Safar e Raigah

(19)
  • 96
  • 0
  • 19.5k

Safar e raigah sirf shahmeer ki nahi balke ayat ki bhi kahani hai ek ameer zadi jo apne baap ki nafrat se tang aa kash mekash ki zindagi chor deti hai aur kashmir ki khamosh wadiyon mein panah leti hai . Jab 70 mulk ghumne wala shahmeer sikander usse milta hai .ki asli sukoon kisi naye mulk me nahi balkay kisi ki sachi ankhon mein hota haiدروازے پر کھڑا ہے .اسکا دل اتنی زورو  سے دھڑک رہا ہے  کی اسے اپنی ہر دھڑکن اپنے کانوں میں محسوس ہو رہی ہے ۔اسنے دروازہ کھٹکھٹایا - صرف تین بار ۔۔دروازہ دھیرے س

1

Safar e Raigah - 1

Safar e raigah sirf shahmeer ki nahi balke ayat ki bhi kahani hai ek ameer zadi jo apne baap nafrat se tang aa kash mekash ki zindagi chor deti hai aur kashmir ki khamosh wadiyon mein panah leti hai . Jab 70 mulk ghumne wala shahmeer sikander usse milta hai .ki asli sukoon kisi naye mulk me nahi balkay kisi ki sachi ankhon mein hota haiدروازےپر کھڑا ہے .اسکا دل اتنی زورو سے دھڑک رہا ہے کی اسے اپنی ہر دھڑکن اپنے کانوں میں محسوس ہو رہی ہے ۔اسنے دروازہ کھٹکھٹایا - صرف تین بار ۔۔دروازہ دھیرے س ...Read More

2

Safar e Raigah - 2

.baab . 2 منظر ۔کمرے میں ایک ہلکی سی روشنی تھی اور باہر خاموشی کا راج ۔میز پر چای اب تھندھی ہو چکی تھی ۔مگر اُسکا دھواں ابھی بھی یادو کے طرح ہوا میںمعلق تھا میرے سامنے و پرانی ڈائری کھلی تھی وہی ڈائری جس کے ہر سہ فہے پر وقت کی دھول نے ایک نیا صفحہ لکھ دیا تھا ۔میںنے قلم اٹھایا پر میرے ہاتھ ٹھٹھک گئے ۔خود سے گفتگو کرنا ہمیشہ سے ہی مشکل رہا ہے ۔مگر آج یہ ڈائری مجھ سے سوال کر رہی تھی ۔ کیا تم تیّار ہو ؟ میرے اندر سے ایک آواز ...Read More

3

Safar e Raigah - 3

منظر ۔شهمیر نے ڈائری بند کی اور اس پر اپنا ہاتھ ہلکا سا ٹھپا ۔جیسے کسی پرانی دوست کو کر رہا ہو ۔اُس لمحے کی یاد نے اُسے کمزور نہیں بلکہ پُراُمّید کر دیاتھا ۔اس نے محسوس کیا کے یادوں کے بند کمرے میں رے کر انسان کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔اُسنے کُرسی پیچھے ہٹھائی اور کھڑکی کے پاس جاتا کر کھڑا ہو گیا ، باہر آسمان پر ہلکی ہلکی سپیڈی نمودار ہو رہی تھی فجر کا وقت قریب تھا ۔شهمیر نے اپنا پُرانا بیگ اٹھایا اور اُس میں صرف ضرورت کا سامان رکھا ۔ اُسنے ڈائری میز ...Read More

4

Safar e Raigah - 4

اُسنے آگے پڑھنا شروع کیا ۔۔۔۔۔۔۔بیٹا ، عثمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میںنے آیت کو کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کے میرزا اُسکا اصلی باپ نہیں ہے ۔پتہ نہیں کیوں پر ي سوچ کر بےچینی ہوتی ہے کے میرے بعد سلطان اور بیگم شاہانہ آیت کا دھیان رکھینگے یہ نہیں۔مجھے لگتا ہے میں اب اور زدہ دیں تک زندہ نہیں رہونگا میںنے اپنی ساری دولت آیت کے نام کی ہے۔تو سلطان ي برداشت نہیں کریگا تم تو اُسکا مزاج جانتے ہو ۔میں دعا کرونگا کے وہ آیت کے ساتھ بٹسالوکھی نہ کرےمیرے آنکھوں کی سامنے سے وہ منظر نہیں ہٹتا جب ...Read More

5

Safar e Raigah - 5

منظر۔رات کا اندھیرا گہرا ہوتا جا رہا تھا اور راستہ دشوارگزار. آیت کے ذہین میں ابھی بھی وہی باتے رہی تھی جو اسے گھر چھوڑ نے پر مجبور کر گئی تھی ۔اُسنے سوچا تھا کے راستے آسان ہونگے ۔ لیکن سرد ہواؤں نے اُسکے حوصلے ازمنہ شروع کر دیے تھے ۔تب ہی اُسنے دیکھا کے دور ایک پرانی مگر پرسکون عمارت کی روشنی چمک رہی ہے ۔ یہ ایک مُسافر خانہ تھا ۔ جب وہ تھکی حاری وہ پونچی ، تو کاؤنٹر پر ایک شخص کھڑی تھی جو کسی پرانی ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھی ۔اُسنے سر اٹھایا ...Read More

6

Safar e Raigah - 6

بابشاہمیر کی دنیا ہمیشہ سے ہی اس کے اسکول کی کتابوں اور پرانے نقشوں کے درمیان بسی تھی۔ جب میں استاد کہتے کہ "دنیا گول ہے"، تو باقی بچے اسے صرف ایک سبق سمجھ کر یاد کر لیتے، مگر چھوٹا شاہمیر گھنٹوں اسی سوچ میں ڈوبا رہتا۔’اگر دنیا گول ہے، تو پھر اس کے کونے کہاں ہوں گے؟ کیا وہاں کھڑے ہو کر نیچے جھانکا جا سکتا ہے؟‘ یہ سوال اسے بے چین رکھتا۔اس کا سب سے پسندیدہ مضمون جغرافیہ تھا۔ جب دوسرے بچے حدت اور بارش کے فارمولے یاد کرتے، شاہمیر نئے دیشوں کے کلچر اور وہاں کے ...Read More

7

Safar e Raigah - 7

منظر ۔اچھا تو تم ہسپتال تب سے جانے والے ہو تم بس ایک مُسافر ہی نہیں ڈاکٹر بھی ہو بھولو تم شامیر ۔ IPS"آرمان سکندر " نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ہا بھائی ! ڈاکٹر ننتو گیا ہو اب ذمےداری تو نبھانی پڑےگی ۔ شامیر کے لہجے میں ایک بوج تھا ۔پر بھائی " رُباب باجی" تو ڈاکٹر تھی نہ فر ایک ہی گھر میں دو دو ڈاکٹر کی کیا ضرورت تھی ۔تم ایسے کیوں کہے رہو ہو شامیر جیسے تمھیں پتہ ہی نہیں کی یہ بابا کی خوہش تھی اور تم تو جانتے ہی ہوں نہ ہمارے ...Read More

8

Safar e Raigah - 8

منظر ۔ہسپتال کی اس تھکا دینے والی شفٹ اور دوستوں کے ساتھ ہلکے پھلکے مذاق کے بعد، شاہمیر کا پڑاؤ اس کا اپنا جِم (Gym) تھا۔ یہ جِم صرف اس کا بزنس نہیں تھا، بلکہ یہاں کی خاموشی اور ویٹس (weights) کا شور اسے ذہنی سکون دیتے تھے۔جِم کے اندر داخل ہوتے ہی ہپ ہاپ میوزک کی مدہم آواز اور لوہے کے ٹکرانے کی جانی پہچانی سنسناہٹ نے شاہمیر کا استقبال کیا۔ وہ ابھی اپنی بائیک کی چابی کاؤنٹر پر رکھ ہی رہا تھا کہ سامنے سے صابر آتا دکھائی دیا۔ صابر، جو شاہمیر کا بہترین دوست ہونے کے ...Read More

9

Safar e Raigah - 9

باب ۔کشمیر کی برفیلی اور سرد شام تھی۔ باہر چنار کے درختوں سے پتے گر رہے تھے اور ہواؤں غضب کی خنکی تھی۔ لائبریری کے ایک کونے میں چھوٹی سی انگیٹھی جل رہی تھی، جس کی آنچ پر چائے کی کیتلی رکھی ہوئی تھی۔آیت اپنے ہاتھ میں ایک پرانی، دھول سے اٹ پٹی کتاب لیے اسے صاف کر رہی تھی کہ تبھی مبشرہ وہاں آئی۔ آیت کو یوں گمسم دیکھ کر مبشرہ نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔مبشرہ: "آیت! اتنی سردی ہے اور تم اب بھی ان پرانی کتابوں اور سیاہی کی مہک میں کھوئی ہوئی ...Read More

10

Safar e Raigah - 10

منظر ۔سلطان مرزا کے اس ایک فیصلے نے گھر کی فضا کو جیسے ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا۔ جو اب تک اس گمان میں تھا کہ اس کی پھپھو اس کے اور ہانیہ کے رشتے کی بات کر رہی ہیں، اس وقت سکتے میں آ گیا جب سلطان مرزا نے صاف لفظوں میں آیات اور راویل کے نکاح کا اعلان کر دیا۔ وہ رشتہ جو ہانیہ کے لیے سمجھا جا رہا تھا، وہ دراصل آیات کے نصیب میں لکھا جا چکا تھا۔ سلطان مرزا کا فیصلہ آخری تھا، جسے ٹالنے کی جرات اس گھر میں کسی میں نہیں ...Read More

11

Safar e Raigah - 11

منظر ۔ہائے اللہ تمہاری تمہارے پھوپھو کے بیٹے سے شادی ہونے والی تھی جلدی جلدی بولو آیت مُجھسے اب نہیں جا رہا ۔ مبشرہ نے آیت کی بات بیچ میں ہی روک کر کہا.پھر راویل نے بابا سے کہ دیا کے اُسّے یہ شادی نہیں کرنی اور پھوپھو اور راويل واپس جرمنی چلے گئے ۔ہانیہ کو لگا میں قصوروار ہو تو وہ بھی مُجھسے نفرت کرنے لگی ۔ بابا کا روئیہ اور خراب ہو گیا میرے لیے ۔ پھر ایک دن بابا نے مجھ پر بہت غصہ کیا ۔ میں اُس دِن جب لائبریری گئی تھی تک ہے مجھے ...Read More

12

Safar e Raigah - 12

سلطان مرزا کے دل میں غصے کی آگ اتنی گہری اور تیز تھی کہ وہ خود اپنے ہاتھوں کو کے معاملے میں گندا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کی انا اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ خود ایک معمولی لڑکی کے سامنے جائیں۔ انہوں نے بڑی چالاکی سے ایک ایسے شخص کو چننے کا فیصلہ کیا جسے آیت بچپن سے جانتی ہو، تاکہ اس کے اندر کے سکون کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔انہوں نے اپنی پرانی ساکھ، رعب اور خوف کا استعمال کرتے ہوئے 'فرحان' نام کے اس شخص کو ڈھونڈ نکالا، جو کبھی ان ...Read More

13

Safar e Raigah - 13

باب۔اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب شاہمیر اپنی تمام تر تیاریاں مکمل کر کے، ہسپتال کی مصروف کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کشمیر کے سفر پر روانہ ہو گیا۔جہاز کی کھڑکی سے جب اس نے پہلی بار نیچے پھیلی کشمیر کی سفید برف پوش وادیوں اور بادلوں کو چھوتے اونچے پہاڑوں کو دیکھا، تو اس کے دل کو ایک عجیب سا قرار ملا۔ سرینگر ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہی ٹھنڈی اور خنک ہوا نے اس کا استقبال کیا، جس میں مٹی اور چنار کے پتوں کی ایک سحر انگیز مہک رچی ہوئی تھی۔ ہسپتال کے وارڈز کی وہ ...Read More

14

Safar e Raigah - 14

منظر ۔۔شاہمیر کے ان آخری الفاظ نے جیسے وقت کو وہیں روک دیا تھا۔ آیت نے چونک کر اسے اس کی آنکھوں میں ایک اقرار تھا اور ہونٹوں پر ایک ہلکی، تقریبا نہ دکھنے والی مسکراہٹ۔ لائبریری کی اس پرانی، کتابوں سے مہکتی فضا میں ان دونوں کے درمیان ایک ان دیکھا رشتہ استوار ہو چکا تھا۔اسی پال لائبریری کے کلاک نے ہلکی سی آواز کے ساتھ وقت بدلنے کا اعلان کیا۔ آیت نے گھڑی کی طرف دیکھا اور پھر ایک گہرا سانس لے کر اپنی کتابیں سمیٹنے لگی۔ خاموشی کو توڑتے ہوئے شاہمیر نے دھیمی آواز میں کہا، ...Read More

15

Safar e Raigah - 15

منظر ۔کیفے کی خاموشی اب بہت بھاری ہو گئی تھی۔ آیات نے اپنی نظریں نیچے کر لی تھیں، جیسے ان پرانی یادوں کو دوبارہ دیکھ رہی ہو جنہیں وہ بھلانا چاہتی تھی۔ یہ آیات کی زندگی کا وہ زخم تھا جو اس نے برسوں سے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا۔ شاہ میر نے دنیا کے ستر (70) ملک دیکھے تھے، مگر آیات نے اپنے ہی گھر میں ایک ایسا سفر کیا تھا جہاں اپنوں کے درمیان رہ کر بھی وہ اجنبی بن گئی تھی۔"شاہ میر، آپ نے کہا تھا نا کہ سفرِ رائگاں کا مطلب راستے کا فضول ...Read More

16

Safar e Raigah - 16

منظر ۔شاہ میر نے آیات کی باتوں میں چھپے اس پرانے درد کو محسوس کیا۔ اس نے دیکھا کہ کی انگلیاں اب بھی ہلکی سی کانپ رہی تھیں، جیسے وہ ان پرانی یادوں کی ٹھنڈ سے اب بھی نکل نہیں پائی تھی۔شاہ میر نے اپنے لہجے میں وہی ٹھہراؤ اور گرمی پیدا کی جو اس نے دنیا کے مشکل ترین سفروں میں سیکھی تھی۔ اس نے نظریں آیات کی آنکھوں میں جمائے رکھتے ہوئے بہت نرم آواز میں کہا"آیات... میری طرف دیکھے شامیر نے اتنے سکون سے کہا کہ آیات نے آہستہ سے سر اٹھایا۔"میں نے ستر ملک دیکھے ...Read More

17

Safar e Raigah - 17

منظر ۔شاہ میر نے آئس کریم کا کپ پکڑا اور اس کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوئے تھوڑا سنجیدہ گیا۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور آیات کی طرف دیکھ کر اپنے سب سے خوفزدہ سفر کا پنہ کھولا۔"آیات... میں نے دنیا کے ستر ملک دیکھے ہیں، مگر سب سے زیادہ ڈر مجھے افغانستان میں لگا تھا،" شاہ میر نے دھیمے سے کہا۔آیات نے آئس کریم کا چمچ روکا اور حیرت سے پوچھا، "افغانستان؟ وہاں تو لوگ کہتے ہیں کہ راستے بہت مشکل ہیں۔ کیا ہوا تھا وہاں؟"شاہ میر نے آئینے کی طرح اپنے ماضی میں دیکھا۔"میں وہاں ...Read More

18

Safar e Raigah - 18

منظر ۔شاہ میر نے محسوس کر لیا تھا کہ آیات کے مزاج کی برہمی ابھی پوری طرح ختم نہیں وہ اب بھی کچھ اکھڑی اکھڑی سی، اپنے چمچ سے آئس کریم کے پگھلتے ہوئے آخری حصے کو پیالے میں گول گول گھما رہی تھی۔اس کے چہرے پر جھوٹی بے رخی دیکھ کر شاہ میر کے لبوں پر ایک دلکش شرارت نے انگڑائی لی۔ اس نے ایک گہرا سانس لیا اور دھیمی، رازدارانہ آواز میں پوچھا:"آیات... ویسے 956 ملین (نو سو چھپن ملین ) کوئی معمولی تعداد نہیں ہوتی۔ اگر میں چاہوں تو اسی پل ایک 'لائیو' ویڈیو آن کر ...Read More

19

Safar e Raigah - 19

منظر ۔آیت نے دھیرے سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی کی نظر مبشرہ پر پڑی، جو پلنگ پر بیٹھی بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی اور چہرے پر فکر کے ساتھ ساتھ تھوڑا غصہ بھی تھا۔ آیت کو دیکھتے ہی مبشرہ نے گہری سانس لی اور شکایتی لہجے میں بولی"آیت! بہت دیر کردی آج تم نے آنے میں؟ کم سے کم ایک کال تو کر دیتی! کہاں تھیں تم اتنی دیر سے؟ میں یہاں کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں!"آیت نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور مسکراتی ہوئی ...Read More