارے فالوورز اس کی ویڈیوز کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔


 یہ کشمیر اس کی منزل تو نہیں ہے نا؟ تم ہی تو کہتی تھی نا کہ اس کو پوری دنیا گھومنی ہے اور ابھی تو بس ستر ملک ہی ہوئے ہیں۔ میں نے شاہمیر کی ویڈیوز دیکھی ہیں آیت... وہ ایک بہت ہی میچور اور سنجیدہ انسان ہے۔"


مبشرہ کی بات سن کر آیت نے ایک لمبی، ٹھنڈی سانس بھری۔ اس نے اپنی نظریں جھکا لیں، جیسے اپنے ہی دل کی کیفیت پر شرمندہ ہو رہی ہو۔


"ہاں مبشرہ... میں سمجھ رہی ہوں،" اس کی آواز میں ایک مدہم سی ندامت اور بے کسی تھی، "سوری... مجھے خود بھی نہیں سمجھ آ رہا کہ میں کیوں اس بات سے اتنی بے چین ہو گئی کہ وہ چلے جائیں گے۔"



اس کے بعد کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ مبشرہ نے شفقت سے آیت کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اسے سونے کا اشارہ کیا۔ آیت نے دھیرے سے سر ہلایا اور بستر پر لیٹ گئی۔ اس کی آنکھیں اب بھی بند نہیں ہو رہی تھیں، مگر دل کے اندر کی بے چینی اب ایک بوجھل سی خاموشی میں بدل چکی تھی۔


صبح جب سورج کی پہلی کرنیں کھڑکی کے شیشوں سے چھن کر اندر آئیں، تو پورا کمرہ ایک سنہری روشنی سے بھر گیا۔ آیت کی آنکھ کھلی تو مبشرہ پہلے ہی اٹھ چکی تھی اور کھڑکی کے پاس کھڑی باہر کا منظر دیکھ رہی تھی۔


آیت نے دھیرے سے بستر سے قدم نیچے اتارے۔ رات کا ڈر اور وہ بے نام سا خوف اب بھی اس کے دل میں کہیں سویا ہوا تھا، مگر اب اس نے خود کو سنبھال لیا تھا۔ 


اس نے اپنے دل سے وعدہ کیا کہ وہ شاہمیر کے سامنے اپنے اس جذبے یا بے چینی کی ذرا سی بھی بھنک نہیں لگنے دے گی۔


"صبح ہو گئی آیت..." مبشرہ نے مڑ کر اسے دیکھتے ہوئے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔


"ہاں... ایک نئی صبح،" آیت نے کھڑکی سے باہر پھی

لے خوبصورت مناظر کو دیکھتے ہوئے خود سے کہا۔