منظر۔
شاہ میر نے کیمرے کے لینس سے اپنی نظر ہٹائی اور مڑ کر آیات کو دیکھا۔ اس کے روایتی شوخ چہرے پر اس بار کوئی شرارت نہیں تھی، بلکہ ایک عمیق سنجیدگی اور احترام کا تاثر تھا۔
"الفاظ کبھی فضول نہیں ہوتے، آیات۔" اس کا لہجہ دھیما مگر وزنی تھا، "وہ تو ہماری روح کی سچی آواز ہوتے ہیں۔ میرے گھر کا ماحول بھی مختلف نہیں تھا۔ وہ سب یہی چاہتے تھے کہ میں بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح کوئی بڑا سرکاری افسر بنوں، ایک رعب دار زندگی گزاروں۔ لیکن مجھے راستوں سے عشق تھا، مجھے آوارہ بادلوں اور ان کہے مناظر کو قید کرنا تھا۔
میں نے لوگوں کی مصلحت آمیز باتیں ضرور سنیں، مگر فیصلہ اپنے دل کا کیا۔ اور آج دیکھو، میں وہی کر رہا ہوں جو میری روح کو قرار دیتا ہے۔"
آیات نے حیرت اور ستائش کے ملے جلے جذبات سے اسے دیکھا۔ "اس کا مطلب ہے، آپ نے بھی اپنے خوابوں کے لیے ایک طویل لڑائی لڑی ہے؟"
"لڑائی نہیں..." شاہ میر کے لبوں پر ایک دلنشین مسکراہٹ ابھری، "بس صبر کیا۔ اور صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے، بالکل اس منظر کی طرح جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔"
اس لمحے ان دونوں کے درمیان پھیلی خاموشی کسی لفظ کی محتاج نہیں تھی۔ ان کے درمیان ایک ان کہی، مضبوط دوستی کی دیوار کھڑی ہو رہی تھی، جس کی بنیادیں بہت گہری تھیں۔ شاہ میر نے آہستہ سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور آیات کی گود میں رکھی اس کی مانوس ڈائری کے پندار صفحوں کی طرف اشارہ کیا۔
"کیا میں آپ کی اس ڈائری کا ایک پنہ پڑھ سکتا ہوں؟" اس کی آواز میں ایک التجا تھی، "میں دل سے چاہتا ہوں کہ میری اس ولاگ ویڈیو کا اختتام (Ending) آپ کی زندگی کی سب سے بہترین تحریر کے ساتھ ہو۔"
آیات نے لمحے بھر کے لیے ہچکچاہٹ محسوس کی، اس کی انگلیاں ڈائری کے کناروں پر لرزیں، مگر پھر اس نے آہستہ سے ڈائری کھولی اور ایک صفحہ پلٹ دیا۔ اس نے وہ الفاظ دھیمی آواز میں پڑھنا شروع کیے جو اس نے کل رات ہاسٹل کے کمرے کی تنہائی میں، اپنے دل کے ابلتے ہوئے جذبات کو سمیٹتے ہوئے لکھے تھے۔
جیسے جیسے وہ پڑھتی جا رہی تھی، شاہ میر کا کیمرہ ولاگ کے لیے صرف سامنے پھیلے قدرتی منظر کو ہی نہیں، بلکہ آیات کے چہرے پر ابھرتے اور بدلتے ہوئے حقیقی تاثرات، اس کی آنکھوں کی چمک اور اس کے لہجے کے اتار چڑھاؤ کو بھی اپنے اندر قید کر رہا تھا۔
جب وہ آخری سطر پڑھ کر خاموش ہوئی، تو پہاڑی کی اس چوٹی پر جیسے وقت تھم گیا۔ ایک مکمل، سحر انگیز خاموشی چھا گئی۔
"بے مثال..." شاہ میر کے منہ سے بس یہی ایک لفظ نکل سکا۔ اس نے گہرے تاثر سے کہا، "آیات، آپ صرف ایک لکھاری نہیں ہیں، آپ ایک جادوگر ہیں جو بے جان الفاظ سے جیتی جاگتی تصویریں بنا دیتی ہیں۔"
آیات کے گورے چہرے پر ایک حیا بھری، سرخ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ کسی نامحرم، کسی انجان شخص کے سامنے اپنے اندر کے فن کو اس طرح کھول کر رکھ رہی تھی۔ یہ سفر اب محض کسی ولاگ کی شوٹنگ یا سیر و تفریح تک محدود نہیں رہا تھا، بلکہ دو مختلف سمتوں سے آنے والے دلوں کے درمیان ایک گہرا، ان دیکھا رشتہ بنتا جا رہا تھا۔
شاہ میر نے ابھی ابھی اپنے کیمرے کا سوئچ بند ہی کیا تھا کہ اچانک اس کے ہینڈ سیٹ کی تیز گھنٹی بجنے لگی۔ اسکرین پر زائد کا نام چمک رہا تھا.
شاہ میر نے گہری سانس لیتے ہوئے فون اٹھایا اور کال ریسیو کی۔
”ہاں زائد! تم، صابر اور فارس کشمیر آنے والے تھے نا؟ کیا ہوا، کہاں رہ گئے تم لوگ؟“ شاہ میر نے موبائل کان سے لگاتے ہوئے پوچھا۔
دوسری طرف سے زائد کی پریشان کن آواز ابھری، ”یار شاہ میر! معذرت، لیکن کیا بتائیں… ہم نکل ہی رہے تھے کہ اچانک ہسپتال میں ایک ایمرجنسی کیس آ گیا۔ اس لیے مجھے اور فارس کو فوراً واپس ہسپتال جانا پڑا۔ سفر کا سارا پلان فی الحال ملتوی کرنا پڑا۔“
”اوہ، میں سمجھ سکتا ہوں۔ ڈاکٹر کی زندگی میں ایمرجنسی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا،“ شاہ میر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
ابھی ان کی بات چیت جاری ہی تھی کہ پاس کھڑی آیات دم بخود ہو کر بول پڑی، ”کیا… کوں ہے کل پر ؟“
آیات کی آواز موبائل کے سپیکر سے زائد کے کانوں تک پہنچی تو وہ چونک گیا۔ ”شاہ میر! یہ کون لڑکی ہے تمہارے ساتھ؟“ زائد نے تجسس سے پوچھا۔
شاہ میر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، ”ہے کوئی… اگر تم لوگ آتے تو خود ہی مل لیتے۔“
”اچھا جی! یعنی کچھ خاص بات ہے۔ چلو، ہسپتال کے معاملات نپٹا کر بات کرتا ہوں۔ اپنا خیال رکھنا،“ زائد نے یہ کہہ کر کال کاٹ دی۔
کال ڈسکنیکٹ ہوتے ہی آیات نے الجھے ہوئے انداز میں شاہ میر کی طرف دیکھا اور پوچھا، ”یہ زائد کون ہیں؟“
”زائد میرا بہت اچھا اور گہرا دوست ہے، اور ہم دونوں ایک ہی ہسپتال میں کام کرتے ہیں،“ شاہ میر نے کیمرہ سائیڈ پر رکھتے ہوئے آرام سے بتایا۔
آیات نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔ ”ہسپتال؟ کیوں… مطلب میں سمجھی نہیں۔ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟“
شاہ میر نے اس کی معصومیت پر مسکراتے ہوئے کہا، ”سادہ لفظوں میں… میں ایک ڈاکٹر بھی ہوں۔“
آیات بالکل حیران رہ گئی۔ ”آپ ڈاکٹر ہیں؟! آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ آپ اتنے بڑے ڈاکٹر ہیں؟“
شاہ میر کی آنکھوں میں ایک خاص نرمی آ گئی۔ اس نے مدہم آواز میں کہا، ”آیات! میں جب سفر پر ہوتا ہوں نا، تو بس ایک عام مسافر ہوتا ہوں۔ ہاں، اگر کہیں لگے کہ کسی کو میری بطورِ ڈاکٹر ضرورت ہے، تو ان کی مدد کر دیتا ہوں… بس اتنی سی بات ہے۔“
آیات کچھ پل کے لیے بالکل خاموش ہو کر شاہ میر کو دیکھتی رہ گئی۔ اس کے دل میں شاہ میر کے لیے احترام اور محبت مزید بڑھ گئی۔
وہ آہستہ سے بولی، ”میں نے اپنی پوری زندگی میں آپ جیسا انسان نہیں دیکھا شاہ میر… جو ایک کامیاب ڈاکٹر بھی ہے، ایک بے باک مسافر بھی، جس نے ستر (70) ملک گھوم رکھے ہیں اور جس کی اتنی بڑی فین فالوئنگ ہے… پھر بھی اتنی سادگی!
آیات نے دور افق پر ڈھلتے ہوئے سورج کی آخری، نارنجی اور سنہری کرنوں کو دیکھتے ہوئے ایک گہرا اور طویل سانس لیا۔
اس کے دل کے کسی نہاں خانے میں ایک سوال کافی دیر سے تھرک رہا تھا، مچل رہا تھا۔ وہ کئی بار پوچھنے کی کوشش کر چکی تھی، مگر الفاظ جیسے اس کے ہونٹوں تک آتے آتے دم توڑ دیتے تھے، حیا آڑے آ جاتی تھی۔
لیکن اس بار، اس پرسکون شام کے سحر میں، اس نے اپنی تمام تر ہمت مجتمع کی اور تھوڑی سی جھجھک اور لرزتے ہوئے لہجے کے ساتھ شاہ میر کی طرف دیکھا۔
"شاہ میر۔۔۔ کیا میں آپ سے ایک ذاتی سوال پوچھ سکتی ہوں؟"
شاہ میر، جو نہایت توجہ سے اپنے کیمرے کا قیمتی لینس صاف کر رہا تھا، نے آہستہ سے اپنا سر اٹھایا۔ اس کی گہری اور مخلص آنکھوں میں ایک شناسا مسکراہٹ ابھری۔
"بالکل، آیات جی! پوچھیے۔ آج کے دن تو آپ کو مجھ سے کسی بات کی اجازت لینے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔"
آیات نے یکدم اپنی نظریں چرائیں اور نیچے پتھریلی زمین کو دیکھتے ہوئے دھیمے، مگر سنجیدہ لہجے میں بولی.
"آپ نے اپنی اس ولاگنگ کی زندگی میں تقریباً ستر (70) ملک گھومے ہیں، دنیا کا ایک بڑا حصہ دیکھا ہے۔ لاکھوں چہرے آپ کی نظروں کے سامنے سے گزرے ہوں گے۔ اتنے بڑے سفر میں، اتنے سالوں کی آوارہ گردی میں۔۔۔
کیا آپ کو کبھی کسی چہرے نے متاثر (Inspire) نہیں کیا؟ کیا کبھی کوئی ایسا شخص، کوئی ایسا ہم سفر نہیں ملا جس نے آپ کو اپنا یہ لامتناہی سفر روکنے پر مجبور کر دبا ہو؟"
آیات دراصل اس پردہ داری کے پیچھے اس کے دل کا حال جاننا چاہتی تھی۔ وہ یہ معلوم کرنے کے لیے بے چین تھی کہ کیا شاہ میر کو کبھی کسی سے سچی محبت ہوئی ہے، مگر اس کے روایتی رکھ رکھاؤ، شرم اور لحاظ نے اسے یہ سوال براہِ راست پوچھنے سے روک دیا تھا۔ اس نے بڑی خوبصورتی سے اپنے دلی جذبات کو 'سفر' اور 'چہروں' کے استعارے کے پردے میں لپیٹ کر پیش کیا تھا۔
شاہ میر نے یہ سن کر تھوڑی دیر کے لیے ایک گہری خاموشی اختیار کر لی۔ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا کیمرہ ایک طرف رکھا اور اپنی گہری، کھوجتی ہوئی نظروں سے آیات کے چہرے کو دیکھا، جیسے وہ اس کے معصومانہ سوال کے پیچھے چھپے اصل مقصد اور تڑپ کو پل بھر میں سمجھ گیا ہو۔
"چہرے تو بہت دیکھے آیات۔۔۔ حسین بھی، دلکش بھی، اور یاد رہ جانے والے بھی،" شاہ میر نے اپنے مخصوص، دھیمے اور سحر انگیز لہجے میں کہنا شروع کیا،
"لیکن سفر کا ایک کڑوا اصول ہے کہ اس میں اکثر لوگ ملتے ہیں اور پھر اپنے اپنے راستوں پر بچھڑ جاتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ راستوں سے عشق کیا ہے آیات، منزل سے نہیں۔ کیونکہ منزل پر پہنچتے ہی سفر کا سحر ختم ہو جاتا ہے۔"
کبھی کبھی منزل تک نہ پہنچنا ناکامی نہیں ہوتا،
بلکہ راستہ ہمیں وہ سبق دے جاتا ہے جو منزل بھی نہیں دے سکتی۔
اصل خسارہ سفرِ رائگاں نہیں۔۔۔
اصل خسارہ تو خود کو راستے میں کہیں کھو دینا ہوتا ہے
وہ لمحے بھر کے لیے رکا، پھر اس کے لبوں پر ایک شوخ اور معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ وہ تھوڑا سا آگے جھکا اور بولا
"لیکن۔۔۔ کبھی کبھی اس آوارہ گردی میں، زندگی کے سفر میں کچھ ایسے غیر متوقع موڑ آ جاتے ہیں، جہاں آگے بڑھتے ہوئے راستے اچانک بہت خوش نما، بہت اپنے لگنے لگتے ہیں۔ جہاں انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید۔۔۔ شاید اب رک جانا چاہیے۔ اب مزید بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے۔"
آیات نے محسوس کیا کہ یہ سنتے ہی اس کے دل کی دھڑکن یکدم تیز ہو گئی ہے، جیسے اس کے سینے میں کوئی طوفان بپا ہو۔ شاہ میر کی ان فلسفیانہ باتوں میں ایک بہت گہرا، ان دیکھا اشارہ تھا، جو سیدھا آیات کے دل کے بند دروازے پر دستک دے رہا تھا۔
"تو کیا۔۔۔ آپ کو وہ موڑ مل گیا؟" آیات نے اپنی کانپتی ہوئی، دبی دبی آواز میں پوچھا۔
شاہ میر نے اپنے ہاتھ سے اس دور دراز افق کی طرف اشارہ کیا جہاں سورج آہستہ آہستہ پہاڑیوں کی اوٹ میں ڈوب رہا تھا۔
"ابھی تو سفر جاری ہے آیات۔۔۔ مگر ہاں، اس بار کا یہ 'سفرِ رایگاں' پچھلے تمام سفروں سے بالکل الگ، بہت مختلف ہے۔ کیونکہ اس بار، ان راستوں اور الفاظ میں وہ جادو اور وہ سکون ہے جو پہلے کبھی کسی ملک، کسی وادی میں نہیں تھا۔"
آیات فوراً سمجھ گئی کہ شاہ میر اس وقت کسی اور کی نہیں، بلکہ اس کی اور اس کے لکھے ہوئے ان سچے الفاظ کی بات کر رہا ہے جنہوں نے اس مسافر کے دل کو موہ لیا تھا۔ دونوں کے بیچ کی خاموشی اب اور بھی گہری، پرسکون اور دلپذیر ہو گئی تھی، جہاں اب کسی تیسرے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
شاہ میر نے کچھ دیر تک خاموشی سے آیات کے چہرے پر آتے جاتے، بدلتے ہوئے انوکھے جذبات اور اس کی آنکھوں کی چمک کو دیکھا۔ پھر اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اپنی نشست پر تھوڑا سا آگے کو جھک گیا۔ اس کے لہجے میں اب وہی پرانی، دلکش شرارت واپس آ چکی تھی، مگر اس کی آنکھوں کی گہرائی میں ایک سنجیدہ سوال اب بھی برقرار تھا۔
"ویسے آیات۔۔۔ آپ نے مجھ سے تو پوچھ لیا کہ میں نے لاکھوں چہرے دیکھے، پر کیا آپ نے کبھی اپنے الفاظ کے آئینے میں کسی کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے؟" شاہ میر نے بہت دھیمے سے، اس کی روح کو چھوتے ہوئے پوچھا۔
آیات اس اچانک پلٹ کر آنے والے سوال پر تھوڑی ہڑبڑا گئی، اس کے گالوں پر حیا کی سرخی دوڑ گئی۔ "میرا مطلب۔۔۔ میں تو صرف لکھتی ہوں شاہ میر، میرا ان باتوں سے کیا تعلق۔"
"نہیں۔" شاہ میر نے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے بڑے مان سے کہا، "ایک لکھاری، ایک رائٹر تب تک اپنی تحریر میں اتنا درد، اتنی تڑپ اور اتنی گہرائی نہیں لا سکتا، جب تک اس نے خود اس آگ کو اپنے اندر محسوس نہ کیا ہو،
اس راستے کو خود نہ جیا ہو۔ آپ کی ڈائری کے وہ پنے۔۔۔ وہ 'سفرِ رایگاں' کا عنوان (Title)۔۔۔ یہ سب صرف کوئی فرضی خیال نہیں ہیں۔ کیا آپ کے اس حقیقی سفر میں اب تک کوئی ایسا شخص آیا ہے، جس نے آپ کی خاموش قلم کو روٹھنے، رونے یا مسکرانے پر مجبور کر دیا ہو؟"
آیات کی نظریں یکدم جھک گئیں۔ وہ سوال، جو اب تک وہ شاہ میر سے کر رہی تھی، اب ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن کر خود اسی کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ اپنے ہی الفاظ کے جال میں پھنس چکی تھی۔
"میں نے ہمیشہ اپنی تنہائی سے دوستی کی ہے شاہ میر،" آیات نے نہایت دھیمی، لرزتی ہوئی آواز میں اعتراف کیا، "میرے لیے محبت، قربت اور یہ سب جذبات صرف کتابوں کے فرضی کردار تھے، جنہیں پڑھ کر میں خوش ہو لیا کرتی تھی۔۔۔ جب تک میں نے حقیقت میں ان راستوں کو، اس دھول کو اڑتے اور ان مناظر کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا۔"
شاہ میر نے اس کے اس معصومانہ اور سچے اعتراف پر ایک دلنشین مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا اور کہا "تو اس کا مطلب ہے کہ اب تک آپ کا دل ایک بالکل خالی، سفید کتاب کی طرح تھا؟ مگر مجھے لگتا ہے کہ اس انوکھے سفر میں، اب اس کتاب کے کچھ نئے، خوبصورت اور یادگار باب (Chapters) لکھے جا رہے ہیں۔"
اب وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ پہاڑی کی ہوا اگرچہ بہت ٹھنڈی اور تیز تھی، مگر ان کے درمیان کے جذبات کی گرماہٹ اور قربت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ آیات کو شدت سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ شاہ میر صرف اس کے سوال کا جواب نہیں دے
رہا تھا، بلکہ وہ بہت خاموشی اور محبت سے اس کے دل کے آخری دروازے پر دستک دے رہا تھا، جسے اب کھولنا ہی تھا۔