منظر ۔
اگلی صبح، جب سنہری دھوپ ہاسٹل کی خوبصورت بالکونی پر گری، تو آیات کی آنکھ کھلی۔ اس نے بستر سے اٹھتے ہوئے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس انجان شہر میں اسے کوئی ایسا شخص ملے گا جو اس کے اس ادھورے سفر کو اتنا دلچسپ اور یادگار بنا دے گا۔ وہ تیار ہو کر جیسے ہی ناشتے کے لیے ہاسٹل کے کامن ایریا (Common Area) میں پہنچی، وہاں کا منظر دیکھ کر اس کے قدم وہیں جم گئے۔
شاہ میر وہاں پہلے سے موجود تھا۔ وہ اپنے لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جھکا ہوا کسی گہری سوچ میں تھا، شاید کل کی ویڈیو ایڈٹ کر رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی آیات کو آتے دیکھا، ایک گہری اور دلکش مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
"صبح بخیر! لگتا ہے آج آپ نے میرے فینز سے پہلے ہی یہاں قبضہ جما لیا ہے،" شاہ میر نے مذاق کرتے ہوئے کہا۔
آیات نے سامنے رکھی کرسی کھینچی اور اس کے روبرو بیٹھتے ہوئے بولی: "فینز کا تو پتہ نہیں، لیکن اس ہاسٹل کا ناشتہ ٹھنڈا ہونے سے پہلے میں یہاں پہنچنا چاہتی تھی۔ ویسے... آپ کا کام کیسا چل رہا ہے؟ کیا میری آواز ولاگ کی ویڈیو میں فٹ بیٹھ رہی ہے؟"
شاہ میر نے اپنا لیپ ٹاپ گھما کر اس کا رخ آیات کی طرف کیا۔
"وہی دیکھ رہا تھا۔ سچ کہوں تو، آپ کی آواز نے ان مناظر میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔ لیکن... بس ایک کمی ہے..."
آیات نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ "کیا کمی؟"
"اس ویڈیو کا اختتام (Ending)"۔ شاہ میر نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا، "میں چاہتا ہوں کہ ہم کہیں ایسی جگہ جائیں جہاں سے پورا شہر دکھائی دیتا ہو، جہاں بلندی ہو، اور وہاں ہم اس سفر کو مکمل کریں۔ کیا آپ میرے ساتھ چلیں گی؟"
آیات نے ایک پل کے لیے سوچا۔ اس کے دماغ میں اپنے گھر والوں کی سختی ... مگر پھر، جب اس نے سامنے بیٹھے شاہ میر کی پرامید اور مخلص آنکھوں میں دیکھا، تو سارے خوف پگھل گئے۔
"ٹھیک ہے،" آیات نے دھیمے سے کہا، "لیکن ایک شرط پر... راستے میں ہم کہیں نہیں رکیں گے، اور اگر کوئی نیا 'فین گروپ' ملا، تو میں وہاں سے بھاگ جاؤں گی!"
شاہ میر اس معصومانہ شرط پر کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ "منظور ہے! تو پھر تیار ہو جائیے، آج کا دن ہماری اس کہانی 'سفرِ رایگاں' کا سب سے حسین اور یادگارد
ن ہونے والا ہے۔"
دونوں نے شہر کی سب سے اونچی اور پروقار پہاڑی کی طرف رختِ سفر باندھا۔ راستہ کٹھن، پتھریلا اور بل کھاتا ہوا تھا، لیکن جیسے جیسے وہ بلندی کی طرف بڑھ رہے تھے، وادی کی سرد، سوندھی ہوا اور چاروں طرف پھیلی ہریالی ان کے وجود سے ہر قسم کی تھکن کو یوں نچوڑ رہی تھی جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں۔
جب وہ ہانپتے ہوئے چوٹی (Peak) پر پہنچے، تو ایک سحر انگیز منظر ان کا منتظر تھا۔ پورا شہر نیچے کسی چھوٹے، رنگ برنگے کھلونے کی مانند بکھرا ہوا دکھائی دے رہا تھا، جس پر بادلوں کے سائے تیر رہے تھے۔
شاہ میر نے مسحور کن خاموشی کے ساتھ اپنا کیمرہ اسٹینڈ پر نصب کیا اور کچھ کہے بغیر دور پھیلے اس منظر کو اپنے اندر اتارنے لگا۔ آیات بھی اس پرسکون ماحول کے سحر میں گرفتار، پاس ہی ایک ہموار پتھر پر بیٹھ گئی۔
"پتہ ہے شاہ میر..." آیات نے اپنی نظریں دور افق پر جمائے رکھیں، جہاں آسمان اور زمین گلے مل رہے تھے، "میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میرے اس 'سفرِ رایگاں' میں کوئی ایسا موڑ بھی آئے گا، جہاں مجھے کوئی اس طرح سمجھنے والا ملے گا۔
میرے گھر میں... وہاں سب صرف پڑھائی، نمبروں اور ایک محفوظ کیریئر کی زبان سمجھتے ہیں۔ لیکن میرے الفاظ؟ انہیں وہ ہمیشہ فضول اور وقت کا زیاں سمجھتے ہیں۔"
شاہ میر نے کیمرے کے لینس سے اپنی نظر ہٹائی اور مڑ کر آیات کو دیکھا۔ اس کے روایتی شوخ چہرے پر اس بار کوئی شرارت نہیں تھی، بلکہ ایک عمیق سنجیدگی اور احترام کا
تاثر تھا۔