باب ۔
کشمیر کی برفیلی اور سرد شام تھی۔ باہر چنار کے درختوں سے پتے گر رہے تھے اور ہواؤں میں غضب کی خنکی تھی۔ لائبریری کے ایک کونے میں چھوٹی سی انگیٹھی جل رہی تھی، جس کی آنچ پر چائے کی کیتلی رکھی ہوئی تھی۔
آیت اپنے ہاتھ میں ایک پرانی، دھول سے اٹ پٹی کتاب لیے اسے صاف کر رہی تھی کہ تبھی مبشرہ وہاں آئی۔ آیت کو یوں گمسم دیکھ کر مبشرہ نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔
مبشرہ: "آیت! اتنی سردی ہے اور تم اب بھی ان پرانی کتابوں اور سیاہی کی مہک میں کھوئی ہوئی ہو؟ تھکتی نہیں ہو تم؟"
آیت نے کتاب سے نظریں ہٹائیں، انگیٹھی کی طرف دیکھا اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی:
آیت: "تھکن کیسی مبشرہ؟ یہ پرانی لائبریری اب صرف میرے کام کی جگہ نہیں ہے، یہ میرا گھر بن چکی ہے۔ جب میں ان کتابوں کو چھوتی ہوں نا، تو مجھے لگتا ہے میں اسی دنیا کا حصہ ہوں جہاں میں ہمیشہ سے کھونا چاہتی تھی۔"
مبشرہ نے چائے کے دو کپ بھرے، ایک کپ آیت کی طرف بڑھایا اور چنار کے درختوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی:
مبشرہ: "میں دیکھ رہی ہوں آیت، جب سے تم کشمیر آئی ہو، تم بدل گئی ہو۔ اس وادی کی خاموشی نے تمہیں اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔"
آیت نے گرم چائے کا کپ اپنے ہاتھوں میں لیا، جیسے وہ اس کی گرمائش کو محسوس کرنا چاہتی ہو، اور کہنے لگی:
آیت: "تم سچ کہہ رہی ہو مبشرہ۔ میں نے یہاں آکر پہلی بار جانا کہ 'سکون' لوگوں کی بھیڑ میں نہیں، بلکہ اس قدرت میں ہے۔ جب میں صبح سویرے ان چنار کے درختوں کے بیچ سے گزرتی ہوں، تو میرا دل بھر آتا ہے۔ ایک وقت تھا جب مجھے لگتا تھا کہ میرے بابا کی نفرت نے مجھے برباد کر دیا، انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا۔ لیکن اب سمجھ آتا ہے کہ بابا نے تو مجھے صرف اپنے چھوٹے سے گھر سے نکالا تھا، مگر خدا نے مجھے اس اتنی بڑی اور خوبصورت دنیا کا حصہ بنا دیا۔"
مبشرہ نے اس کی بات سن کر گہرا سانس لیا، وہ جانتی تھی کہ آیت نے کتنی بڑی تبدیلی دیکھی ہے۔ وہ بولی:
مبشرہ: "مگر آیت، یہ زندگی اتنی آسان بھی تو نہیں ہے نا؟ کبھی یہاں کا پانی پائپوں میں جم جاتا ہے، کبھی آگ جلانے کے لیے لکڑیاں کم پڑ جاتی ہیں۔ تم... جو سلطان مرزا کی بیٹی ہو، جس کے لیے ایک اشارے پر سب کچھ حاضر تھا، آج اپنے ہاتھوں سے یہ چھوٹے موٹے کام کرتی ہو، تمہیں برا نہیں لگتا؟"
آیت کی آنکھوں میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا، وہ دھیمی آواز میں بولی:
آیت: "شروع میں لگتا تھا مبشرہ۔ لیکن انھی چھوٹے چھوٹے سنگھرش (مشکلات) نے مجھے 'صبر' کا اصل مطلب سکھایا ہے۔ جب انسان حقیقت کو قبول کر لیتا ہے نا، تو ہر مشکل اسے ایک سبق لگنے لگتی ہے۔ اب میں وہ کمزور لڑکی نہیں رہی جو گھر کے کسی کونے میں بیٹھ کر روتی رہے۔ میں نے اپنی کڑواہٹ کو اپنے ہنر اور محنت سے مٹھاس میں بدلنا سیکھ لیا ہے۔"
کچھ دیر کے لیے دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔ صرف انگیٹھی میں لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز آ رہی تھی۔ مبشرہ نے غور کیا کہ آیت کی نظریں کہیں دور خلا میں ٹک گئی ہیں۔
مبشرہ: "کیا سوچ رہی ہو آیت؟"
آیت نے ایک لمبی آہ بھری اور چائے کا آخری گھونٹ لیتے ہوئے بولی:
آیت: "کبھی کبھی... جب رات کو بہت اکیلا پن ہوتا ہے نا، تو مجھے ہنیا کی یاد آتی ہے۔ دل چاہتا ہے پوچھوں کہ کیا وہ اب بھی ویسی ہی ہے؟ کیا اس نے کبھی مجھے یاد کیا ہوگا؟"
آیت نے کچھ سیکنڈز کے لیے اپنے بیتے ہوئے کل کو یاد کیا، اور پھر ایک مضبوط مسکراہٹ کے ساتھ بولی:
آیت: "مگر خیر... اب میں ان یادوں کو اپنی اسی خاموشی میں دفن کر دیتی ہوں۔ اب مجھے آگے بڑھنا ہے، اپنے اس ہنر کے دم پر۔"
مبشرہ نے محبت سے آیت کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اور دونوں چائے پیتے ہوئے لائبریری کی اسپ
رسکون شام کا حصہ بن گئیں۔
مبشرہ " آیت کے ہاتھ میں لیدر کا ایک خوبصورت، کڑھائی کیا ہوا کتاب کا کور دیکھ کر، مسکراتے ہوئے" آیت! یہ تمہارا ہنر تو اب صرف ایک کام نہیں رہا۔ اس ڈیزائن کو دیکھو... اس میں ایک عجیب سی گہرائی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے تم اپنے دل کا حال ان دھاگوں کے ذریعے پنّوں پر اتار رہی ہو۔
آیت ایک گہری سانس لے کر، کور پر ہاتھ پھیرتے ہوئے, تم نے بالکل ٹھیک کہا، مبشرہ۔ یہ کام صرف میرا ہنر نہیں، میرے درد کا اظہار بھی ہے۔ جب میں بہت اکیلی ہوتی ہوں، تو کسی پھول کی پتی بناتے ہوئے وہ اکیلا پن اس میں جھلک جاتا ہے۔ اور جب دل میں امید جاگتی ہے، تو کوئی نیا پیٹرن (pattern) بن جاتا ہے۔ میری زندگی اب ان دھاگوں اور کتابوں کی بائنڈنگ (binding) کے گرد ہی تو گھوم رہی ہے۔
مبشرہ تعریف کرتے ہوئے اور اسی لگن کا نتیجہ ہے کہ اس بڑی لائبریری کے کیوریٹر (curator) کی نظر تمہارے کام پر پڑی۔ وہ تو تمہاری بنائی ہوئی کتابوں کے کور دیکھ کر حیران رہ گئے! انہوں نے تمہیں صرف بائنڈنگ کا کام نہیں دیا، بلکہ اپنے پورے 'ریسPeek ریشن آرٹ' (Restoration Art) ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ (head) بنا دیا۔ یہ تمہارے لیے کتنی بڑی بات ہے، آیت! ایک ایسی لڑکی جس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کسی آفس یا ادارے میں کام کرے گی۔
آیت آنکھوں میں ایک چمک کے ساتھ ہاں مبشرہ، جب میں نے پہلی بار اپنی محنت کی کمائی سے ایک نئی کتاب خریدی... تو مجھے جو سکون ملا، وہ میرے بابا کے دیے ہوئے مہنگے تحفوں سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ اب میں صرف "سلطان مرزا کی بیٹی" نہیں رہی، بلکہ میں خود "آیت" بن چکی ہوں۔
ایک ایسی لڑکی جو اپنی کڑوی حقیقت کو اپنے ہنر سے مٹھاس میں بدلنا جانتی ہے۔ اس کام نے مجھے لوگوں سے ملنے کا موقع دیا، اور میں دھیرے دھیرے باہر کی دنیا سے جڑنے لگی ہوں۔
زندگی کا توازن اور چنار کے درخت کا سایہ
مبشرہ نمی آمیز لہجے میں، میں دیکھ رہی ہوں کہ کشمیر کی ان وادیوں نے تمہاری بھاگ دوڑ والی زندگی کو ایک 'ٹھہراؤ' دے دیا ہے۔ تمہاری زندگی ایک ایسی دستاویز (document) بن گئی ہے، جسے تم روز نئے رنگوں سے لکھ رہی ہو۔
آیت مسکراتے ہوئے، سچ کہوں تو کتاب کی بائنڈنگ نے مجھے زندگی کا توازن (balance) سکھایا ہے۔ جیسے ایک کتاب کو باندھنے کے لیے دھاگوں کو ایک مخصوص ترتیب (order) میں پرونا پڑتا ہے، ویسے ہی میں نے اپنی پریشانیوں کو سنبھالنا سیکھ لیا ہے۔
مبشرہ محبت سے اور صرف یہی نہیں، تم تو یہاں کے مقامی لوگوں کی ایک 'شخصیت' بن گئی ہو! روز شام کو چنار کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر ان غریب بچوں کو پڑھانا، جنہیں پڑھنے کا موقع نہیں ملتا... ان بچوں کی مسکراہٹ میں تم کیا ڈھونڈتی ہو؟
آیت: دور خلا میں دیکھتے ہوئے، ان بچوں کی مسکراہٹ مجھے میرے اس بچپن کی یاد دلاتی ہے جو میں نے سلطان مرزا کے محل جیسے گھر میں بھی کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ میں نے سیکھ لیا ہے، مبشرہ... کہ حقیقت سے بھاگنا تب ختم ہو جاتا ہے جب آپ اسے 'قبول' کر لیتے ہیں۔ اب جب میں برف کی ٹھنڈی راتوں میں اپنی انگھیٹی کے پاس بیٹھ کر چائے پیتی ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس جو کچھ ہے۔ یہ چھوٹا سا کمرہ، کچھ کتابیں اور یہ تھوڑا سا سکون۔ وہ دنیا کی ہر دولت سے بہتر ہے۔
مبشرہ آیت کا ہاتھ تھام کر اب تم وہ لڑکی نہیں ہو جو اپنے 'نصیب' کو کوستی تھی۔ تم نے 'صبر' کو اپنا ہتھیار بنا لیا ہے۔ روز ایک نیا سفر... کبھی پرانی کتابوں کے ذریعے تاریخ کو پڑھنا، تو کبھی پرانی کہانیوں کو نئی بائنڈنگ میں پرونا۔ تمہارے اندر ایک عجیب سا ٹھہراؤ آ گیا ہے، اب تمہیں کسی کی تلاش ہے نہ کوئی شکایت۔ تم نے خدا کی رضا میں اپنی حقیقت کو ڈھونڈ لیا ہے اور اپنے اندر سے اس "سلطان مرزا کی بیٹی" کو پوری
طرح مٹا دیا ہے۔
مبشرہ آیت کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اور کھڑکی سے باہر پھیلے اندھیرے کو دیکھ کر چلو آیت، باتیں کرتے کرتے وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔ اب کافی دیر ہو گئی ہے، ہمیں ہوسٹل واپس چلنا چاہیے۔ وادی کی ہوائیں اب اور ٹھنڈی ہونے لگی ہیں۔
آیت اپنی کتابوں اور دھاگوں کو سمیٹتے ہوئے، ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہاں مبشرہ، تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ یہاں چنار کے سائے میں بیٹھ کر جب میں اپنے دل کی باتیں کرتی ہوں، تو لگتا ہے وقت یہیں تھم گیا ہے۔ لیکن ہوسٹل کے گیٹ بند ہونے کا وقت بھی ہو رہا ہے۔
دونوں اپنا سامان سنبھالتی ہیں اور خاموشی سے ہوسٹل کی طرف قدم بڑھا دیتی ہیں۔ راستے میں برفانی ہوا کے جھونکے ان کے چہروں کو چھو رہے ہیں، لیکن آیت کے دل کے اندر اب ایک عجیب سا اطمینان ہے۔
مبشرہ راستے میں چلتے ہوئے، آیت کو غور سے دیکھتے ہوئے ویسے آیت، ہوسٹل کا وہ چھوٹا سا کمرہ اب مجھے صرف ایک کمرہ نہیں لگتا۔ جب سے تم وہاں آئی ہو، وہاں کتابوں کی خوشبو اور تمہارے اس ہنر کی رونق نے اسے ایک گھر جیسا بنا دیا ہے۔
آیت سڑک پر پڑی ہلکی برف پر اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے سچ کہوں تو مبشرہ، میرے لیے بھی وہ ہوسٹل اب صرف سر چھپانے کی جگہ نہیں رہا۔ وہاں کا وہ سکون، رات کو دیر تک بیٹھ کر تمہاری باتیں سننا، اور صبح کی پہلی چائے... یہ سب اب میری زندگی کا وہ حصہ بن چکے ہیں جن کے بغیر میں اپنے دن کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
مبشرہ ہوسٹل کے بڑے لوہے کے گیٹ کے پاس پہنچ کر، چوکیدار کو سلام کرتے ہوئے شکر ہے، وقت پر پہنچ گئے۔ اگر پانچ منٹ اور لیٹ ہوتے تو آج وارڈن صاحبہ سے اچھی خاصی ڈانٹ پڑتی!
آیت: ہنستے ہوئے اور ان کی ڈانٹ سننے کے بعد میری رات کی چائے کا سارا سکون غارت ہو جاتا۔
دونوں ہوسٹل کی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھتی ہیں۔ کمرے کا دروازہ کھولتے ہی وہی جانی پہچانی کتابوں، لیدر اور چائے کی پتی کی ملی جلی خوشبو ان کا استقبال کرتی ہے۔
آیت اپنے بیگ کو میز پر رکھتے ہوئے اور انگھیٹی کی طرف بڑھتے ہوئے تم بیٹھو مبشرہ، میں جلدی سے انگھیٹی سلگاتی ہوں اور ہمارے لیے گرما گرم چ
ائے بناتی ہوں۔
منظر آیات اور مبشرہ کا کمرہ
کمرے میں گہری خاموشی تھی، جو وقت کے ساتھ دونوں کی دوستی میں ایک سکون بن چکی تھی۔ مبشرہ بیڈ پر بیٹھی، کچھ سوچتے ہوئے بار بار آیات کو دیکھ رہی تھی، جو کھڑکی کے پاس کھڑی باہر اندھیرے کو تک رہی تھی۔
آخر کار مبشرہ سے رہا نہ گیا۔ اس نے دھیمے سے پوچھا، ”آیات۔۔۔ ہمیں اتنے دن ہو گئے نا ایک ساتھ رہتے ہوئے؟ ہم ایک دوسرے سے ہر بات شیئر کرتے ہیں، پر تم نے اپنی نہیں ہانیہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ۔
آیات نے پلٹ کر مبشرہ کو دیکھا، اس کے چہرے پر ایک دھیما سا تاثر تھا۔
آیات کے لبوں پر ایک دھیمی، تھوڑی اداس پر بے حد پیاری سی مسکراہٹ ابھر آئی۔ وہ چلتے ہوئے مبشرہ کے پاس آئی اور بولی،
لیکن جیسے ہی آیات کے لبوں سے اپنی بہن ’ہانیہ‘ کا نام نکلا، اس کے الفاظ وہیں جم گئے۔
ہانیہ کا نام لیتے ہی، جیسے کمرے کی دیواریں غائب ہو گئیں اور آیات کی آنکھوں کے سامنے ماضی کے پردے لہرانے لگے۔ اس کے سامنے اپنی اور ہانیہ کی ہلتی ملتی تصویریں چلنے لگیں۔۔۔
دونوں کا ساتھ میں ہنسنا، لڑنا، اور دیر رات تک باتیں کرنا۔ ہانیہ کی ایک ایک بات، اس کی ہنسی کی آواز آیات کے کانوں میں اس طرح گونجی کہ آیات تھوڑی دیر کے لیے اس دنیا سے بالکل بے خبر ہو گئی۔ اس کے دل پر یادوں کا ایک سیلاب سا آ گیا۔
میں تم کو اگر ہانیہ کے بارے میں بتانے بیٹھونگی تو پوری رات کم پڑھ جائیگی ۔ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
ہا تو بولو نہ آج کی رات ویسے بھی نیند نہیں آ رہی ہے مجھے ۔ مبشرہ نے آیت کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔
ٹھیک ہے
بابا ۔ سنو ۔
آیات اور ہانیہ کی گفتگو
آیات اپنے کمرے میں سکون سے بیٹھی ایک کتاب پڑھنے میں مگن تھی، جب اچانک ہانیہ چلاتے ہوئے اور ہانپتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ اس قدر خوش تھی کہ جوش کے مارے اس سے خود کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔
”آیات باجی! آپ کو پتہ ہے کل کون آنے والا ہے؟“ ہانیہ نے چہکتے ہوئے پوچھا، اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔
آیات نے کتاب سے نظریں ہٹائیں اور تھوڑے مزاحیہ لہجے میں کہا، ”کیا ہوا ہانیہ؟ میں یہاں پڑھ رہی ہوں۔۔۔
اور تم اتنی خوش کیوں ہو رہی ہو؟ کون آنے والا ہے؟ کہیں تمہارا رشتہ لے کر تو کوئی نہیں آ رہا؟“
ہانیہ نے شرارت سے منہ بنایا، ”رشتہ بھی آ جائے گا باجی! پر فی الحال تو محمد راویل آ رہا ہے۔“
یہ سنتے ہی آیات کے چہرے کے تاثرات بدل گئے، ”کیا؟ راویل آ رہا ہے؟ سچ میں؟ پھر تو پھوپھو بھی آ رہی ہوں گی نا؟“
”وہ مجھے نہیں پتہ باجی! میری ابھی راویل سے بات ہوئی ہے، اس نے کہا وہ کل ہمارے گھر آ رہا ہے۔ میں اسے دیکھنے کے لیے اس قدر ایکسائٹڈ (پرجوش) ہوں کہ بتا نہیں سکتی۔ اتنے سال گزر گئے، اسے سامنے سے دیکھا ہی نہیں! آپ کل گھر پر ہی ہو نا؟“ ہانیہ نے امید سے پوچھا۔
آیات نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا، ”نہیں یار۔۔۔ مجھے بابا نے کہا ہے کہ کسی فائل پر سی ای او (CEO) کے سائن چاہیے، اس لیے مجھے کل آفس جانا ہے۔ پر میں کوشش کروں گی کہ جتنا جلدی ہو سکے واپس آ جاؤں۔ اگر پھوپھو آئیں تو انہیں میرا سلام کہنا۔“
ہانیہ نے مسکرا کر سلیوٹ کیا، ”اوکے محترمہ سی ای او! بول دوں گی۔
“
آیات نے ہانیہ کو گہری نظروں سے دیکھا اور شرارت سے دبا دبا لہجہ اپناتے ہوئے کہا، ”تمہارے ارادے کچھ صحیح نہیں لگ رہے مجھے۔ کیا بات ہے؟ راویل کے آنے کی خبر سن کر تمہاری خوشی ہی نہیں رک رہی۔ اگر بابا کو پتہ چلا نا۔۔۔ تو تم تو گئیں بیٹا!“
ہانیہ نے معصومیت سے کندھے اچکائے، ”کیا ہوگا اگر بابا کو پتہ چل گیا کہ میں راویل سے محبت کرتی ہوں؟ وہ میری شادی کروا دیں گے راویل سے! بابا میری کسی خواہش کو کبھی ’نہ‘ نہیں کہتے۔
“
آیات نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ لاڈ سے کہا، ”ہاں بھائی، صحیح ہے تمہارا! ساری پابندیاں تو بس ہم پر ہی ہیں۔ اچھا ہے، کرو محبت!“
ہانیہ ہنستے ہوئے پیچھے ہٹی، ”ہاں چلو، اب میں جاتی ہوں، مجھے کل کے لیے بہت ساری تیاریاں بھی کرنی ہیں۔“ اور وہ کمرے
سے باہر بھاگ گئی۔
اگلے دن، گھر میں رونق کا ماحول تھا۔ راویل اور پھوپھو جرمنی سے طویل سفر کے بعد گھر پہنچ چکے تھے اور دونوں ڈرائنگ روم میں صوفے پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ اسی دوران ہانیہ سیڑھیوں سے اتر کر نیچے آئی۔ اس نے ہلکے گلابی رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے چہرے پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ تھی۔
نیچے آتے ہی اس نے سب سے پہلے پھوپھو کے پاس جا کر انہیں محبت سے سلام کیا، "السلام علیکم پھوپھو! کیسی ہیں آپ؟ اور کیسا رہا آپ کا سفر؟"
پھوپھو نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار کیا اور بولیں، "وعلیکم السلام میری جان! میں بالکل ٹھیک ہوں۔ سفر تو اچھا رہا، بس تھوڑی تھکن ہو گئی ہے۔ لیکن تم بتاؤ، تم کیسی ہو؟ ماشاءاللہ اب تو پہلے سے بھی زیادہ پیاری لگ رہی ہو۔"
ہانیہ شرما کر مسکرا دی، "میں بالکل ٹھیک ہوں پھوپھو۔"
اسی دوران صوفے پر بیٹھے راویل نے ہانیہ کو چھیڑتے ہوئے کہا، "ہاں پھوپھو! یہ تو بالکل ٹھیک ہے، لیکن جرمنی کی سردی سے سیدھے یہاں آ کر مجھے تو لگتا ہے جیسے میں کسی تندور میں آ گیا ہوں۔ اور اوپر سے یہاں آتے ہی کوئی مجھ سے تو سلام دعا بھی نہیں کر رہا۔"
ہانیہ نے راویل کی طرف دیکھا اور مصنوعی غصے سے منہ بنا کر کہا، "اوہو! آپ بھی آ گئے؟ مجھے تو لگا تھا آپ جرمنی ہی بس گئے ہیں۔"
راویل ہنس پڑا اور بولا، "لو بھلا! اپنے ہی گھر آنے پر یہ استقبال ہو رہا ہے؟"
کچھ دیر سب نے بیٹھ کر خوش گپیوں میں وقت گزارا، جس کے بعد راویل اور ہانیہ دونوں باتیں کرتے ہوئے باہر لان (گارڈن) میں آ گئے۔ دھوپ ہلکی ہو چکی تھی اور شام کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
راویل نے گارڈن کی بینچ پر بیٹھتے ہوئے ہانیہ کی طرف دیکھا، جو کچھ خاموش سی تھی۔ اس نے بات شروع کرتے ہوئے کہا، "طوبہ! میں کب سے دیکھ رہا ہوں، آپ مجھ سے کچھ ناراض لگ رہی ہو؟ کیا بات ہے؟"
ہانیہ نے فوراً چونک کر اسے دیکھا اور پیر پٹختے ہوئے بولی، "پھر سے طوبہ! میں نے آپ کو کتنی بار کہا ہے کہ میرا نام ہانیہ ہے، طوبہ نہیں! اب میں بڑی ہو گئی ہوں، مجھے اس نام سے مت بلایا کریں۔"
راویل کے لبوں پر ایک گہری مسکراہٹ ابھری۔ اس نے نرمی سے کہا، "وہ تو دنیا کے لیے تم ہانیہ ہو گی طوبہ، پر میرے لیے تو تم وہی طوبہ ہو جو بچپن میں تھی... جسے انڈا برگر کے ساتھ بلیک کافی پسند تھی۔"
ہانیہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، اس کا غصہ جیسے ایک دم غائب ہو گیا۔ اس نے مسکرا کر پوچھا، "آپ کو یہ بات ابھی بھی یاد ہے؟ سیریسلی؟"
راویل نے اس کی طرف دیکھ کر دھیمے لہجے میں کہا، "کچھ باتیں بھولنے کی نہیں ہوتیں طوبہ۔"
ہانیہ نے شرماتے ہوئے بات کا رخ بدلا، "اچھا یہ سب چھوڑیے! یہ بتائیے کہ آپ میرے لیے جرمنی سے کیا لائے ہو؟"
راویل نے جان بوجھ کر سنجیدہ شکل بناتے ہوئے کہا، "کچھ لانا تھا کیا مجھے؟"
ہانیہ کا منہ لٹک گیا، "میرا مطلب... کوئی تحفہ (گفٹ) نہیں لائے آپ میرے لیے؟ اتنے سالوں بعد آ رہے ہیں!"
راویل نے شرارت چھپاتے ہوئے مذاق کیا، "مجھے ضروری نہیں لگا کوئی تحفہ لانا۔ میں تو بس خود ہی آ گیا۔"
یہ سنتے ہی ہانیہ کا موڈ بالکل خراب ہو گیا۔ اس نے غصے سے راویل کو دیکھا، "آپ بالکل نہیں بدلے، آج بھی ویسے ہی کنجوس ہیں!" اور وہ ناراض ہو کر پیر پٹختی ہوئی تیز قدموں سے واپس گھر کے اندر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
راویل اسے جاتے ہوئے دیکھ کر ہنسنے لگا۔ ابھی ہانیہ اندر گئی ہی تھی کہ اچانک مین گیٹ سے آیات کی کار گھر کے احاطے میں داخل ہوئی۔ آیات نے کار پارک کی اور جیسے ہی وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی اور گھر کے اندر جانے لگی، گارڈن سے راویل نے اسے اونچی آواز میں پکارا:
"اوئے مس CEO! بہت بزی ہو شاید، جو مجھے دیکھے بغیر ہی اندر جا رہی تھیں آپ؟"
آیات نے چونک کر گارڈن کی طرف دیکھا، جہاں راویل کھڑا مسکرا رہا تھا۔ آیات کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ وہ اس کی طرف بڑھی اور بولی، "نہیں۔۔۔ بس میرا دھیان نہیں گیا تھا، ویسے السلام علیکم! کافی بدل گئے ہو تم، اس لیے ایک دم پہچان نہیں پائی۔"
راویل نے جواب دیا، "وعلیکم السلام! ہاں، وقت کے ساتھ سبھی بدل جاتے ہیں۔"
آیات نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا، "اور تم ہانیہ سے ملے؟ وہ تو تمہارے آنے کی خبر سن کر بہت خوش تھی۔"
راویل نے ایک گہری سانس لی اور مسکرا کر بولا، "سچ میں؟ اور اب وہ مجھ سے سخت ناراض ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی ہے۔"
آیات نے حیرت سے پوچھا، "کیوں؟ کیا ہوا؟ تم نے کچھ کہا کیا اس سے؟"
راویل نے ہنستے ہوئے بتایا، "نہیں، وہ مجھ سے کہہ رہی تھی کہ میرے لیے کیا تحفہ لائے ہو؟ میں نے بس مذاق میں کہہ دیا کہ کچھ نہیں لایا، تو وہ ناراض ہو کر چلی گئی۔"
یہ سن کر آیات نے اپنا سر پکڑ لیا اور زور سے ہنستے ہوئے بولی، "کیا؟ تم سچ میں اس کے لیے کچھ نہیں لائے؟ مطلب تمہار موت پکی ہے اب! راویل، تم تو اسے جانتے ہو وہ کتنی ضدی ہے اور اسے بات بات پر ناراض ہونے کی عادت ہے۔ تم تو گئے بیٹا اب!"
راویل نے مسکرا کر اپنے کوٹ کی جیب پر ہاتھ رکھا اور بولا، "مجھے پتا ہے اس کی عادتوں کا، میں تو بس اس سے مذاق کر رہا تھا کہ میں کچھ نہیں لایا ہوں۔ میں بھلا میری طوبہ
کے لیے تحفہ لانا کیسے بھول سکتا ہوں؟"
گارڈن میں آیات اور راویل کی ہنسی کی آواز گونج رہی تھی۔ جب ہنسی تھمی تو راویل کے چہرے پر ایک سنجیدگی سی آ گئی۔ اس نے گارڈن کی بینچ پر بیٹھتے ہوئے آیات کی طرف دیکھا، جو اب بھی مسکرا رہی تھی۔
راویل نے بات کا رخ بدلتے ہوئے کہا، "آیات! مذاق سے ہٹ کر، میں نے سنا ہے کہ تم نے مامو کا بزنس بہت اچھے سے سنبھال لیا ہے۔ سچ میں، ایک کامیاب CEO بننا کوئی آسان کام نہیں ہے۔"
آیات نے ایک فخر سے بھری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، "بس راویل، بابا کی گائیڈنس اور میری تھوڑی سی محنت ہے۔ شروع میں مشکل تھا، پر اب عادت ہو گئی ہے۔ تم بتاؤ، جرمنی میں تمہاری پڑھائی اور بزنس ریسرچ کیسی چل رہی ہے؟ اور وہاں سے اچانک واپسی کا کوئی خاص سبب؟"
راویل نے ایک گہری سانس لی اور دور دیکھتے ہوئے بولا، "سچ کہوں تو آیات، میں وہاں صرف پڑھائی ختم کرنے نہیں گیا تھا، بلکہ میں کچھ بڑا پلان کر رہا ہوں۔ میں جرمنی سے ہمیشہ کے لیے واپس نہیں آیا ہوں، بلکہ وہاں ایک بہت بڑی انٹرنیشنل بزنس ڈیل چل رہی ہے۔ اور اسی سلسلے میں مجھے یہاں کچھ اہم کام کرنے ہیں۔"
آیات نے حیرت اور دلچسپی سے اس کی طرف دیکھا، "اچھا؟ کس طرح کی ڈیل؟"
راویل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، "ایک ایسا پروجیکٹ جس میں مجھے تمہاری اور مامو کی کمپنی کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔ اگر یہ ڈیل کامیاب ہو گئی، تو ہماری کمپنی انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایک الگ مقام بنا لے گی۔ میں نے اس کا پورا پلان تیار کیا ہے، کل آفس میں تمہیں اور مامو کو دکھاؤں گا۔"
آیات کے چہرے پر ایک پیشہ ورانہ چمک آ گئی، "یہ تو بہت بہترین بات ہے راویل! کل تم آفس آؤ، ہم اس پر تفصیل سے بات کریں گے۔ بابا بھی یہ سن کر بہت خوش ہوں گے۔"
پھر آیات نے ہنستے ہوئے راویل کے کندھے پر ہاتھ مارا، "لیکن بزنس کی باتیں کل آفس میں کریں گے، ابھی تمہارا سب سے بڑا ٹاسک اندر تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ جاؤ اور پہلے اپنی 'طوبہ' کا غصہ ٹھنڈا کرو، ورنہ رات کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوگا!"
راویل ہنس پڑا، "ہاں، یہ تو تم نے بالکل صحیح کہا۔"
آیات اندر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اور راویل سیدھا کچن کا رخ کرتا ہے۔ کچن میں جا کر وہ ملازمین کو باہر بھیج دیتا ہے اور خود کام پر لگ جاتا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہ اپنے ہاتھوں سے ایک بہترین انڈا برگر اور کڑک بلیک کافی تیار کرتا ہے، جس کی خوشبو پورے کچن میں پھیل جاتی ہے۔ وہ اس ناشتے کو ایک خوبصورت ٹرے میں سجاتا ہے اور ساتھ ہی اپنے کوٹ کی جیب سے ایک مخملی چھوٹا سا ڈبہ (گفٹ باکس) نکال کر ٹرے کے ایک کونے میں رکھ دیتا ہے۔
راویل ٹرے لے کر ہانیہ کے کمرے کے باہر پہنچتا ہے اور اپنے پیر سے دروازے کو ہلکا سا کھٹکھٹاتا ہے۔
کمرے کے اندر سے ہانیہ کی غصے بھری آواز آتی ہے، "کون ہے؟ مجھے کسی سے بات نہیں کرنی!"
راویل نے باہر سے ہی اونچی آواز میں کہا، "طوبہ! دروازہ کھولو، دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں۔"
ہانیہ نے اندر سے ہی چللا کر کہا، "میں نے کہا نا میرا نام ہانیہ ہے! اور مجھے آپ کا کوئی گفٹ نہیں چاہیے، جائیے یہاں سے!"
راویل نے مسکرا کر کہا، "اچھا بابا، ہانیہ! کم از کم دروازہ کھول کر یہ تو دیکھ لو کہ میں نے خود اپنے ہاتھوں سے کچن میں جا کر کیا بنایا ہے۔ اگر تم نے پانچ منٹ میں دروازہ نہیں کھولا، تو یہ گرم گرم انڈا برگر اور بلیک کافی میں اکیلے ہی کھا جاؤں گا۔"
'انڈا برگر اور بلیک کافی' کا نام سنتے ہی ہانیہ کے پیروں نے جیسے خود بخود دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ اس نے جھٹکے سے دروازہ کھولا، اس کے چہرے پر اب بھی مصنوعی غصہ تھا، لیکن اس کی نظریں سیدھی ٹرے پر جمی ہوئی تھیں۔
راویل نے مسکرا کر ٹرے اس کے سامنے کی، "اب کیا اپنی پسندیدہ چیز کو بھی منع کر دو گی؟"
ہانیہ نے برگر کی خوشبو سونگھی، اس کے منہ میں پانی آ گیا تھا۔ اس نے راویل کے ہاتھ سے ٹرے لی اور کمرے کے اندر میز پر رکھ دی، لیکن منہ پھیر کر بولی، "کھانے کی چیز لانے سے گفٹ کی کمی پوری نہیں ہوتی، راویل!"
راویل ہنستے ہوئے کمرے کے اندر آیا اور ٹرے کے پاس رکھا وہ مخملی ڈبہ اٹھا کر ہانیہ کے سامنے کر دیا۔ اس نے ڈبہ کھولا، تو اندر ایک نہایت ہی خوبصورت اور چمکدار بریسلیٹ (Bracelet) تھا، جس پر بہت ہی نفاست سے 'T' (طوبہ) کا حرف بنا ہوا تھا۔
ہانیہ کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں اور اس کے چہرے کا سارا غصہ ایک پل میں غائب ہو گیا۔ اس نے بریسلیٹ کو ہاتھ میں لیا اور خوشی سے اچھل پڑی، "واؤ! یہ تو بہت خوبصورت ہے! سچ میں آپ یہ میرے لیے لائے ہیں؟"
راویل نے اس کے سر پر محبت سے ہاتھ رکھا اور دھیمے لہجے میں بولا، "میں بھلا میری طوبہ کے لیے تحفہ لانا کیسے بھول سکتا ہوں؟ میں تو بس تمہارا وہ پرانا والا غصہ دیکھنا چاہ رہا تھا۔"
ہانیہ نے شرما کر مسکراتے ہوئے بریسلیٹ اپنے ہاتھ میں پہن لیا اور بولی، "آپ بہت برے ہیں راویل ، ہمیشہ مجھے رلاتے ہیں!" اور پھر وہ
دونوں ہنستے ہوئے برگر کھانے لگے۔