منظر ۔
آیت نے دھیرے سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر مبشرہ پر پڑی، جو پلنگ پر بیٹھی بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی اور چہرے پر فکر کے ساتھ ساتھ تھوڑا غصہ بھی تھا۔ آیت کو دیکھتے ہی مبشرہ نے گہری سانس لی اور شکایتی لہجے میں بولی
"آیت! بہت دیر کردی آج تم نے آنے میں؟ کم سے کم ایک کال تو کر دیتی! کہاں تھیں تم اتنی دیر سے؟ میں یہاں کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں!"
آیت نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور مسکراتی ہوئی مبشرہ کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی اور سکون تھا۔
"مبشرہ، میں تمہیں سب بتانے ہی والی تھی اور تم نے خود ہی پوچھ لیا!" آیت نے اس کے دونوں ہاتھ تھامے اور چہکتے ہوئے کہنا شروع کیا، "پتا ہے آج کیا ہوا؟ میں لائبریری میں بیٹھی ہوئی تھی، تبھی وہاں ایک مسافر آیا۔ وہ بالکل میرے سامنے والی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا۔"
مبشرہ نے حیرت سے اپنی بھویں اٹھائیں، "مسافر؟ لائبریری میں؟"
"ہاں! اور کوئی عام مسافر نہیں،" آیت کی آنکھیں چمک اٹھیں، "پتا ہے، اس نے پورے 70 ملکوں کا سفر کیا ہوا ہے! ہماری تھوڑی دیر بات ہوئی، اور پھر اس نے مجھ سے اتنے اچھے اور تمیز سے کافی کے لیے پوچھا کہ میں چاہ کر بھی منع نہیں کر پاتی۔ پھر ہم لائبریری کے پاس والے کیفے میں گئے۔"
مبشرہ اب بالکل سیدھی ہوکر بیٹھ گئی، اس کی حیرت بڑھتی جا رہی تھی، "اچھا؟ پھر کیا ہوا؟"
"پھر ہم نے وہاں ڈھیروں باتیں کیے۔ اس کا نام شاہ میر ہے۔ اور سب سے عجیب بات پتا ہے کیا ہے، مبشرہ؟" آیت کا لہجہ تھوڑا سنجیدہ اور نرم ہو گیا، "میں نے شاہ میر کو اپنے بارے میں، اپنی زندگی کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔
تم تو جانتی ہو نا، میں نے تمہارے علاوہ آج تک کبھی کسی سے بھی اپنے یا اپنے گھر والوں کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کی۔ پر جب شاہ میر نے مجھ سے پوچھا، تو پتا نہیں کیسے میرے دل کا ہر راز میری زبان پر آگیا۔ میں خود کو روک ہی نہیں پائی۔"
مبشرہ نے مسکرا کر آیت کو دیکھا، لیکن پھر چھیڑتے ہوئے بولی، "ہمم، تو یہ شاہ میر صاحب کوئی جادوگر ہیں کیا؟ جو ہماری خاموش رہنے والی آیت کا دل ایک ہی ملاقات میں جیت گئے؟"
"جادوگر نہیں، وہ ایک ٹریول ولاگر ہیں!" آیت نے حسین مسکراہٹ کے ساتھ خلاصہ کیا، "اور ان کے 956 ملین فینز ہیں! اتنے بڑے ولاگر ہونے کے بعد بھی ان میں بالکل گھمنڈ نہیں ہے۔"
آیت ایک ہی سانس میں شاہ میر کی ساری باتیں بتاتی جا رہی تھی، اور مبشرہ چپ چاپ اپنی دوست کے چہرے کی وہ چمک دیکھ رہی تھی، جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
آیت کے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ ابھر آئی، وہ کچھ لمحے کے لیے جیسے اسی شام کے سحر میں کھو سی گئی اور پھر مبشرہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی:
"پتا ہے مبشرہ! اس انسان میں ایک عجیب سی کشش ہے، ایک ایسا جادو جو لوگوں کو خود بخود اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ایسے ہی نہیں کسی کے 956 ملین فینز بن جاتے۔"
مبشرہ نے گہری دلچسپی سے آیت کی طرف دیکھا، جبکہ آیت اپنی بات جاری رکھتے ہوئے آگے بولی:
"اور ہاں! جب ہم وہاں آئس کریم کھا رہے تھے، تب وہاں ایک لڑکی آئی۔ اس نے شاہ میر کو پہچان لیا اور ان کے ساتھ فوٹو بھی لی۔
وہ شاہ میر سے مل کر اتنی زیادہ خوش نظر آ رہی تھی کہ میں خود کو روک نہ سکی اور شاہ میر سے کہنے لگی کہ ’کیسے کوئی لڑکی کسی اجنبی کے ساتھ اتنی ہنس ہنس کر باتیں کر سکتی ہے؟‘"
یہ کہتے ہی آیت نے ایک ہلکی سی شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنا سر جھکا لیا اور اس کا لہجہ دھیما ہو گیا۔
"پر مبشرہ... اس وقت میں تو جیسے بالکل بھول ہی گئی تھی کہ میں خود بھی تو شاہ میر سے پہلی بار ہی ملی تھی۔ میں جو کبھی کسی اجنبی سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتی، آج اسی اجنبی کے سامنے اپنے دل کی ساری باتیں کھول کر بیٹھی ہوئی تھی۔"
مبشرہ آیت کی یہ باتیں سن کر دنگ رہ گئی، کیونکہ وہ اپنی اس سنجیدہ اور خاموش دوست کے مزاج کو بہت اچھے سے جانتی تھی۔
آیت کی بات سن کر مبشرہ کے چہرے پر ایک معنی خیز اور شریر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے گہری سانس لی، اپنے ہاتھ سینے پر باندھے اور شرارت سے اپنی آنکھیں سکیڑتے ہوئے بولی
"اوہو! تو یہ بات ہے! ہماری محترمہ آیت صاحبہ، جو دنیا کے ہر لڑکے کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتی ہیں، وہ آج خود ایک اجنبی کے جادو کے اثر میں آ چکی ہیں! مانا کہ وہ کوئی بہت بڑے ولاگر ہیں آیت، لیکن تم نے جس طرح اپنی پوری لائف ہسٹری ان کے سامنے کھول کر رکھ دی، مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ یہ میری وہی پرانی شرمیلی دوست ہے۔"
مبشرہ نے آیت کے کندھے پر ہلکا سا ہاتھ مارا اور ہنستے ہوئے آگے کہا
"چلو، خیر! کم سے کم اس شاہ میر صاحب نے ہماری آیت کے چہرے پر اتنی پیاری رونق تو لائی۔ ویسے مجھے بھی کسی دن ملوانا اپنے اس ’حسین اور باکمال‘ مسافر سے!"
آیت نے شرما کر ایک تکیہ مبشرہ کی طرف اچھالا، "مبشرہ! تم بس شروع ہو جاتی ہو... ایسا کچھ بھی نہیں ہے، وہ بس بہت اچھے انسان ہیں۔"
"ہاں ہاں، میں سب سمجھتی ہوں!" مبشرہ نے ہنستے ہوئے اپنے بستر کا کمبل سیدھا کیا۔ "اب زیادہ مت سوچو اور لائٹس آف کرو۔ بہت رات ہو چکی ہے، کل صبح کالج بھی جانا ہے۔"
آیت نے مسکرا کر سر ہلایا اور اٹھ کر کمرے کی لائٹ بند کر دی۔ پورے کمرے میں اندھیرا چھا گیا، بس کھڑکی سے چاند کی ہلکی سی روشنی اندر آ رہی تھی۔ دونوں اپنے اپنے بستر پر لیٹ گئیں۔
آیت نے کمبل اوڑھ کر اپنی آنکھیں بند کیں، تو اس کے ذہن میں ایک بار پھر شاہ میر کا ہنستا ہوا چہرہ اور کیفے کی وہ باتیں گھوم گئیں۔ اسی خوبصورت احساس اور ایک نئی دنیا کے خوابوں کے ساتھ،
کچھ ہی دیر میں دونوں گہری اور پرسکون نیند سو گئیں۔